افغانستان:’ہم متاثرہ علاقے کو اجتماعی قبر بنا دیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اطلاعات کے مطابق مرنے والوں میں بیشتر افراد وہ ہیں جو پہلے گرنے والے تودے میں دبنے والوں کی مدد کے لیے وہاں گئے تھے کہ ایک بڑا تودہ گر گیا

افغانستان کے صوبے بدخشاں کے گورنر نے کہا ہے کہ جمعے کو زمین کے تودے گرنے سے مکانات کئی گز کیچڑ کے نیچے دب گئے ہیں جس کی وجہ سے تلاش اور بچاؤ کا کام جاری نہیں رکھا جا سکتا اور ہم متاثرہ علاقے کو اجتماعی قبر بنا دیں گے۔

اس واقعے میں 2500 افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جار ہا ہے جبکہ اقوامِ متحدہ کے مطابق متاثرے علاقے سے اب تک صرف 350 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہے۔

بدخشاں کے گورنر شاہ ولی اللہ ادیب نے کہا کہ ’مکانات کئی گز کیچڑ میں دب جانے کی وجہ سے ہم تلاش اور بچاؤ کا کام مزید جاری نہیں رکھ سکتے۔‘

انھوں نے کہا:’ہم متاثرین کے لیے دعا کر لیں گے اور جائے وقوعہ کو اجتماعی قبر بنا دیں گے۔‘

سنیچر کو بھی لوگوں نے بیلچوں اور خالی ہاتھوں سے مٹی اور کیچڑ سے زندہ بچ جانے والوں کو ڈھونڈ نکالنے کی کوشش کی لیکن بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لیئون کا کہنا ہے کہ جب دن کے اخر میں لوگوں کو اندازہ ہوا کہ ان کوششیں رائیگاں جا رہی ہیں تو انھوں نے تلاش کا کام ترک کر دیا۔

زندہ بچ جانے افراد کے لیے خیمے ، خوراک اور پانی پہنچایا جا رہا ہے۔ ان افراد نے جمعے کی رات قریبی ٹیلوں پر شدید سردی میں کھلے آسمان تلے گزاری۔

علاقے میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لیئون کا کہنا ہے کہ خیال کیا جاتا ہے کہ جمعے کو مٹی کے دو تودے شدید بارشوں کی وجہ سے گرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بدخشاں افغانستان کا دور افتادہ علاقہ ہے جس کی سرحدیں تاجکستان، چین اور پاکستان سے ملتی ہیں

اطلاعات کے مطابق مرنے والوں میں بیشتر افراد وہ ہیں جو پہلے گرنے والے تودے میں دبنے والوں کی مدد کے لیے وہاں گئے تھے کہ ایک بڑا تودہ گر گیا۔

نامہ نگار ڈیوڈ لائن کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی افغانستان کے بیش تر حصوں میں ان دنوں شدید بارشیں ہو رہی ہیں اور گذشتہ ہفتے سیلاب میں تقریباً 150 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بدخشاں میں رو نما ہونے والا سانحہ کہیں زیادہ تباہ کن محسوس ہوتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مٹی کے تودے گرنے سے ایک ہزار کے لگ بھگ گھر تباہ ہو گئے ہیں۔ جمعہ کو افغانستان میں چھٹی ہوتی ہے اور لوگوں کی اکثریت اپنے گھروں پر رہتی ہے۔

بدخشاں کے پولیس کمانڈر فضل الدین نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ 215 خاندانوں کا ہارگو نامی گاؤں تمام خاندانوں سمیت مٹی کے تودے تلے دب گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بات کے امکانات بہت ہی کم ہیں کہ کیچڑ اور تودوں کے اس انبار کے نیچے سے کسی کو بچایا جا سکے گا۔ اس کی ایک بڑی وجہ علاقے کا دور دراز ہونا اور امدادی مشینری کا دستیاب نہ ہونا ہے۔

بدخشاں افغانستان کا دور افتادہ علاقہ ہے جس کی سرحدیں تاجکستان، چین اور پاکستان سے ملتی ہیں۔

اسی بارے میں