افغانستان:’زلمے رسول عبداللہ عبداللہ کے حامی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زلمے رسول پہلے مرحلے میں اہم امیدوار تھے تاہم انھیں غیرمتوقع طور پر کم ووٹ ملے

افغانستان میں صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں ناکام ہونے والے اہم امیدوار زلمے رسول نے دوسرے اور حتمی مرحلے میں سابق وزیرِ خارجہ عبداللہ عبداللہ کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

زلمے رسول کو ملک کے موجودہ صدر حامد کرزئی کی حمایت حاصل تھی لیکن وہ پہلے مرحلے میں صرف 11 فیصد ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے تھے۔

زلمے کی جانب سے پہلے مرحلے میں سرفہرست رہنے والے عبداللہ عبداللہ کی حمایت کا اعلان ان کے ترجمان جاوید فیصل نے اتوار کو پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

افغانستان میں 5 اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق پہلے مرحلے میں کوئی بھی امیدوار 50 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔

اب آئندہ ماہ ہونے والے دوسرے مرحلے میں تقریباً 45 فیصد ووٹ لینے والے عبداللہ عبداللہ کا مقابلہ عالمی بینک کے سابق ماہر معاشیات اشرف غنی سے ہوگا جو ساڑھے 31 فیصد ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے تھے۔

زلمے رسول کی جانب سے عبداللہ عبداللہ کی حمایت کے اعلان کو ان کی صدارتی مہم کے لیے بڑا سہارا قرار دیا جا رہا ہے۔

عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی میں سے جو بھی نیا صدر منتخب ہو گا وہ ملک کے موجودہ صدر حامد کرزئی کی جگہ لے گا جو کہ ملک میں طالبان کے خلاف غیرملکی افواج کی آمد کے بعد سے اب تک اس عہدے پر فائز رہنے والی واحد شخصیت ہیں۔

عبداللہ عبداللہ سنہ 2009 کے انتخاب میں صدر کرزئی کے خلاف ایک اہم امیدوار تھے اور انتخابات میں واضح برتری حاصل نہ ہونے کے باعث الیکشن کمیشن نے حامد کرزئی اور عبداللہ عبدللہ کو دوسرے مرحلے کے صدارتی انتحابات کے لیے اہل قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں