گجرات کے کسان خود کشیاں کیوں کر رہے ہیں؟

گجرات کا کسان
Image caption گجرات میں اچھی فصل کے لیے کسان بارش ہی پر انحصار کرتے ہیں

احمد آباد سے تقریباً 400 کلومیٹر دورگجرات کے سوراشٹر علاقے یعنی جام نگر، جونا گڑھ اور راجکوٹ جیسے اضلاع میں گذشتہ دس سال میں کسانوں کی خود کشیوں کی شرح سب سے زیادہ رہی ہے۔

بھارت کے کئی دیہات کی طرح گجرات کے ان علاقوں میں آبپاشی کے پختہ انتظامات نہیں ہیں اور نہ ہی وہاں نہریں بنائی گئی ہیں، اس لیے اچھی فصل کے لیے کسان بارش پر تکیہ کرتے ہیں۔

کم بارش کی تلافی کے لیے کنواں کھود کر پانی نکالا جا سکتا ہے لیکن اگر سرکاری بجلی کا کنکشن نہ ہو تو یہ کسان کے اخراجات کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔

گجرات: نینو سے کوئی کروڑ پتی، تو کوئی بھوک سے بے حال

سوتراپاڑا گاؤں کے دلیپ بھائی کا کنواں 30 فٹ گہرا ہے، کھیت میں بجلی نہیں آتی تو وہ ڈیزل انجن کے ذریعے پانی نکال کر سینچائی کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’روزانہ تقریباً چھ سو روپے کا ڈیزل لگ جاتا ہے، بجلی کا کنکشن ہوتا تو پورے سال کے پانچ ہزار روپے ہی لگتے، چارسال پہلے درخواست دینے کے بعد بھی اب تک کنکشن ملا نہیں ہے۔‘

سال 2012 میں اچھی بارش نہیں ہوئی اور ایک کے بعد ایک دو مرتبہ فصل خراب ہو جانے پر دلیپ کے والد پر 80 ہزار روپے کا قرض چڑھ گیا تھا، اور ایک دن جب دلیپ صبح اپنے کھیت گئے تو ان کے والد کے جسم کو ایک درخت سے جھولتے پایا۔

قرض کی ہڈی

Image caption دلیپ بھائی کے والد، جنھوں نے قرض کے بوجھ تلے دب کر خود کشی کر لی تھی

اُكابھائی رنمل بھائی 65 سال کے تھے۔ قرض کے بڑھتے بوجھ سے پریشانی اپنے بیٹوں کو نہیں بتاتے تھے۔ ان کی موت کے بعد پولیس نے تفتیش کی اور اپنی رپورٹ میں خود کشی کی وجہ فصل کا خراب ہونا لکھا۔

ایسی وجوہات سے کی گئی خود کشی پر کسی طرح مالی و دیگر امداد دینے کی گجرات حکومت کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔

تاہم حادثے سے ہونے والی موت پر کسان کے خاندان کو ایک لاکھ روپے معاوضہ ملتا ہے۔

میرے گاؤں تو نہیں پہنچی گجرات کی ترقی

دلیپ بھائی پر قرض بھی ہے۔گذشتہ سال فصل کچھ بہتر ہوئی تو وہ کچھ رقم ادا کر پائے۔ پر ابھی بھی بہت قرضہ باقی ہے اور بینک کے نوٹس باقاعدگی سے آتے رہتے ہیںو۔

ان کی امیدیں حکومت سے لگی ہوئی ہیں، وہ کہتے ہیں: ’ہم کیا، ارد گرد کے کتنے ہی گاوؤں میں اس سال بارش نہیں ہوئی، حکومت انھیں قحط سے متاثرہ قرار دے کر اعلان کر دیتی تو کچھ قرض معاف ہو جاتا اور پھر والد صاحب یہ قدم نہ اٹھاتے۔‘

بجلی بہت دیر سے آئی

Image caption گجرات کے کسان دلیپ بھائی پر بھی قرض ہے اور انھیں حکومت سے مدد کی امید ہے

اُكابھائی رنمل بھائی سے ڈیڑھ ماہ پہلے اسی گاؤں کے ایک اور کسان نے درخت پر پھانسی لگا کر اپنی جان لے لی تھی۔

32 سال کے رنجیت سنگھ کی موت کے بعد ان کی بیوی رسیلا پر ایک لاکھ روپے قرض اور دو بچوں کی ذمہ داری تھی۔

دو مرتبہ فصل خراب ہونے کا بوجھ رنجیت برداشت نہیں کر پائے، ان کی موت کے بعد رسیلا نے بینک کا قرض ادا کرنے کے لیے اپنے زیورات فروخت کر دیے۔

اپنے شوہر کو یاد کر رسیلا اداس ہو جاتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ بیوہ پنشن کے لیے درخواست دی ہے لیکن ابھی تک ملنی شروع نہیں ہوئی ہے۔

سب سے بڑی بات یہ ہے کہ والد اور بھائی نے مدد کی تو گذشتہ سال کھیت میں بجلی کا کنکشن لگ گیا۔

گجرات میں سال 2003 سے 2012 کے درمیان کتنے کسانوں نے خود کشی کی ہے، یہ سچائی اعداد و شمار، بیانات اور دعووں کے درمیان کہیں چھپی ہوئی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال کہتے ہیں کہ یہ تعداد 5,874 ہے، لیکن گجرات حکومت یہ تعداد ’ایک‘ بتاتی ہے۔

Image caption رنجیت سنگھ بھی فصل خراب ہونے کا صدمہ برداشت نہیں کر پائے

دراصل اروند کیجریوال کی بیان کردہ تعداد نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو سے لی گئی ہے ۔

گجرات حکومت یہ تو مانتی ہے کہ کسان خود کشیاں کر رہے ہیں، پر دعوٰی کرتی ہے کہ اس کی وجہ زراعت سے منسلک نہیں، بلکہ خاندانی اور دیگر پریشانیاں ہیں۔ یعنی کسانوں کو کھیتی سے متعلق اتنی پریشانیاں نہیں ہے کہ وہ اپنی جان لے لیں۔

اطلاعات تک رسائی کے حق کے تحت کے ذریعہ گجرات حکومت سے خود کشی کے اعداد و شمار مانگنے والے ادولنكاري بھرت سنگھ جھالا کہتے ہیں کہ حکومت غلط کہہ رہی ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ان کی الگ الگ آر ٹی آئی کے جواب میں الگ الگ اعداد و شمار سامنے آتے رہے ہیں، اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ سچائی چھپائی جا رہی ہے۔

گجرات پولیس نے انھیں یہ دس سال کی مدت میں 692 خود کشیوں کی معلومات دیں جن میں سے بھرت سنگھ جھالا نے جب 150 مقدمات میں ایف آئی آر کی کاپی نكلوائی تو معلوم ہوا کہ خود کشی کی وجہ خراب فصل لکھی گئی تھی۔

پر ان کی آر ٹی آئی کے جواب میں جب مرکزی وزارت زراعت نے گجرات حکومت سے اعداد و شمار طلب کیے تو کہا کہ خود کشی کی وجوہات زراعت سے وابستہ نہیں تھیں۔

خود کشی کی وجہ نہیں بتائی

وہیں انھی کی درخواست پر قومی انسانی حقوق کمیشن نے جب وزارت زراعت سے اعداد و شمار طلب کیے تو یہ تعداد 2،492 نکلی۔ اس جواب میں خود کشی کی وجہ کا ذکر نہیں تھا۔

بھرت سنگھ کا اندازہ ہے کہ گجرات میں کسانوں کی خود کشی کے معاملے اس سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’بہت سے معاملات میں خود کشی کی صحیح وجہ درج ہی نہیں کی جاتی، کسان کیڑے مارنے کی دوا پی کر جان دے دیتا ہے، پر لکھ دیا جاتا ہے کہ جراثیم کش دوا چھڑكتے ہوئے حادثے سے موت ہو گئی۔‘

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اعداد و شمار کی یہ ریاضی سمجھنا ضروری کیوں ہے؟

شاید اس لیے کہ گجرات میں اس وقت خود کشیاں کرنے والے کسان کے خاندان کی مدد کے لیے کوئی سرکاری پالیسی نہیں ہے، اور پالیسی بنانے کے لیے پہلے حکومت کو یہ ماننا پڑے گا کہ ریاست میں کھیتی سے متعلق پریشانیوں کی وجہ سے کسان خود کشی کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

اسی بارے میں