کون ہیں یہ لوگ ’جاسوس‘ یا ’سمگلر‘

سنیل تصویر کے کاپی رائٹ SALMAN RAVI
Image caption سنیل کا کہنا ہے وہ پاکستان کی جیلوں میں دس سال کی سزا کاٹ چکے ہیں

جاسوسی کی بات ہوتی ہے تو اکثر ہم برطانوی جاسوس’جیمز بانڈ‘ کی فلموں کی طرح جاسوسوں کی زندگی، رہن سہن اور محبت کی کہانیوں کا تصور کرتے ہیں۔

مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی اصل میں جاسوسوں کی زندگی اتنی ہی سنسنی خیز ہے جتنا فلموں میں دکھائی جاتی ہے؟

بھارت کے صوبہ پنجاب کے ایک گاؤں میں رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ گورداس پور ضلعے کے ڈاڈوا گاؤں کے لوگوں کا دعوٰی ہے کہ وہ سب کے سب جاسوس ہیں۔ اسے جاسوسوں کے گاؤں کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

یہاں کے باشندوں کا دعوٰی ہے کہ انھوں نے پاکستان جا کر اپنے ملک کے لیے جاسوسی کی تھی، لیکن ان کے پاس اس بات کے ثبوت نہیں ہیں۔ تاہم ان کے پاس جو دستاویزات ہیں وہ پاکستان کی عدالتوں کی ہیں، جہاں ان پر جاسوسی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان لوگوں نے کئی سال پاکستان کی جیلوں میں کاٹے ہیں، جہاں انھیں جاسوسی کے الزام میں مارا پیٹا گیا اور اذیتیں دی گئیں۔

پاکستان کی جیلوں سے رہائی کے بعد ان کی واپسی تو ہوئی لیکن ان میں سے کچھ لوگ شدید بیمار ہیں۔

جاسوس نہیں سمگلر

تصویر کے کاپی رائٹ SALMAN RAVI
Image caption یہ ایک سرحدی گاؤں ہے اور اسے جاسوسوں کا گاؤں کہا جاتا ہے

دھاریوال سے دس کلو میٹر دور اس گاؤں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں سے بہت سے لوگ سرحد پار کر کے جاسوسی کرنے کے لیے پاکستان جاتے ہیں۔

یوں تو دھاریوال اپنے آپ میں ایک چھوٹا سا قصبہ ہے اور ڈاڈوا ایک گاؤں ہے، جس کی حالت دوسرے دیہات سے کچھ اس طرح بہتر ہے کہ یہاں پکے مکان بنے ہوئے ہیں۔

یہاں آنے والے ہر شخص کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔اگر کوئی انجان یہاں نظر آئے، تو سب کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں۔

گاؤں کے ہی رہنے والے ایک باشندے کا کہنا تھا کہ یہاں کی ہر سرگرمی پر سب کی نظر ہے. کس کی نظر ہے؟ یہ کوئی نہیں بتاتا ہے۔

یہاں لوگوں کو دیکھ کر سمجھ میں آتا ہے کہ ان کے اندر جاسوسی کے خصوصیات پہلے سے ہی موجود ہیں۔

یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سرحدی علاقہ ہے؟ کچھ تو ضرور ہے جو اس علاقے کو اور جگہوں سے مختلف بناتا ہے۔

تاہم حکومت ان کے دعووں کو مسترد کرتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ لوگ جاسوس نہیں بلکہ’ اسمگلر‘ ہیں، جو سرحد پار شراب فروخت کرنےجایا کرتے تھے۔اسی دوران انھہیں پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں نے گرفتار کیا اور ان پر جاسوسی کا الزام لگایا گیا۔

پاکستان کی جیلوں میں

تصویر کے کاپی رائٹ SALMAN RAVI
Image caption ڈینیل نے پاکستان کی پانچ جیلوں میں چار سال گزارے ہیں

میری ملاقات ڈینیل سے ہوئی جو پاس ہی کھانے کی چیزوں کے ایک گودام میں مزدوری کر رہے تھے۔ ڈینیل کا دعوی ہے کہ وہ پاکستان کی سیالکوٹ، راولپنڈی، لاہور، ملتان اور گوجرانوالہ کی جیلوں میں چار سال سزا کاٹ کر بھارت واپس آئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے سزا معاف کرنے کے بعد انھیں جیل سے رہا کیا گیا۔

وہ کہتے ہیں، ’وہاں سے مجھے سمجھوتہ ایکسپریس میں بٹھا دیا گیا جب میں اٹاری پہنچا تو پھر گرفتار کر لیا گیا، پھر دو ماہ تک میں امرتسر کی جیل میں بند رہا‘۔

ڈینیل کا دعوی ہے کہ وہ پاكستان جاسوسی کرنے گئے تھے ان کا کہنا ہے کہ انھیں وہاں نقشے، ٹرین کا ٹائم ٹیبل اور تصاویر لانے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

مگر سرکاری ذرائع نے ڈینیل کے دعووں کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ اب انٹرنیٹ کے زمانے میں ان کاموں کے لیے کسی آدمی کو سرحد پار بھیجنا بے معنی اور بے وقوفی ہے۔

ڈاڈوا میں سنیل کا گھر بھی ہے جو گزشتہ سال اکتوبر میں پاکستان کی جیل سے رہا ہو کر واپس آئے ہیں سنیل کے ساتھ پاکستان کی جیلوں میں ہوئے مبینہ مظالم کی وجہ سے ان کی طبیعت اب خراب ہی رہتی ہے۔

وہ ان کا کہنا ہے کہ وہ بستر پر پڑے - پڑے اب اپنے خاندان کے لوگوں پر گویا بوجھ بن گئے ہیں۔

انھوں نے اپنے دونوں ہاتھ دکھائے، جہاں ان کی کلائی کے نیچے نشان بنے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ: ’یہ نشان دیکھ رہے ہیں آپ؟ یہ کرنٹ لگانے کے نشان ہیں جب مجھے پکڑا گیا تو وہاں کافی اذیتیں دی گئیں میرا دائیں ہاتھ اب کام نہیں کرتا‘۔

دشوار زندگی

تصویر کے کاپی رائٹ SALMAN RAVI
Image caption حکومت انہیں جاسوس ماننے سے انکار کرتی ہے حکومت کا کہنا ہے کہ یہ جاسوس نہیں سمگلر ہیں

سنیل نے دو الگ - الگ بار پاکستان کی جیلوں میں دس سال سے بھی زيادہ کی سزا کاٹی ہے۔

سنیل کا کہنا ہے کہ سال 2011 میں جب وہ دوسری بار پاکستان گئے تو بیمار پڑ گئے۔ انھوں نے کہا،’میرے منہ سے کافی خون نکلنے لگا اور وہاں بھیڑ جمع ہو گئی تب میں نے لوگوں کو بتایا کہ میں ہندوستان کے سرحدی گاؤں کا رہنے والا ہوں اور بیماری کی وجہ سے غلطی سے سرحد پار کر آیا ہوں‘۔

’میں پھر پکڑا گیا اور پھر مجھے چھ ماہ کی قید کی سزا سنائی گئی۔‘

(ڈیوڈ کہتے ہیں کہ چاہے حکومت جاسوس نہ مانے، لیکن ایک شہری کے ناطے ہی مدد دے دے)

سنیل کی سزا تھی تو چھ ماہ کی، مگر انھیں رہا ہوتے ہوتے ڈھائی سال لگ گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جیلوں میں رہتے ہوئے ہی ان کی طبیعت کافی خراب رہی كھاسنے پر ان کے منہ سے خون آتا ہے انھیں اندیشہ ہے کہ انھیں تپ دق (ٹی بی) ہو گئی ہے۔

اب ان کے علاج میں کافی خرچ آتا ہے۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ چونکہ انھوں نے حکومت کے لیے کام کیا تھا اس لیے ان کو علاج اور پیٹ بھر کھانے کے لیے سرکاری مدد ملنی چاہئے۔ مگر اس بات کا ان کے پاس بھی کوئی ثبوت نہیں ہے کہ انھیں جاسوسی کے لیے بھیجا گیا تھا۔

اسی محلے میں ڈیوڈ بھی رہتے ہیں جو اب لاٹھی کے سہارے بمشکل چل پاتے ہیں. ان کی کہانی بھی باقی لوگوں جیسی ہی ہے وہ بھی اب بیمار رہتے ہیں۔

ڈیوڈ کا کہنا ہے حکومت اب ان سے اپنا پلہ جھاڑ رہی ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر انھیں جاسوس نہ بھی تسلیم کیا جائے، انسانیت کے ناطے حکومت ان کی مدد تو کر سکتی ہے۔

اسی بارے میں