پرینکا گاندھی کانگریس کا نیا چہرہ؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لوگوں کا خیال ہے کہ پرینکا گاندھی میں اندرا گاندھی کی جھلک نظر آتی ہے، بالوں کے سٹائل سے لے کر بات کرنے کے انداز تک

جیسے جیسے انڈیا میں انتخابی مہم اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے، یہ تاثر مضبوط ہوتا جارہا ہے کہ اگر فیصلہ کانگریس کے رہنماؤں اور ورکروں پر چھوڑ دیا جائے تو وہ پارٹی کی قیادت راہل گاندھی کے مقابلے پرینکا گاندھی کے سپرد کرنا زیادہ پسند کریں گے۔

بس کھل کر کوئی کانگریسی یہ بات نہیں کہتا۔

جب بھی یہ سوال کانگریس کے سینیئر رہنماؤں سے کیا جاتا ہے تو لفظوں کا انتخاب چاہے مختلف ہو، جواب ایک ہی ہوتا ہے: ’کانگریس راہل گاندھی کی قیادت میں الیکشن لڑ رہی ہے اور پارٹی کی سرگرمیوں میں زیادہ بڑا کردار ادا کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ خود پرینکا گاندھی ہی کے ہاتھ میں ہے۔۔۔ بلا شبہ وہ سحرانگیز شخصیت کی مالک ہیں لیکن فی الحال وہ رائے بریلی میں سونیاگاندھی اور امیٹھی میں راہل کی انتخابی مہم سنبھالنے تک ہی اپنا کردار محدود رکھنا چاہتی ہیں۔‘

یہ شاید سب مانتے ہیں پرینکا گاندھی میں اندرا گاندھی کی جھلک نظر آتی ہے، بالوں کے سٹائل سے لے کر بات کرنے کے انداز تک دونوں میں غیر معمولی مماثلت ہے، لیکن شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ راہل کے مقابلے پرینکا بغیر کسی دشواری کے لوگوں سے ’کنکٹ‘ کر پاتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پرینکا گاندھی امیٹھی میں اپنے بھائی کی مہم کی تشہیر کی ذمے دار ہیں

راہل کے بارے میں تاثر یہ ہے کہ وہ ابھی تک اپنا ذہن نہیں بنا پائے ہیں کہ ’فل ٹائم‘ سیاست کرنا چاہتے ہیں یا نہیں، وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں یا نہیں، یا جب وہ یہ کہتے ہیں کہ انھیں کسی عہدے کا لالچ نہیں ہے تو وہ کسی ایسے نظام کی تلاش میں تو نہیں ہیں کہ جس میں کوئی نیا من موہن سنگھ وزیر اعظم ہو اور بالواسطہ طور پر اقتدار کی باگ ڈور ان کے ہاتھوں میں رہے؟

میڈیا میں اور چائے خانوں میں آج کل پرینکا اور راہل گاندھی کا تقریباً روز موازنہ ہو ہو رہا ہے۔ اداریوں، تجزیوں اور تبصروں میں راہل گا ندھی کے اندازِ سیاست کا پوسٹ مارٹم ہوتا ہے اور یہ قیاس آرائی بھی کہ پرینکا گاندھی اگر میدان میں اترتی ہیں تو کیا ہوگا؟ کیا کانگریس میں نئی روح پھونکی جا سکتی ہے؟

اسی ہفتے ایک مضمون میں اندرا گاندھی کے شوہر فیروز گاندھی اور پرینکا کے شوہر رابرٹ واڈرا کا بھی موازنہ کیا گیا۔ مضمون کا محور یہ تھا کہ فیروز گاندھی نے خود جواہر لال نہرو کی حکومت میں بدعنوانی کے الزامات کے خلاف آواز اٹھائی تھی جبکہ اس کے برعکس رابرٹ واڈرا کو خود زمینوں کی خرید و فروخت میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کے الزامات کا سامنا ہے۔

جب سے انگریزی کے ایک اخبار نے یہ خبر شائع کی ہے کہ پرینکا بنارس سے نریندر مودی کے خلاف الیکشن لڑنا چاہتی تھیں، کیونکہ ان کے خیال میں’مودی ملک کے لیے بڑا خطرہ ہیں اور انھیں روکنا ضروری ہے،‘ یہ قیاس آرائی پوری شدت سے جاری ہے کہ الیکشن کے بعد پرینکا پارٹی میں زیادہ بڑا کردار ادا کر سکتی ہیں۔

خود پرینکا کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی ان سے کئی مرتبہ الیکشن لڑنے کے لیے کہہ چکے ہیں، ان کی فیملی اس بات کے خلاف نہیں کہ وہ سرگرم سیاست میں اتریں، لیکن فی الحال وہ اپنی زندگی سے مطمئن ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پرینکا اپنے شوہر اور اپنی والدہ کے ساتھ نظر آ رہی ہیں

کانگریس کے سینیئر رہنماؤں سے اگر آپ ’آف دی ریکارڈ‘ بات کریں تو وہ آپ کو بتائیں گے کہ راہل کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایک ساتھ کئی سمتوں میں بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی جذبات میں بہہ کر ایسا کچھ کر جاتے ہیں جس سے ان کی میچورٹی پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔

مثال کے طور پر وزیر اعظم من موہن سنگھ امریکی صدر براک اوباما سے اہم ملاقات کرنے والے تھے اور دہلی میں راہل گاندھی نے اچانک ایک پریس کانفرنس میں یہ کہہ کر اپنی ہی حکومت کے لیے بحران پیدا کر دیا کہ وفاقی حکومت کا ایک متنازع آرڈیننس پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جانا چاہیے تھا۔

جمعیتِ علمائے ہند کے جنرل سیکریٹری محمود مدنی نے ایک اخبار سے بات کرتے ہوئے کچھ ان الفاظ میں راہل اور پرینکا گاندھی کا موازنہ کیا: ’پرینکا میں راہل کے مقابلے زیادہ صلاحیت ہے، اگر وہ انتخابی مہم میں حصہ لیتیں تو پارٹی کو فائدہ ہوتا۔۔۔میں پرینکاکی تعریف نہیں کر رہا، لیکن جب لوگ کہیں ساتھ بیٹھتے ہیں، چاہے وہ رہنما ہوں یا ورکر، تو یہی کہتے ہیں کہ پرینکا معاملات کو بہتر سمجھتی ہیں، ان کے اندر جد و جہد کرنے کا زیادہ جذبہ ہے، راہل تھوڑا کھنچے کھنچے رہتے ہیں، جیسے بیک فٹ پر ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پرینکا کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال اپنی زندگی سے مطمئن ہیں

اور جب سے پرینکا گاندھی نے وزارت عظمیٰ کے لیے بی جے پی کے امیدوار نریندر مودی کے طنزیہ بیانات کا جواب دینا شروع کیا ہے، اچانک ٹی وی اور اخبارات پر کانگریس کا موقف بھی نظر آنے لگا ہے۔ مودی راہول گاندھی کو ’نمونہ اور شہزادہ‘ کہتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ ’اگر وہ وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں تو اتنی بچگانہ حرکتیں کیوں کرتے ہیں؟‘

جو لوگ نریندر مودی کو پسند نہیں کرتے، وہ خوش ہیں کہ آخر ان کے حملوں کا کوئی جواب دے رہا ہے۔ پرینکا ’بائٹ‘ دینے کا ہنر جانتی ہیں، میڈیا کو اور کیا چاہیے؟

لیکن خود پرینکا کو کیا چاہیے؟ اس کا جواب فی الحال کسی کے پاس نہیں ہے۔

اسی بارے میں