چین:بیجنگ میں کھلے عام کھانا پکانے پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ other
Image caption یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ بار بی کیو پر پابندی سے کتنا فرق پڑے گا

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں حکام آلودگی میں اضافے کے خدشے کے تحت سرِ عام کھانا پکانے پر پابندی لگا رہے ہیں۔

چینی اخبار بیجنگر کی ویب سائٹ کے مطابق حکم نامے کے مطابق جمعرات سے بیجنگ میں عوام کو یا تو کھانا گھر کے اندر پکانا ہوگا یا پھر 20 ہزار یوان جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

حکام نے کھانوں کی پکوائی کے علاوہ ان کی کھلے عام تیاری اور فروخت پر بھی پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے جس سے موسمِ گرما میں سڑکوں پر کھانے پینے کی اشیا کے ٹھیلے لگانا بھی ممکن نہ ہوگا۔

بظاہر یہ پابندی شہر میں ہمہ وقت پائی جانے والی آلودہ دھند کی وجہ سے لگائی گئی ہے لیکن یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ بار بی کیو پر پابندی سے کتنا فرق پڑے گا۔

Image caption فروری میں بیجنگ میں آلودگی کی سطح حفاظتی سطح سے 15 گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی

چینی اخبار کی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ یہ ’حکام کی جانب کاروں اور کوئلے کے علاوہ ہر چیز کو آلودگی کے لیے ذمہ دار ٹھہرانے کی مہم کا حصہ ہے۔‘

خیال رہے کہ 2013 میں بھی چینی حکام نے اس قسم کی پابندی لگائی تھی جس دوران پانچ سو سے زیادہ بار بی کیو سٹال ختم کر دیے گئے تھے تاہم بعد میں اس پابندی کو ’بےمعنی‘ قرار دے کر ختم کر دیا گیا تھا۔

چین میں صنعتی ترقی کی وجہ سے آلودگی کے مسئلے میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ فروری 2014 میں بیجنگ میں آلودگی کی سطح حفاظتی سطح سے 15 گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی تھی۔

اسی بارے میں