بھارت میں اب تک کے سب سے مہنگے انتخابات

بی جے پی انتخابی ریلی تصویر کے کاپی رائٹ SANJAY GUPTA
Image caption تمام سیاسی جماعتوں کا ملا جلا خرچ 30،000 کروڑ روپے کی حد پار کر جائے گا

بھارت میں پہلے عام انتخابات 1952 میں ہوئے تھے جنہیں کامیابی سے منعقد کرانے میں الیکشن کمیشن نے سرکاری طور پر قریب ساڑھے دس کروڑ روپے خرچ کیے تھے، جبکہ 2014 میں جاری لوک سبھا انتخابات کے انعقاد پر الیکشن کمیشن تقریباً پانچ ہزار کروڑ (50 ارب) روپے خرچ کر رہا ہے۔

تاہم ماہرین کے مطابق 1952 میں ہونے والے پہلے عام انتخابات میں آج کل کی شرحِ تبادلہ کے مطابق تقریباً 350-400 کروڑ روپے خرچ ہوئے تھے۔

انتخابات سے متعلق اخراجات کی نگرانی کرنے والے دو اہم اداروں کے مطابق اس مرتبہ الیکشن کمیشن اور تمام سیاسی جماعتوں کا ملا جلا خرچ 30 ہزار کروڑ روپے کی حد کو پار کر جائے گا۔

سینٹر فار میڈیا سٹڈیز اور ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفرنس کا خیال ہے کہ اس حساب سے موجودہ لوک سبھا انتخابات اب تک کے سب سے مہنگے انتخابات ہو جائیں گے، اور یہ امریکی صدارتی انتخابات کے بعد یہ دنیا کے سب سے مہنگے انتخابات کہلائے جائیں گے۔

آخر کن چیزوں اور اخراجات کی وجہ سے یہ اعداد و شمار آسمان سے باتیں کرتے جا رہے ہیں؟

پانچ قِسم کے اخراجات

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایک بڑا خرچ مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے اشتہارات، تشہیر اور امیدواروں پر کیا جاتا ہے

سب سے پہلا وہ خرچ ہے جو الیکشن کمیشن بوتھ سے لے کر سرکاری افسروں کی تعیناتی اور سیکورٹی فراہم کرنے پر آتا ہے۔

سینٹر فار میڈیا سٹڈیز کے چیئرمین این بھاسکر راؤ کے مطابق: ’اس بار یہ خرچ 5000 سے لے کر 7000 کروڑ روپے تک ہو جائے گا کیونکہ کئی علاقوں میں اضافی سکیورٹی کی ضرورت پڑ رہی ہے۔ یہ صرف لوک سبھا انتخابات کرانے کا خرچ ہے، اسمبلی انتخابات کا نہیں۔‘

انتخابات میں دوسرا سب سے بڑا خرچ ہوتا ہے مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے اشتہارات، تشہیر اور امیدواروں پر کیا جانے والا خرچ۔

تیسرے نمبر پر امیدواروں کی طرف سے کیا جانے والا خرچ ہوتا ہے جو وہ اپنے حلقۂ انتخاب میں کرتے ہیں۔

این بھاسکر راؤ کے مطابق یہ وہی خرچ ہوتا ہے جس پر الیکشن کمیشن نے لگام ڈالنے کی کوشش کی ہے اور فی الحال کوئی بھی امیدوار ایک الیکشن میں 70 لاکھ روپے سے زیادہ کا خرچ نہیں کر سکتا۔

انہوں نے بتایا: ’بھارت میں مشکل یہی ہے کہ اب بھی ’نوٹ دو ووٹ لو‘ کا چلن ہے، یعنی ووٹروں کو پیسہ پہنچانا یا پھر ان کے لیے ضرورت کی چیزیں مہیا کرنا معمول کی بات ہے۔ مزید یہ کہ اس میں بلیک منی کا استعمال اب بھی کیا جا رہا ہے۔‘

میڈیا میں پبلِسٹی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امیدواروں کے پوسٹروں اور میڈیا پبلِسٹی سب سے بڑا خرچ ہے

چوتھا بڑا خرچ میڈیا کے حصے میں آتا ہے اور ماہرین کے مطابق 2014 کے عام انتخابات میں پارٹیوں نے ٹی وی چینلوں، اخبارات اور ریڈیو سٹیشنوں میں اپنے پروپیگنڈے کے لیے جتنا خرچ کیا ہے وہ کم سے کم دو گذشتہ عام انتخابات کے خرچ کے برابر ہے۔

ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفرنس کے سربراہ انل ورما کی رائے ہے کہ میڈیا میں اپنی پبلسٹی کروانے کے لیے سیاسی جماعتیں اور امیدوار کتنا پیسہ لٹاتے ہیں، اس کا حساب شاید ہی کسی کے پاس ہو۔

انھوں نے بتایا: ’کون لوگ کس کی تشہیر کے لیے میڈیا سے لے کر سوشل میڈیا پر کتنے کروڑ خرچ کر رہے ہیں، اس کا کوئی حساب نہیں ہے۔ مثال کے طور پر انتخاب کا اعلان ہونے کے دو ماہ پہلے ہی جماعتوں نے اخبارات میں پورے صفحات کے اشتہار نکالنے شروع کر دیے تھے، اسی سے اندازہ لگا لیجیے کہ ایک اشتہار کی قیمت 20 لاکھ روپے تک ہو سکتی ہے۔‘

این بھاسکر راؤ نے یہ بھی بتایا کہ ان کی تنظیم کے انتخابات سے متعلق تحقیق میں پتہ چلا کہ محض 125 کروڑ روپے تو صرف اوپینین پول (رائے عامہ کا جائزہ) کرانے میں ہی خرچ کر دیے گئے۔

پانچواں خرچ جو بہت اہم بن چکا ہے، وہ ہے کارپوریٹ یا بڑے کاروباری گروپوں کی طرف سے انتخابات میں خرچ کیا جانے والا پیسہ اور وہ اب قابو سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اب تک تقریباً 400 کروڑ روپے صرف ہیلی کاپٹروں پر ہی خرچ کیے جا چکے ہیں

ان گروپوں کے اپنے مقصد ہوتے ہیں۔ اس سال ضابطۂ اخلاق نافذ ہونے کے پہلے ہی کارپوریٹ دنیا ایک ہزار کروڑ روپے خرچ کر چکی تھی۔

دھواں دھار انتخابی مہم

2014 کے عام انتخابات میں صاف دیکھا گیا ہے کہ بڑے سیاستدان اگر دن میں تین ریلیاں کرتے ہیں تو وہ ریلیاں 1000-2000 کلومیٹر تک کے علاقے میں پھیلی ہو سکتی ہیں۔

اس کے لیے تقریباً 400 ذاتی ہیلی کاپٹروں کی خدمات لی جا رہی ہیں اور درجنوں ذاتی طیارے ایک ہوائی پٹی سے دوسری تک کی دوری محض چند گھنٹوں میں ہی پوری کر لیتے ہیں۔

سینٹر فار میڈیا سٹڈیز کی جانب سے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک تقریباً 400 کروڑ روپے تو صرف ہیلی کاپٹروں پر ہی خرچ کیے جا چکے ہیں۔

سینئر صحافی پرنجوئےگہا ٹھاكرتا تو اس بات پر بھی حیران لگے کہ ٹی وی پر ہر منٹ کے بعد آنے والے اشتہارات اور نشریات میں اگر مودی اور راہل گاندھی ہی نظر آتے ہیں تو آخر اتنا پیسہ کہاں سے آیا اور کس نے لگایا۔

انھوں نے کہا: ’الیکشن کمیشن نے امیدواروں پر تو پابندی لگا دی لیکن سیاسی جماعتوں پر پابندی لگانے کی کوئی بات ہی نہیں ہوئی۔ پارٹیوں پر 20،000 روپے سے زیادہ ملنے والا چندہ ہی ظاہر کرنا لازمی ہے، لیکن اگر کوئی شخص یا گروپ 20 بار کسی سیاسی پارٹی کو 19،990 روپے چندہ دیتا رہے تو اس کا کسے پتہ چلے گا۔‘

کارپوریٹ چندہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لوک سبھا انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن تقریباً 5000 کروڑ روپے خرچ کر رہا ہے

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ گذشتہ عام انتخابات میں کارپوریٹ دنیا نے جتنا چندہ سیاسی جماعتوں کو دیا اور جسے انھوں نے الیکشن کمیشن کے سامنے ظاہر کیا، وہ برابری پر تھا۔

این بھاسکر راؤ کے مطابق: ’ہمیں بھی تعجب تھا، لیکن سچ یہی ہے کہ ظاہر کیے گئے چندے میں بڑے بزنس گروپوں نے کانگریس اور بی جے پی کو برابر کے پیسے دیے تھے، یعنی ان کا داؤ دونوں پر ہی رہتا ہے۔‘

اب جب بات دسیوں ہزار کروڑ روپے کی ہو رہی ہے تو ظاہر ہے سیاسی جماعتوں کی امیدیں اور امیدواروں کے حوصلے آسمان کو چھو رہے ہیں۔

انتخابی اخراجات پر نظر رکھنے اور ان کا حساب کتاب رکھنے والے الیکشن کمیشن کے محکمے کے ڈائریکٹر جنرل پی داس کہتے ہیں: ’یہ بات درست ہے کہ سیاسی جماعتوں پر اخراجات کی کوئی پابندی نہیں ہے اور یہ ہونا بھی چاہیے۔ الیکشن کمیشن بھی اور اقدامات کرنے کی کوشش میں ہے۔‘

تاہم اس مسئلے کے کئی اور پہلو بھی ہیں جس کے بارے میں داس کا کہنا ہے: ’الیکٹرانک میڈیا اور انٹرنیٹ پر امیدواروں کے خرچ پر الیکشن کمیشن نظر رکھ رہا ہے۔ چونکہ سیاسی جماعتوں پر ایسی کوئی روک نہیں ہے، اس لیے ان کا مکمل ریکارڈ رکھنا ایک چیلنج ہے۔‘

بھارتی معیشت پر اس کا کتنا اثر پڑتا ہے، یہ بات نتائج آنے اور نئی حکومت کی تشکیل کے بعد ہی صاف ہو سکے گی۔

اسی بارے میں