بھارت: بےیقینی کا ماحول لیکن حکومت سازی کی سرگرمیاں شروع

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انتخابات سے قبل سارے ٹی وی چینلز مودی کی جیت کی پیش گوئیاں کر چکے ہیں، تاہم یہ پیش گوئیاں ماضی میں کئی بار غلط ثابت ہو چکی ہیں

بھارت کے پارلیمانی انتخابات میں مرحلہ وار پولنگ کا سلسلہ پیر کی ووٹنگ کے ساتھ ساتھ اختتام کو پہنچے گا۔ ووٹوں کی گنتی جمعہ یعنی 16 مئی کو ہو گی لیکن نتیجہ آنے سے قبل ہی حکومت سازی کے لیے سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں۔

آخری مرحلے میں سبھی نظریں بنارس پر مرکوز ہیں جہاں سے بی جے پی کے امیدوار نریندر مودی انتخاب لڑ رہے ہیں۔ وہاں سے یوں تو کانگریس، سماج وادی پارٹی اور بی ایس پی کے امیدوار بھی انتخاب میں ہیں لیکن مودی کا اصل مقابلہ بظاہر’ آپ‘ پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال سے ہے۔ کیجریوال نے جس طرح دلی میں وزیر اعلیٰ شیلا دیکشت کو شکست دی تھی کیا وہ اسی طرح کا سیاسی دھچکا بنارس میں دے سکیں گے؟

اس کے بارے میں تو جمعے کو ہی معلوم ہو گا لیکن ووٹنگ کے اس مرحلے پر سخت مقابلے کی خبریں مل رہی ہیں۔

ووٹنگ مکمل ہوتے ہی شام چھ بجے سے ملک کے سرکردہ نیوز چینلز ایگزٹ پولز کے نتیجے دینا شروع کر دیں گے۔ ٹی وی چینلوں نے ایگزٹ پولز کوبھی انتخاب کے نتیجے جیسا بنا رکھا ہے اور مختلف چینلوں کے درمیان ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی دوڑ لگی ہو ئی ہے۔

بھارت کا حصص بازار بھی پوری طرح تیار ہے۔ بازار کے تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایگزٹ پولز نے مودی کی حکومت بننے کی پیش گوئی کی تو کل کا بازار اپنے سبھی ریکارڈ تو ڑ دے گا۔ گذشتہ دنوں مودی کی جیت کی امید میں بازار پہلے ہی ریکارڈ بلندی پر جا چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایگزٹ پولز نے مودی کی حکومت بننے کی پیش گوئی کی تو کل کا بازار اپنے سبھی ریکارڈ تو ڑ دے گا

وزیر اعظم من موہن سنگھ نے اپنی سرکاری رہائش گاہ سے اپنا سامان سمیٹنا شروع کر دیا ہے۔ وہ تمام تحفے اور تحائف جو انھیں وزیر اعظم کے طور پر غیر ملکی شخصیات اور سربراہان حکومت اور سفیروں نے دیے تھے، انھوں نے حکومت ہند کو سونپ دیے ہیں۔ انھیں موجودہ رہائش گاہ سے کچھ ہی دوری پر ایک سرکاری بنگلہ الاٹ کیا گیا ہے، جہاں تیزی سے کام چل رہا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق وہ نتیجے سے ایک روز پہلے یعنی جمعرات ہی کو اپنی نئی رہائش گاہ پر منتقل ہو جائیں گے۔

کانگریس کے سینیئر رہنماؤں کی ایک میٹنگ پیر کی شام ہو رہی ہے۔ نتیجے کے بعد کی حکمت عملی پر غور کرنے کی لیے ایک باضابطہ میٹنگ منگل یا اس کے بعد طلب کی جائے گی۔

اس دوران بی جے پی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی نے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت سے طویل ملاقات کی ہے۔ بی جے پی کے صدر راج ناتھ سنگھ نے بھی آر ایس ایس کے اعلی رہنماؤں سے تبادلۂ خیال کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق آرایس ایس نے بی جے پی سے کہا ہے کہ وہ ان کانگریس مخالف جماعتوں سے بات چیت شروع کر دیں جو ابھی تک بی جے پی کے اتحاد میں شامل نہیں ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق ان ملاقاتوں میں ممکنہ وزرا کے ناموں پر بھی صلاح و مشورہ ہوا ہے۔

سماج وادی پارٹی کے رہنما ملائم سنگھ یادو اعظم گڑھ سے انتخاب لڑ رہے ہیں جہاں پیر کو ووٹنگ ہو رہی ہے ۔ ملائم سنگھ یادو، مایاوتی، ممتا بینرجی، جیہ للتا اور نتیش کمار کسی اتحاد میں شامل نہیں ہیں۔ اگر مودی کو حکومت سازی کے لیے مطلوبہ 272 سیٹیں نہ ملیں تو انھیں نئے اتحادی تلاش کرنے ہوگے اور یہ نئے اتحادی انھیں جماعتوں میں سے نکالنے ہوں گے جو ایک بڑا چیلنج ہو گا۔

فی ا لحال ساری نگاہیں آج شام کے ایگزٹ پولز کے نتائج پر مرکوز ہیں۔ انتخابات سے قبل سارے ٹی وی چینل مودی کی جیت کی پیش گوئیاں کر چکے ہیں۔ ماضی میں ان چینلوں کی پیش گوئیاں اور ایگزٹ پولز کے نتائج کئی بار غلط ثابت ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں