مودی اور ’بیف‘ پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ Shilpa Kannan
Image caption بھارت بیف برآمد کرنے والے بڑے ممالک میں سے ایک ہے

صبح کا وقت ہے، ایک کے بعد ایک آتے جاتے شخص کے ہاتھوں میں کھانے کا سامان ہے۔ کچھ کے ہاتھوں میں گڑ کی ڈلیاں تو کچھ کے پاس گھاس ہے، لیکن زیادہ تر روٹیاں لے کر آئے ہیں۔

یہ سارے لوگ جنوبی دہلی کے ایک مندر کے ایک کھلے احاطے میں موجود تقریباً 700 گائیوں کو کھانا کھلانے کے لیے جمع ہیں۔

بہت سے شہروں میں اس طرح کی بہت سی پناہ گاہیں بنی ہوئی ہیں جہاں بوڑھے اور آوارہ جانوروں کو پناہ دی جاتی ہے تاکہ مذہب پسند ہندو انھیں کھانا کھلا سکیں اور ان کی عبادت کر سکیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگوں کے لیے بھارت کا بیف یعنی گائے کا گوشت برآمد کرنے والے ممالک میں معروف ہونا چونکا دینے والی خبر ہے۔

خاتونِ خانہ بیداری چڈھا کئی سالوں سے گائے کی پوجا کے لیے آ رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں: ’میں یہ سن کر حیران رہ گئی ہوں۔‘

گائے یا بھینس

تصویر کے کاپی رائٹ Shilpa Kannan
Image caption بھینس کے گوشت کی مانگ بڑھ رہی ہے کیونکہ یہ گائے کے گوشت سے سستا ہے

وہ کہتی ہیں: ’ہمارا عقیدہ ہے کہ گائے میں ہزاروں دیوی دیوتاؤں کا گھر ہے اس لیے ہم انھیں روزانہ غذا دیتے ہیں۔ ان گائیوں کے وسیلے سے ہمارے بزرگوں کی روحیں ہمیں روحانیت بخشتی ہیں۔ کوئی ان کو مارنے اور ان سے پیسہ کمانے کے بارے میں کس طرح سوچ سکتا ہے؟‘

لیکن جن فیکٹریوں میں برآمد کے لیے گوشت تیار کیا جاتا ہے ان میں گائے کی بجائے زیادہ تر بھینس کے گوشت استعمال ہوتا ہے۔

دنیا کی کل بھینسوں کی آدھی تعداد بھارت میں ہے اور اسی وجہ سے دنیا بھر میں بھینس کے گوشت کی بڑھتی ہوئی مانگ سے بھارت کو بہت فائدہ ہو رہا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر گائے اور بھینس دونوں کے گوشت کو بیف کہتے ہیں۔

دہلی سے کچھ گھنٹے کے فاصلے پر اتر پردیش میں کئی بیف پروسیسنگ پلانٹ لگے ہوئے ہیں۔ من پسند سائزوں میں کٹا ہوا بیف یہیں سے پوری دنیا میں کھانے کی میزوں تک پہنچتا ہے۔

ثاقب ایكسپورٹس نامی کمپنی نے بیف کو حلال معیار یعنی اسلامی قوانین کے مطابق تیار کر کے مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کی منڈیوں میں برآمد میں کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

اربوں کا کاروبار

تصویر کے کاپی رائٹ Shilpa Kannan
Image caption بھارت میں بیف کے تاجر پریشان ہیں کہ اگر بی جے پی اپنی بیف مخالف پالیسی پر ٹکی رہی تو بھارت کی بیف کی صنعت اپنی اہمیت کھو سکتی ہے

بھارت ہر سال 65 سے زیادہ ممالک کو 2.3 ارب ڈالر مالیت کا بھینس کا گوشت فروخت کرتا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ بھینس کے گوشت کی مانگ بڑھ رہی ہے کیونکہ وہ گائے کے گوشت سے سستا ہے۔

ثاقب ایكسپورٹس کے ڈائریکٹر ثاقب اخلاق کہتے ہیں کہ ان کے پاس پہلے سے ہی پانچ پروسیسنگ پلانٹ ہیں اور بھاری مانگ کی وجہ سے وہ دو مزید پلانٹ تیار کروا رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’بھارتی بیف کا معیار بہت اچھا ہوتا ہے۔ یہ برازیل کے بیف جتنا ہی عمدہ ہوتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ جلد ہی ہم اور ممالک کو بھی بیف برآمد کرنا شروع کر سکیں گے۔ ہمیں اس کے بہت اچھے دام مل رہے ہیں۔‘

بیف کی برآمد پر تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ Shilpa Kannan
Image caption بھارت میں حزبِ اختلاف کی اہم سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اپنی تقریروں میں بیف کے کاروبار پر تنقید کر رہے ہیں

لیکن بھارت میں حزبِ اختلاف کی اہم سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اپنی تقریروں میں اس کاروبار پر تنقید کر رہے ہیں۔

بی جے پی کے وزیر اعظم کے عہدے کے دعویدار نریندر مودی چاہتے ہیں کہ بیف کا کاروبار رک جائے۔ اپنی تقریروں میں انھوں نے اسے بھارت کا ’گلابی انقلاب‘ کہا تھا۔

نریندر مودی کے اس بیان سے بیف کے تاجر پریشان ہیں، تاہم وہ عوامی طور پر اس کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے۔

برآمدات کاروبار کے لیے ضروری ہیں، لیکن بھارت میں بھی بھینس کے گوشت کی مانگ بڑھ رہی ہے، خاص کر شہری علاقوں میں اس کی کھپت میں اضافہ ہوا ہے۔

دہلی کے نظام الدین کے علاقے میں کباب کی گلی میں بھینس کے گوشت سے بنا سيخ کباب کھانے کے لیے لوگوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہے۔

غالب کباب شاپ کے محمد شہاب خان کہتے ہیں کہ ’میں یہاں دہائیوں سے کباب بنا رہا ہوں اور سیاح اور مقامی لوگ یہاں اس لیے آتے ہیں کیونکہ ہم سب سے اچھا گوشت استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اب نوجوان آتے ہیں اور بڑے گوشت (بھینس) کے رول اور کباب کے بارے میں پوچھتے ہیں۔‘

چکن اور فش زیادہ مقبول

تصویر کے کاپی رائٹ Shilpa Kannan
Image caption بھارت میں گائے کا گوشت کے حوالے سے سخت قوانین کی وجہ سے گائے کی بجائے بھینس کا گوشت زیادہ فروخت ہوتا ہے

اگرچہ اب بھی چکن اور مچھلی کی کھپت زیادہ ہوتی ہے لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بیف کی مقبولیت بھی بڑھ رہی ہے۔

شہاب خان کی دکان پر پہلی بار کھانا کھانے والے ابھیجیت جگاڑے کہتے ہیں کہ وہ پوری دنیا میں گھومتے رہتے ہیں اور انھوں نے مختلف ممالک میں بیف کے بنے کئی طرح کے پکوان کھائے ہیں: ’مجھے بھارت میں بیف کھانا زیادہ پسند ہے، بس یہ کہ تھوڑی زیادہ صفائی سے بنایا جائے اور بہتر طریقے سے پیش کیا جائے۔‘

ان کی ساتھی ایشوریہ بوڈ كے کہتی ہیں کہ مجھے بیف بہت پسند ہے، یہ بہت مزیدار ہوتا ہے۔ مجھے چکن سے زیادہ ریڈ میٹ پسند ہے لیکن مجھے ہمیشہ ایسی جگہ ڈھونڈنی پڑتی ہے جہاں یہ ملتا ہو کیونکہ بھارت میں یہ آسانی سے دستیاب نہیں ہے۔‘

بھارت میں بیف کے حوالے سے سخت قوانین اور ریستورانوں میں بیف پیش کرنے پر سختی کے باوجود ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ اس کا بازار پر کوئی اثر پڑ رہا ہے۔

لیکن اس بات کی تھوڑی فکر ضرور نظر آرہی ہے کہ اگر بی جے پی اقتدار میں آ گئی تو کیا ہوگا؟ اگر بی جے پی اپنی بیف مخالف پالیسی پر ٹکی رہی ہو تو بھارت کی بیف کی صنعت اہمیت کھو سکتی ہے۔

اسی بارے میں