نیلی کا قتِل:30 سال بعد بھی عام لوگ انصاف کے منتظر

عبدالحق تصویر کے کاپی رائٹ AMITABHA BHATTASALI
Image caption اس قتِ عام میں بستوري گاؤں کے عبدالحق کے خاندان کے 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے،

بستوري، بكدوباہابي اور بوربوري کے ہزاروں لوگ 18 فروری، 1983 کی تاریخ کبھی نہیں بھول سکتے۔

اسی دن بستوري گاؤں کے عبدالحق کے خاندان کے 12 افراد ہلاک ہوگئے تھے، جن میں ان کی بیوی، بیٹے، بیٹیاں، چچازاد اور بھتیجی شامل تھے۔

پڑوس کے گاؤں بكدوبا ہابي کے مسلم الدين کا تقریباً پورا خاندان جس میں بیوی، بیٹا اور پانچ سال کی بیٹی شامل تھیں، اس دن ختم ہوگیا تھا۔

اس دن بستوري، بكدوبا، ہابي اور آس پاس کے گاؤں کے قریب 2،600 لوگ تین چار گھنٹوں کے اندر ہی ہلاک ہو گئے تھے۔ کچھ فاصلے پر واقع بوربوري گاؤں میں مرنے والوں کی تعداد تقریباً 550 تھی۔

مرنے والوں کی اتنی بڑی تعداد کی وجہ سے آسام کے موريگاؤ قصبے کا نیلي علاقہ آزادی کے بعد بھارت میں ہونے والے سب سے بڑے قتل عام کا گواہ بنا۔ اور یہ سب اس وقت ہوا جب آسام میں بوڈو تحریک اپنے عروج پر تھی۔

آسام میں پھر نسلی تشدد

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بوربوري میں حملے کا طریقہ بلکل بستوری جیسا تھا

تحریک کی قیادت آل انڈیا آسام سٹوڈنٹس یونین (اسو) کر رہا تھی جس کے رہنماؤں نے بعد میں راجیو گاندھی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے بعد آسام گن پریشد (اےجے پي) کا قیام کیا تھا۔آسام گن پریشد نے 1985 میں ہونے والے انتخابات میں اقتدار بھی حاصل کیا کچھ سال پہلے تک آسام گن پریشد این ڈی اے کا حصہ تھا۔

ہر گھر میں موت

عبدالحق بتاتے ہیں، ’صبح قریب سات بجے سینکڑوں کی تعداد میں قبائلیوں اور مقامی بدمعاشوں نے گھروں میں آگ لگانی شروع کر دی۔وہ مشرق اور مغرب دونوں سمت سے آ رہے تھے۔ تمام گاؤں والے میرے گھر کے پیچھےدھان کے کھیتوں میں جمع ہو گئے۔‘

عبدالحق اپنے گھر کے پیچھے ایک درخت کی سمت اشارہ کیا جو بستوري گاؤں میں ہوئے قتل عام کا خاموش گواہ بنا تھا۔

بستوري کے عبدل سبحان نے کہا ’دور سے ہم نے دیکھا کہ سینکڑوں لوگ ٹرکوں سے اترے، فوری طور پر اپنے منہ ڈھكے اور اس کے بعد فائرنگ شروع ہو گئی، قبائلی تیر کمان لیے ہوئے تھے۔ سب نے اِدھر ادُھر بھاگنا شروع کر دیا زیادہ تر لوگ مغرب میں دریا کی طرف بھاگ رہے تھے۔‘

بوربوري گاؤں میں بچنے والے سب سے بزرگ لوگوں میں سے ایک محمد نور زمان بھوئیاں نے کہا :’ہر شخص بھاگ رہا تھا کسی کو گولی لگ رہی تھی تو کسی کو تیر.کسی کے پاس یہ دیکھنے کا وقت نہیں تھا کہ کون گرا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AMITABHA BHATTASALI
Image caption بوربوري میں حملے کا طریقہ بلکل بستوری جیسا تھا

آسام میں ٹكراے دو تہوار

ان دیہاتوں میں ایسا ایک بھی گھر نہیں ہے جس کے خاندان والے ماں، باپ، بھائی، بہنیں ہلاک نہ ہوئے ہوں۔ وہ لوگ خوش قسمت تھے جو کسی طرح دریا تک پہنچ گئے اور اسے پار کرکے دو تین دن چھپے رہے۔

کچی سڑک پر چلتے ہوئے عبد الحق تقریباً 30 سال کی ایک خاتون، زہرہ خاتون، کے پاس رکے اور ان سے میرا تعارف کروایا۔

گاؤں کے بزرگوں نے بتایا تھا کہ قتل عام کے وقت زہرہ خاتون اتنی چھوٹی تھیں کہ بھاگ ہی نہیں سکتی تھیں لیکن کسی معجزہ سے وہ پانچ دن تک زندہ رہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے والد ان کے زندہ بچنے کے بارے میں انہیں بتایا تھا اور یہ ایک معـجزہ کی طرح ہی لگتا ہے۔

دریا میں 2600 لاشیں

Image caption میں اپنی ماں کے مردہ جسم سے چپکی ہوئی تھی: زہرہ خاتون

زہرہ خاتون نے کہا ’میرے والد نے بتایا کہ جب قتل عام ہوا تب میں صرف چھ ماہ کی تھی۔ جب میری ماں دھان کے کھیتوں کی طرف بھاگ رہی تھی، تو میں ان کی گود میں تھی وہ گريں اور ان کی موت ہو گئی۔ میرے والد کو بھی میرے بارے میں معلوم نہیں تھا، قتل عام کے پانچ دن بعد میں ایک پولیس اہلکار کو ملی، میں اپنی ماں کے مردہ جسم سے چپکی ہوئی تھی۔ پھر مجھے میرے والد کے حوالے کر دیا گیا، جو ایک امدادی کیمپ میں رہ رہے تھے۔‘

بستوري کے عبدل سبحان کہتے ہیں ’کچھ کلومیٹر دور اہم ہائی وے پر نیم فوجی دستے گشت لگا رہے تھے۔ شاید انہوں نے مسلسل جاری گولیوں کی آوازیں سنی اور کچھ دھواں اٹھتا دیکھا، لیکن مقامی پولیس اہلکاروں نے انہیں کہیں اور بھیج دیا۔ بعد میں کچھ خواتین نے ہمت دکھائی اور گشت لگانے والی گاڑیوں کو روک کر نیم فوجی دستوں کو یہاں کے بارے میں بتایا. قریب 11 بجے نیم فوجی دستے پہنچے اور بدمعاشوں پر گولیاں چلانی شروع کیں، لیکن اس وقت تک وہ بھاگنا شروع کر چکے تھے۔‘

آسام میں اجتماعی قبریں

تصویر کے کاپی رائٹ AMITABHA BHATTASALI
Image caption گاؤں کے 1800 لوگوں کے لیے صرف ایک ٹیوب ویل ہے اور سڑکیں کچی ہیں

اس وقت انتخابات میں کچھ ہی وقت بچا تھا اور انتخابی بائیکاٹ کا اعلان کیا جا رہا تھا لیکن ان دیہاتوں کے بنگالی بولنے والے مسلمانوں نے ووٹ دینے کا فیصلہ کیا تھا قتل عام سے دو دن پہلے پولیس نے گاؤں کے بزرگوں کو بلایا تھا اور ایک امن کمیٹی بنائی گئی تھی پولیس اور نیم فوجی دستوں نے لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے گشت لگانی شروع کر دی تھیں۔

قتل عام میں بچنے والے ایک شخص کے مطابق، ’اس دن پولیس اور نیم فوجی دستے کچھ گھنٹے کے لیے غائب ہو گئے تھے‘۔

بستوري کے عبدل سبحان اور بوربوري کے ظہیر رحمان جب تک ہمت کر کے واپس لوٹے تب تک سب کچھ لٹ چکا تھا۔ ان کے گھر منہدم کیے جا چکے تھے اور سکیورٹی فورسز نے جلد بازی میں سینکڑوں لاشوں کو دفن کر دیا تھا۔

نور الامین مجھے بستوري کے باہر ایک کھیت تک لےگے اور کہا، ’وہاں 2،600 لاشیں پڑی تھیں‘۔

سبحان نے کہا، ’اجتماعی قبر سے ہاتھ اور پاؤں باہر نکلتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے بعد میں ہم نے اجتماعی قبر میں لاشوں کو پورے سليقے سے دفن کرنے کا انتظام کیا‘۔

’انصاف کا انتظار‘

Image caption قتلِ عام کے اکتیس سال بعد بھی لوگ انصاف کے منتظر ہیں

قتل عام کے 31 سال بعد بھی کسی بھی گاؤں میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں کوئی یادگار تعمیر نہیں کی جا سکی۔

اس کے بعد سے نیلي ہر انتخاب میں ووٹنگ کرتا رہا ہے

بوربوري کے محمد شفیق اللہ افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’اس عمارت کو دیکھوکبھی وہاں صحت مرکز ہوا کرتا تھا۔ لیکن گزشتہ سال سے وہاں ایک بھی ڈاکٹر نہیں ہے. ہمیں مریضوں کو 8 سے 10 کلومیٹر تک لے کر جانا پڑتا ہے۔گاؤں کے 1800 لوگوں کے لیے صرف ایک ٹیوب ویل ہے اور سڑکیں کچی ہیں‘۔

انہوں نے کہا، ’قتل عام کے کچھ دن بعد ہیلی کاپٹر سے وزیر اعظم اندرا گاندھی اور صدر گیانی ذیل سنگھ نے علاقے کا دورہ کیا اور ہر طرح کی مدد کا وعدہ کیا پھر بھی تین دہائی میں کچھ نہیں ہوا‘۔

بستوري کے مسلم الدين کہتے ہیں، ’ہم لوگوں کو ہر لاش کے لیے 5000 روپے اور ٹین کی نالی دار چادریں ملیں، بس‘۔

شفیق اللہ بتاتے ہیں، اور نوجوانوں کو ہر خاندان میں سے کم سے کم ایک شخصں کو ملازمت کی تلاش میں کیرالہ جانا پڑا کیونکہ وہ لوگ باہر چلے گئے ہیں صرف اسی وجہ سے ہم آپنے خاندان پال پا رہے ہیں‘۔

اور وہ تمام نوجوان کیرالہ سے آسام واپس آئے ہیں صرف اس انتخاب میں ووٹ دینے کے لیے۔

عبدل سبحان کہتے ہیں، ’ہمیں ابھی تک انصاف نہیں ملا ہے‘۔

اسی بارے میں