بھارت:آندھرا پردیش اور مغربی بنگال میں بھاری ووٹنگ

تصویر کے کاپی رائٹ Amit Kumar
Image caption آندھرا پردیش کے سیماندھرا علاقے سے بھی بھاری پولنگ کی اطلاعات ہیں

بھارت میں پارلیمانی انتخابات کا طویل اور پیچیدہ عمل بالآخر اپنے اختتام کے قریب پہنچ گیا ہے اور پولنگ کے نو میں سے آٹھ مرحلے پایۂ تکمیل کو پہنچ گئے ہیں۔

پارلیمانی انتخابات کے آٹھویں مرحلے میں میں بدھ کو سات ریاستوں کے 64 حلقوں میں ووٹ ڈالے گئے۔

امیٹھی کے حلقے میں زبردست مقابلہ

جن سات ریاستوں میں پولنگ ہوئی ان میں اتر کھنڈ، ہماچل پردیش، بہار، اترپردیش، آندھر پردیش، مغربی بنگال اور جموں و کشمیر شامل ہیں۔ اس مرحلے کے بعد بہار، اترپردیش اور مغربی بنگال کے کچھ علاقوں کے علاوہ باقی ملک میں پولنگ کا عمل مکمل ہوگیا ہے۔

پولنگ کے دوران بہار کے سیتا مڑھی علاقے میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین لوٹنے کی کوشش کو روکنے کے لیے پولیس کو گولی چلانی پڑی جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔

آٹھویں مرحلے کے لیے پولنگ صبح سات بجے شرو‏ع ہوئی اور شام چھ بجے تک جاری رہی۔ اس مرحلے میں نو کروڑ سے زیادہ ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کرنے کے اہل تھے اور سب سے زیادہ پولنگ کی اطلاعات مغربی بنگال سے ہیں۔

حتمی اعداد و شمار کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا ہے لیکن اطلاعات کے مطابق وہاں 80 فیصد سےزیادہ لوگوں نے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔

آندھرا پردیش کے سیماندھرا علاقے سے بھی بھاری پولنگ کی اطلاعات ہیں۔

Image caption آٹھویں مرحلے میں سب سے زیادہ توجہ امیٹھی پر رہی

آٹھویں مرحلے میں سب سے زیادہ توجہ امیٹھی پر رہی جہاں سے کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی، عام آدمی پارٹی کے کمار وشواس اور بی جے پی کی سمرتی ایرانی میدان میں ہیں۔

امیٹھی کے ایک پولنگ بوتھ پر سمرتی ایرانی اور پرینکا گاندھی کی پولیٹیکل سیکریٹری کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد ضلع کے ریٹرننگ افسر نے پرینکا گاندھی کی معاون پریتی سہائے کو امیٹھی سے چلے جانے کا حکم دیا کیونکہ وہ وہاں کی ووٹر نہیں تھیں۔

امیٹھی کی انتخابی مہم ہفتوں سے سرخیوں میں رہی ہے اور اکثر تلخی کا شکار بھی۔ بدھ کو بھی پورے دن انتخابی دھاندلیوں کے الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری رہا۔

آٹھویں مرحلے میں راہول گاندھی کے چچا زاد بھائی اور سنجے گاندھی کے بیٹے ورون گاندھی کے حلقے سلطان پور میں بھی پولنگ ہوئی۔ وہ بی جے پی کے لیڈر ہیں۔

اس کے علاوہ نگاہیں بہار کے حاجی پور حلقے پر بھی ٹکی رہیں جہاں سے سابق وفاقی وزیر رام ولاس پاسوان میدان میں ہیں۔

پاسوان لوک جن شکتی پارٹی کے لیڈر ہیں اور انہوں نے گجرات میں دو ہزار دو کے فسادات کے خلاف اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اٹل بہاری واجپئی کی حکومت سے استعفی دیدیا تھا لیکن دس سال بعد انہوں نے دوبارہ بی جے پی سے اتحاد کر لیا ہے۔

اس کے علاوہ بہار میں سابق وزیرِاعلیٰ لالو پرساد یادو کی اہلیہ اور راشٹریہ جنتا دل کی امیدوار رابڑی دیوی کی بھی انتخابی قسمت کا فیصلہ ہوا۔

بھارتی انتخابات کے نویں اور آخری مرحلے میں 12 مئی کو ووٹ ڈالے جائیں گے جس کے بعد تمام مراحل میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی ایک ساتھ 16 مئی کو ہوگی۔

اسی بارے میں