شمالی افغانستان میں سیلاب، 150 سے زیادہ ہلاک

Image caption بین الاقوامی فلاحی تنظیم سیو دی چلڈرن کے مطابق سیلاب میں چار لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں پچیس ہزار سے زائد بچے ہیں

شمالی افغانستان میں گذشتہ ہفتے کے سیلاب میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ڈیڑھ سو سے زیادہ ہو گئی ہے۔

کچھ علاقوں کا دیگر ملک کے ساتھ رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو گیا ہے اور سڑکوں کے بہہ جانے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

.جوزجان صوبے کے گورنر نے بی بی سی کو بتایا کہ سیلاب کے نتیجے میں مٹی سے بنے مکان گر گئے ہیں اور ہزاروں افراد کمیپوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اُن کے صوبے میں مرنے والوں کی تعداد 70 تک پہنچ گئی ہے۔

ان کے مطابق مرکزی حکومت نے انھیں دس لاکھ افغانی دیے ہیں اور مزید 20 لاکھ کا وعدہ کیا ہے۔

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں حکام کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت سے ملنے والی امداد سست روی کا شکار ہے جبکہ افغانستان میں سیلاب زدگان کی امداد کے لیے ٹی وی پر چندہ جمع کرنے کی مہم بھی جاری ہیں۔

بین الاقوامی فلاحی تنظیم سیو دا چلڈرن کے مطابق سیلاب میں چار لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں 25 ہزار سے زائد بچے ہیں۔

سری پول صوبے سے ممبر پارلیمان سعید انور سادات نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے صوبے کے دو اضلاع سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو گیا ہے اور وہاں مقامی آبادی کو کوئی امداد نہیں پہنچی۔

حالیہ سیلاب کی بہت سے لوگوں کو توقع نہیں تھی اور متعدد خاندان اپنے مکانات کی چھتوں پر محصور ہو کر رہ گئے تھے اور انھیں فوجی ہیلی کاپٹروں کی مدد سے بچایا گیا۔

اسی بارے میں