بھارت: پٹاخہ فیکٹری میں آتشزدگی، 15 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اجین ضلع ہیڈ کوارٹر سے تقریبا 60 کلومیٹر کے فاصلے پر بڑنگر تحصیل کے لوہانا کیسور روڈ پر یہ پٹاخہ فیکٹری واقع ہے

بھارت کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش کے اجین میں ایک پٹاخہ فیکٹری میں آگ لگنے سے کم از کم 15 لوگ مارے گئے ہیں جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مرنے والوں میں ایک بچہ اور 12 خواتین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس حادثے میں پانچ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنھیں ضلع ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ زخمیوں میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

اجین رینج کے آئی جی وی کمار کے مطابق: ’حادثے میں ابھی تک 15 لوگوں کے مارے جانے کی خبر ہے جن میں 12 خواتین شامل ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ فی الحال ضلع کے کلکٹر اور ایس پی سمیت دیگر عہدیدار جائے حادثہ پر پہنچ چکے ہیں اور امدادی کام جاری ہے۔

اجین ضلع ہیڈ کوارٹر سے تقریبا 60 کلومیٹر کے فاصلے پر بڑنگر تحصیل کے لوہانا کیسور روڈ پر یہ پٹاخہ فیکٹری واقع ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق سنیچر کے روز دوپہر کے وقت فیکٹری میں معمول کا کام جاری تھا اسی وقت اس میں آگ لگ گئی۔

جس وقت فیکٹری میں آگ لگی اس وقت فیکٹری میں تقریبا دو درجن لوگ کام کر رہے تھے۔ ضلع کے ایس پی نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

Image caption بھارت میں پٹاخہ فیکٹریوں میں حفاظتی اقدامات عام طور پر سخت نہیں ہیں

آگ لگنے کی وجوہات کا پتہ نہیں چل پایا ہے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر جو معلومات ملی ہیں اس میں کہا جا رہا ہے کہ کام کرنے والے کسی مزدور کی طرف سے بیڑی پی کر پھینکنے کے بعد بارود میں آگ لگ گئی جس کے بعد پٹاخوں میں دھماکے شروع ہو گئے اور پوری فیکٹری آگ کی زد میں آ گئی۔

اطلاعات کے مطابق بر وقت آگ بجھانے کی کوئی سہولت دستیاب نہیں تھی تاہم خبر پھیلنے کے بعد وہاں آگ بجھانے والی چھ گاڑیاں پہنچی لیکن آگ اتنی خوفناک تھی کہ اس پر مکمل طور پر قابو پانے میں دو گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگ گیا۔

بڑنگر علاقے میں پٹاخوں کی تین فیکٹریاں ہیں اور اس سے پہلے بھی اس علاقے میں پٹاخہ فیکٹریوں میں آتشزدگی کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

اسی بارے میں