لال قلعہ حملہ: حملہ آور کی سزائے موت روک دی گئی

محمد عارف تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 2011 میں سپریم کورٹ نے عارف کی سزا کی توثیق کی

بھارتی سپریم کورٹ نے محمد عارف نامی اس پاکستانی شخص کی سزائے موت روک دی ہے جنھیں دسمبر 2000 میں دہلی کے لال قلعے پر حملہ کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔

ججوں نے ملزم کے وکیل کی اس دلیل کو تسلیم کر لیا کہ اس کیس کا فیصلہ کرنے میں بہت تاخیر ہوئی ہے۔

عارف کو اشفاق عارف کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اور ان کا تعلق لشکرِ طیبہ سے ہے۔ انھیں 2005 میں مجرم قرار دیا گیا تھا اور 2011 میں سپریم کورٹ نے ان کی سزا کی توثیق کی تھی۔

دلی کے لال قلعے پر حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔

عارف کا کیس ان اہم مقدمات میں سے ایک ہے جن میں سپریم کورٹ نے سزائے موت ختم کی ہے، کیونکہ سزائے موت کا سامنا کرنے والوں کی سزا پر طویل عرصے سے عمل درآمد نہیں ہوا تھا۔

فروری میں عدالت نے ان تین افراد کی سزائے موت ختم کر دی تھی جنھیں 1991 میں سابق وزیرِاعظم راجیو گاندھی کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

پیر کو سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ محمد عارف کے کیس کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک بڑا ’آئینی‘ بینچ قائم ہونا چاہیے۔

عارف کو ان کی بیوی رحمانہ کے ساتھ لال قلعہ پر حملے کے چار روز بعد گرفتار کیا گیا تھا اور انھیں قتل، مجرمانہ سازش اور بھارت کے خلاف جنگ کے الزامات کا قصور وار پایا گیا تھا۔ اکتوبر 2005 میں عدالت نے انھیں اور دیگر چھ لوگوں کو مجرم قرار دیا تھا۔ عارف کو سزائے موت سنائی گئی تھی جب کہ باقی لوگوں کو جیل بھیج دیا گیا تھا۔

ستمبر 2007 میں ہائی کورٹ نے ان کی سزا کو برقرار رکھا اور شہادتیں کافی نہ ہونے کی بنیاد پر باقی لوگوں کو رہا کرنے کا حکم دیا۔

2011 میں سپریم کورٹ نے ان کی سزا کی تصدیق کی۔

بھارت میں ایسے معاملات میں شاذ و نادر ہی سزا موت دی جاتی ہے جن میں سزا دینے میں تاخیر ہو۔

اسی بارے میں