کشمیر: چغل خوری کی نئی سیاست

Image caption ۔۔۔ کشمیر میں انتخابات کے دو مرحلوں کے دوران کل ملا کر 25 فیصد ووٹنگ ہوئی

بھارت میں عام انتخابات کے دوران کشمیر میں سیاسی نظریات کے بل پر ووٹ نہیں مانگے جاتے، بلکہ سیاسی حریف ایک دوسرے کو’بھارتی ایجنٹ‘ قرار دیتے ہیں اور ان کی مبینہ کشمیرکشی کا ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں۔

چونکہ انتخابات میں حصہ لینے والے تمام سیاسی رہنماؤں کو’سوشل سینکٹٹی‘ یعنی سماجی اعتبار حاصل نہیں ہے اور ان کی آپس میں تو تو میں میں سے عام ووٹر لاتعلق رہتا ہے۔

پھر فوج یا پولیس کے مظالم ابھی تاریخ نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ حالات کے یہی پہلو کشمیر میں اس بار کے انتخابی بائیکاٹ کا بنیادی سبب معلوم ہوتے ہیں۔

دراصل انتخابات یہاں کی سیاست کو دو بڑے خانوں میں بانٹتے ہیں۔ ایک طرف علیحدگی پسندوں کا خیمہ ہے جو بھارتی آئین یا فوجی نگرانی میں منعقدہ الیکشن کو محض ایک زبردستی عمل سمجھتا ہے۔ دوسری طرف بھارتی کانگریس یا بی جے پی کے اعلانیہ یا خفیہ اتحادیوں کا گروہ ہے جو کشمیر کے اقتدار کی دوڑ میں مصروف ہے۔

اس گروہ میں نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی سرفہرست ہیں۔ انھیں عام طور پر ہندنواز سمجھا جاتا ہے۔ اس قبیل کے گروپوں یا رہنماؤں کے لیے مقامی میڈیا نے’مین سٹریم‘ کی اصطلاح وضع کی ہے۔ علیحدگی پسند بھی اب ہندنوازوں کو ’مین سٹریم‘ ہی کہتے ہیں۔

Image caption کشمیر میں 75 فیصد درج ووٹروں نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا

کشمیر میں فوج، پولیس اور سراغرسانی کے حیران کن نیٹ ورک کی موجودگی اور عسکریت پسندی کے تقریباً خاتمے کے باوجود یہ سیاسی ’مین سٹریم‘ ابھی بھی ہندنواز سیاسی لہجے کی متحمل نہیں ہو پاتی۔

اس طبقے کے سیاستدان لوگوں سے یہ نہیں کہتے کہ بھارت ایک اُبھرتی فوجی اور معاشی طاقت ہے یا وہاں پاکستان سے زیادہ مسلمان آباد ہیں یا یہ کہ ترقی کے وسیع مواقع صرف بھارت کے ساتھ سیاسی مستقبل وابستہ کرنے سے ہی حاصل ہو سکتے ہیں۔

ہندنوازی کو سینہ بہ سینہ نظریے تک محدود رکھنے کی آخر وجہ کیا ہے؟

دراصل یہاں کے سماجی شعور میں دہائیوں سے پنپنے والے بھارت مخالف جذبات نے الیکشن سیاست کو غیر معتبر بنا کر رکھ دیا ہے۔ گذشتہ 24 سالہ شورش کے دوران فوج اور پولیس کی عوام کش سرگرمیوں اور انصاف کی ایک بھی مثال رقم نہ ہونے سے ان جذبات کو تقویت ہی ملی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کشمیری ہندنوازوں نے بھارتی آئین کی حدود میں رہتے ہوئے نرم لہجے والی علیحدگی پسندی کا غیرمتنازع نظریہ متعارف کرایا ہے۔

یہ لوگ مسئلہ کشمیر کو حل طلب اور اپنے مخصوص سیاسی نظریے کو اس مسئلے کا حل سمجھتے ہیں۔ پاک بھارت دوستی بھی اس مطالبے کا حصہ ہے۔ مثلاً نیشنل کانفرنس جموں کشمیر کے لیے آئینی خود مختاری چاہتی ہے۔ اس کا مطلب ہے دفاع، مواصلات اور معیشت کے بغیر تمام امور پر کشمیر کا مکمل اختیار ہونا چاہیے۔ این سی کا یہ مطالبہ یہاں خودمختاری کے طور پر جانا جاتا ہے۔ دوسری طرف مفتی سعید کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ہے جس کا سیاسی موقف خودمختاری کا ہی چربہ ہے، لیکن وہ لائن آف کنٹرول کے آر پار سیاسی انقلاب کے خواہاں ہیں۔

Image caption دوسری طرف بھارتی کانگریس یا بی جے پی کے اعلانیہ یا خفیہ اتحادیوں کا گروہ ہے جو کشمیر کے اقتدار کی دوڑ میں مصروف ہے

دونوں گروہوں کا ایک باقاعدہ سیاسی موقف ہے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ اس بار ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں نیشنل کانفرنس نے خودمختاری کا نام تک نہ لیا اور مفتی محمد سعید نے تو اپنے ’سیلف رول‘ یا خودحکمرانی کے فلسفے کی طرف علامتی اشارہ بھی نہیں کیا۔

ان رہنماؤں کی سیاسی مہمات ایک دوسرے کو زیادہ سے زیادہ کشمیر دشمن ثابت کرنے میں صرف ہوئیں۔ عبداللہ خانوادے کے رہنما تو مفتی سعید کو بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کی پیداوار اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما نریندر مودی کا طفیلی قرار دے رہے ہیں۔ اس کے جواب میں مفتی سعید کہتے ہیں کہ فاروق عبداللہ اور ان کے فرزند عمرعبداللہ نے اقتدار کی بقا کے لیے کشمیریوں کے سبھی قدرتی وسائل کا سودا کیا ہے۔ مفتی سعید بھی عبداللہ خانوادے کو بھارتیہ جنتا پارٹی کا دیرینہ اتحادی سمجھتے ہیں۔

دلچسپ بات ہے کہ سیاسی معاملات کی بجائے چغل خوری کے اس سیاسی رجحان سے یہاں کی تحریک آزادی کو ازخود فائدہ ہو رہا ہے۔ وادی میں انتخابات کے دو مرحلوں کے دوران کل ملا کر 25 فیصد ووٹنگ ہوئی۔ اس طرح 75 فیصد درج ووٹروں نے یہاں کی ’مین سٹریم سیاست‘ یا سیاست کے مرکزی دھارے کو مسترد کر دیا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ بائیکاٹ سیاست کی بڑھتی مقبولیت یا افادیت کو دیکھتے ہوئے کیا ہندنواز حلقے دوبارہ اپنے سیاسی نظریات کی طرف رجوع کریں گے، یا ہندنوازی کا کوئی نیا ورژن ایجاد کیا جائے گا؟

اسی بارے میں