’اگر رہائی پر اُس نے بندوق اُٹھا لی تو؟‘

Image caption پلوامہ کی شکیلہ نے اپنے بیٹے وسیم صوفی کی تصویر دکھا کر شدید تشویش کا اظہار کیا

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں جنوبی ضلع پلوامہ کے ڈانگرپورہ گاؤں میں واقع دو کمروں والے مکان میں بشیر صوفی، ان کی اہلیہ شکیلہ اور بڑا بیٹا شوکت حیران و پریشان ہیں۔

یہ لوگ اس بات پر حیران ہیں کہ ان کے بیٹے وسیم صوفی کو پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے خطرناک قانون کے تحت بیرون کشمیر جیل کیوں بھیجا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وسیم صوفی ایک منجھا ہوا سنگ باز ہے اور اس نے انتخابات کے دوران علیحدگی پسندوں کی کال پر پتھراؤ کیا۔

لیکن وسیم کی والدہ شکیلہ کہتی ہیں: ’میں نے سُنا ہے کہ اُس نے پولیس افسر کے ساتھ آنکھ ملا کر غصہ دکھایا ہے۔ یہی اُس کا قصور ہے۔ یہ لوگ کشمیریوں کو بندوق اُٹھانے پر مجبور کررہے ہیں۔ میں پوچھتی ہوں اگر وسیم نے واپس آ کر بندوق اُٹھائی تو؟ یہ لوگ تب نہیں سوچیں گے کہ اسے تشدد پر کس نے آمادہ کیا، اُس وقت بھی عتاب کا شکار ہم لوگ ہی ہوں گے۔‘

وسیم اُن سینکڑوں نوجوانوں میں شامل ہے جنھیں انتخابات کے دوران پولیس نے کشمیر کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا ہے۔ پلوامہ کے اعلیٰ پولیس افسر تیجندر سنگھ کہتے ہیں کہ پہلی بار پتھراؤ کرنے والوں کو’کونسلنگ‘ یا سمجھانے بجھانے کے بعد رہا کر دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے: ’وسیم صوفی کے خلاف درجنوں مقدمے ہیں، وہ بے قصور نہیں ہے۔‘

وسیم کے والد بشیر صوفی ڈرائیور ہیں۔ وہ 20 سال سے اپنی گاڑی نہیں خرید سکے۔ یہی وجہ ہے کہ وسیم گیارھویں جماعت میں سکول چھوڑ کر گھر کی مالی ذمہ داریوں میں والد کی مدد کرنے لگے تھے۔ بشیر کہتے ہیں ان کے بیٹے کی عمر 16 سال سے بھی کم ہے لیکن پولیس نے دستاویزی ثبوت مشتہر کرکے دعویٰ کیا ہے کہ وسیم کی عمر 18 سال سے زائد ہے۔

دراصل کشمیر کے مقامی قانون کے مطابق 16 سالہ نوجوان بالغ قرار دیا جاتا ہے اور اسے کسی بھی الزام کے تحت عام جیل میں قید کیا جاسکتا ہے۔ لیکن بھارت بھر میں نافذ قانون کے مطابق 18 سال سے کم عمر کے ملزموں کو بچوں کی اصلاح کے لیے مخصوص جیل ’جوینائل ہوم‘ میں رکھا جاتا ہے۔

پبلک سیفٹی ایکٹ قانون کے خلاف یہاں کئی بار تحریکیں چلائی گئیں اور ایمنسٹی انٹرنیشل نے حکومت کو باقاعدہ خط لکھ کر اس قانون کو ہٹانے کی سفارش کی لیکن یہ قانون بدستور ایک ’عوام کش سیاسی ہتھیار‘ کے طور پر آج بھی نافذ ہے۔

وسیم کی بہن عظمیٰ بشیر کہتی ہیں: ’بچوں کو بڑے مجرموں، سیاسی قیدیوں اور عسکریت پسندوں کے ہمراہ جیل میں رکھا جاتا ہے۔ پوری آبادی کو ستایا جارہا ہے۔ اس سے حالات ٹھیک نہیں بلکہ مزید خراب ہو جائیں گے۔‘

Image caption بارہ مولہ میں انتخابات سے قبل اسلامی سکالر ڈاکٹر غلام قادر لون کو گرفتار کر کے کپواڑہ کی ڈسٹرکٹ جیل میں قید کر لیا گیا

قابل ذکر ہے کہ انتخابات کے دوران پولیس نے اعتراف کیا کہ ایک ہزار سے زائد نوجوانوں کو ’احتیاطی حراست‘ میں لیا گیا ہے۔ لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کے اتحاد کولیشن آف سول سوسائٹی نے انتخابی عمل کو فوجی آپریشن قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دو ہزار سے زائد نوجوانوں کو تھانوں اور جیلوں میں قید کیا گیا ہے۔

ان میں سے متعدد کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیلوں میں بھیجا جا رہا ہے۔ اس قانون کی رو سے عدالتی پیشی کے بغیر کسی بھی کشمیری کو کم از کم دو سال تک قید کیا جاسکتا ہے۔ اکثر ایسے قیدیوں کو کشمیر سے سینکڑوں میل دور بھارتی جیلوں میں رکھا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ اپریل کی 10، 17، 24 اور 30 تاریخ کو بھارتی پارلیمان کے لیے کشمیر کی پانچ نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوئی۔ جموں خطے میں اچھی تعداد میں ووٹ ڈالے گئے، لیکن کشمیر میں علیحدگی پسندوں کی بائیکاٹ کی کال کا خاصا اثر رہا۔

سات مئی کو بھی لداخ اور بارہ مولہ خطوں میں دو نشستوں کے لیے ووٹنگ ہو رہی ہے۔ اس دوران تشدد کی وارداتیں ہوئیں اور مظاہرے کیے گئے۔

انتخابات سے قبل اور ووٹنگ کے دوران اندھا دھند گرفتاریوں پر یہاں کے حساس حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ بارہ مولہ میں انتخابات سے قبل اسلامی سکالر ڈاکٹر غلام قادر لون کو گرفتار کر کے کپواڑہ کی ڈسٹرکٹ جیل میں قید کر لیا گیا۔

Image caption پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت عدالتی پیشی کے بغیر کسی بھی کشمیری کو کم از کم دو سال تک قید کیا جا سکتا ہے

ڈاکٹر لون نے لکھنؤ یونیورسٹی سے عربی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لی ہے اور وہ درجنوں کتابوں کے مصنف ہیں۔ عربی، فارسی اور اُردو شاعری کے نقاد ڈاکٹر لون کی کتاب ’قرون وُسطیٰ کے مسلمان‘ بھارت اور پاکستان میں پڑھی اور سراہی گئی ہے۔

تجزیہ نگار عبدالقیوم کہتے ہیں: ’اگر واقعی حکومت کا نظریہ قیامِ امن ہے تو ان گرفتاریوں سے لگتا ہے کہ حکومت ہی امن کی سب سے بڑی دشمن ثابت ہو رہی ہے۔ یہ بلاجواز گرفتاریاں دراصل تشدد کے نظریہ کو تقویت دیتی ہیں۔‘

اسی بارے میں