بھارتی آم کی درآمد پر آج سے یورپی یونین کی پابندی

Image caption بھارت سے دنیا کے کئی ممالک میں آم برآمد کیا جاتا ہے

یورپی یونین نے بھارت کے معروف آم الفونسو اور چار سبزیوں کی درآمد پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پابندی یکم مئی سے نافذالعمل ہے۔

جن سبزیوں پر پابندی عائد کی گئي ہے ان میں بینگن، اروی، ککڑی اور چوچندا شامل ہیں۔

پابندی کے بعد مغربی بھارت میں اس مخصوص قسم کے آم کے تاجروں میں تشویش اور غصہ ہے جبکہ اس سے قبل جب ان بھارتی پھلوں اور سبزیوں پر پابندی کا فیصلہ لیا گیا تھا تو یورپ میں مقیم بھارتی باشندوں اور تاجروں میں بھی غم و غصے کی لہر دیکھی گئی تھی۔

28 ممالک پر مشتمل یورپی یونین کی صحت کے شبعے کی ایک مستقل کمیٹی نے ان بھارتی اشیا پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔

سنہ 2013 میں درآمد پھلوں اور سبزیوں کی 207 کھیپوں کو جراثیم کش مادے سے آلودہ پایا گیا تھا۔ الفونسو کو مقامی زبان میں ہاپس آم بھی کہا جاتا ہے۔

کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس میں پائے جانے والے جراثیم کش مادے سے یورپ کی زراعت اور پیداوار کو خطرہ لاحق ہے۔

دوسری جانب برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ یورپی یونین اور بھارت کے ساتھ بات چیت کررہا ہے تاکہ اس پابندی کو واپس لے لیا جا سکے۔

برطانیہ میں ہر سال بھارت سے ایک کروڑ 60 لاکھ آم درآمد کیا جاتا ہے اور اس کی قیمت 60 لاکھ پاؤنڈ کے قریب ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آم پر عائد پابندی سے چند روز کے اندر ہی تقریباً 100 کروڑ کا نقصان اٹھانا پڑا ہے

الفونسو آم کا کاروبار بنیادی طور سے نوی ممبئی کے واشي علاقے میں قائم زرعی مصنوعات مارکیٹ کمیٹی کے بازار کے ذریعے ہوتا ہے۔

پابندی کے بعد مقامی بازاروں میں آم کی قیمت میں اچانک گراوٹ آئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق کسان اور ایکسپورٹروں کوگذشتہ چند روز کے دوران ہی تقریباً 100 کروڑ روپے کا خسارہ اٹھانا پڑا ہے۔

یورپی یونین کی جانب سے عائد یہ پابندی یکم مئی یعنی جمعرات سے نافذ ہو رہی ہے اور 31 دسمبر 2015 تک جاری رہے گي۔

نوی ممبئی زراعت مصنوعات بازار کمیٹی کے منتظم اور عام تاجر سنجے پانسرے نے کہا کہ ’آم کے کاشت کاروں کو پہلے سے ہی کئی قسم کے بحرانوں کا سامنا تھا۔ اس سال درجہ حرارت میں اچانک اضافے سے پھل درخت پر ہی پکنے لگے تو کسانوں نے سارے کے سارے پھل یہاں بھیج دیے جس کی وجہ سے قیمتیں بری طرح گر گئی ہيں۔ گذشتہ دو دن میں ہی آموں سے بھرے ہزار ٹرک بازار میں پہنچے ہیں۔‘

پانسرے کہتے ہیں کہ یہاں سے ہر سال تقریباً 100 کروڑ روپے کا آم یورپی ممالک کو برآمد ہوتا ہے: ’لیکن اس سال یہ مال برآمد نہیں کیا جا سکے گا اور ہمیں بہت نقصان اٹھانا پڑے گا۔‘

یورپی یونین کی پابندی کے بعد تاجروں نے دبئی کی جانب اپنی توجہ مبذول کی تھی لیکن وہاں سے بھی مایوسی ہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس آم کی مشرق وسطیٰ کے علاوہ سنگاپور میں بھی بہت مانگ ہے۔

یورپی یونین کی پابندی کے بعد تقریباً 40 فیصد آم اب دبئی اور دیگر ایشیائی ممالک کے لیے روانہ کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں