بھارت کی سب سے پر تشدد ریاست آسام

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جولائی 2012 میں بھی مسلمانوں پر شدید حملے ہوئے تھے جن میں سو سے زیادہ افراد ہلاک اور کئی سو لوگ زخمی ہوئے تھے

بھارتی ریاست آسام میں جمعرات سے جمعہ کی شام تک 24 گھنٹوں میں بوڈو علاقوں کے تین گاؤں میں بوڈو قبائل کے مسلح افراد نے 30 سے زیادہ مسلم دیہی باشندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ ان مین بیشتر خواتین اور بچے تھے۔ اس حملے کے بعد پورے خطے میں خوف وہراس کا عالم ہے اور بعض گاؤں سے مسلمان محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔

بھارتی میڈیا جمعے کی رات اس قتل عام پر خاموش رہا اور قومی ٹیلی ویژن ساری بحث نریندر مودی کے ایک انٹرویو کے ایک حصے کی سنسنر شپ پر مرکوز رہی۔ بیشتر قومی اخبارات میں بھی 30 انسانوں کے قتل کے اس بہیمانہ واقعے کی خبر بہت سرسری طور پر معمولی جرم کے ایک چھوٹے سے واقع کے طور پر شائع کی گئی ہے۔

آسام کے بوڈو قبائل والے چار اضلاع پر مشتمل ان علاقون میں مسلمانوں اور غیر بوڈو آبادی پر یہ اس نوعیت کا پہلا حملہ نہیں ہے۔

جولائی 2012 میں بھی مسلمانوں پر شدید حملے ہوئے تھے جن میں سو سے زیادہ افراد ہلاک اور کئی سو لوگ زخمی ہوئے تھے۔ سیکڑوں مکانوں اور کھیتوں کو جلا دیا گیا تھا۔ کم از کم چار لاکھ مسلمانوں نے اپنے گھر بار چھوڑ کر امدادی کیمپوں میں پناہ لی تھی۔ دو برس گزر جانے کے بعد بھی ان میں سے کم از کم تیس ہزار لوگ اپنے گھروں کو واپس نہیں آ سکے ہیں ۔ ان کی گھر اور زمینیں واپس ملنے کے امکانات ختم ہو چکے ہیں۔

1996 اور 98 میں بھی بوڈو قبائل کے مسلح افراد نے خطے کے غیر بوڈو قبائل کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ کئی لاکھ ق‍بائلی اپنا گھر بار چھوڑ کر یہاں سے چلے گئے۔ ان میں سے بہت سے لوگ واپس نہیں لوٹے۔ ان کی زمینیں اور مکان اور کھیتوں پراب بوڈو قبائل کا قبضہ ہے ۔

گذشتہ دنوں مسلمانوں پر حملہ یہ کہہ کر کیا گیا کہ انہوں نے پارلیمانی انتخابات میں بوڈو امیدوار کو ووٹ نہ دے کر ان کے حریف امیدوار کو ووٹ دیا۔

آسام کی حکومت نے کوکرا جھار، چیرانگ، بکشا اور بوائین گاؤں کو بوڈو لیڈ قرار دیا اور وہاں ایک علاقائی کونسل قائم کر دی ہے۔ بوڈو قبائلی ایک عرصے سے اس خطے میں ایک علیحدہ ریاست کے قیام کے جد وجہد کرتے رہے ہیں اور انہوں نے مسلح شورش میں بھی حصہ لیا۔ مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق ان کی آ بادی 33 فی صد ہے۔ باقی 67 فی صد آبادی غیر بوڈو لوگوں پر مشتمل ہے جن میں 30 فی صد مسلم ہیں ۔ بنگالی اور آسامی بولنے والے یہ مسلمان اس خطے میں مختلف مرحلوں میں اور اکثر آسام ریاست کے وجود میں آنےسے قبل یہاں آکر آباد ہوئے۔ بیشتر مسلمان زراعت سے وابستہ ہیں اور زرعی زمینوں کے مالک ہیں۔

Image caption بنگلہ دیش کی سرحد پر واقع ہونے کے سبب روزی کی تلاش میں بہت سے بنگلہ دیشی بھی غیر قانونی طریقے یہاں آ کر آباد ہوئے ہیں

بنگلہ دیش کی سرحد پر واقع ہونے کے سبب روزی کی تلاش میں بہت سے بنگلہ دیشی بھی غیر قانونی طریقے یہاں آ کر آباد ہوئے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران بی جے پی کے وزارت عظمی کے امیدوار نریندر مودی نے کہا تھا کہ اگر ان کی حکومت بنتی ہے تو وہ صرف ہندو بنگلہ دیشیوں کو رہنے دیں گے لیکن مسلم بنگلہ دیشیوں کو وہ بھارت سے باہر کر دیں گے۔

آسام مختلف قبائل اور نسلی گروپوں کی ریاست ہے اور ہر بڑا گروپ ایک علیحدہ ریاست یا ایک علاقائی کونسل کی تخلیق چاہتا ہے۔ اس وقت ریاست میں بوڈو سمیت تین علاقائی کونسلیں اور 24 مقامی کونسلیں ہیں جو نسلی اور قبائلی بنیاد پر تشکیل دی گئی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان علاقوں میں بہت سے نسلی گروپ سیاسی اعتبار سے طاقتور ہوئے ہیں اور اکثر وہ اپنی برادری کو اپنے پیچھے یکجا کرنے کے لیے دوسری برادریوں کے بارے میں یہ بھرم پیدا کرتے ہیں وہ ان کی زمینوں کو غصب کر رہے ہیں۔ دلچپسپ بات یہ ہے کہ یہ وہ علاقے ہیں جہاں آبادی بہت کم ہے اور زمین و جنگلات کی بہتات ہے۔ لیکن سیاسی طاقت کے حصول کی جنونی خواہش نے بھارت کی اس انتہائی خوبصورت ریاست کو انتہائی پر تشدد خطے میں تبدیل کر دیا ہے۔

اسی بارے میں