پاکستان کا فیصلہ افسوسناک ہے: بھارت

سرحد تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان کے ساتھ تعلقات بھارت میں نئی حکومت کا ایک اہم ایجنڈہ ہوگا

بھارت نے پاکستان میں مامور بھارت کے دو صحافیوں کو ملک سے نکال دینے کے حکومتِ پاکستان کے فیصلے کو افسوسناک قرار دیا ہے۔

وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صحافیوں کی موجودگی اعتماد سازی کا حصہ ہے اور اس کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان اکبرالدین نے کہا کہ ’پاکستان میں مامور دو بھارتی نامہ نگاروں کا اچانک اور مستقل اخراج افسوس ناک ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ بھارت اور پاکستان نے ہمیشہ اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ معلومات کی آزادانہ ترسیل اور ان تک رسائی اعتماد سازی کا ایک اہم حصہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’آزاد صحافیوں کو کام کرنے کی اجازت نہ دینا اس تصور کے منافی ہے۔‘

اکبرالدین نے کہا کہ ایک دوسرے کے ملکوں میں صحافیوں کی تعیناتی اور اطلاعات کی آزادانہ ترسیل اعتماد سازی کا بہت اہم پہلو ہے اور دونوں ملکوں کو اس کا تحفظ کرنا چاہیے۔

اس سے قبل حکومت پاکستان نے دارالحکومت اسلام آباد میں مامور روزنامہ ہندو کی نامہ نگار مینا مینن اور خبر ایجنسی پی ٹی آئی کے نمائندے سنیش فلپ کو 20 مئی تک ملک چھورنے کا حکم دیا تھا۔

حکام نے دونوں صحافیوں کو بتایا کہ ان کے ویزے کی تجدید نہیں کی جا رہی اور انھیں 20 مئی تک ملک چھوڑ دینا ہوگا۔ بھارتی صحافیوں کو ملک سے نکالنے کا کوئی سبب نہیں بتایا گیا ہے۔

اکبرالدین سے جب پوچھا گیا کہ بھارتی صحافیوں کے اخراج کا کوئی تعلق پاکستان میں میڈیا کی آزادی کے سوال پر جاری بحث سے تو نہیں ہے، تو انھوں نے جواب دیا کہ ’مجھے اس بات پر حیرت ہوئی ہے کہ پاکستان میں میڈیا کی آزادی پر بحث کے دوران بہت سے الزاما ت بھارت پر بھی لگائے گئے ہیں۔‘

دونوں بھارتی صحافیوں کو ایک ایسے وقت میں پاکستان سے نکالا گیا ہے جب بھارت میں پارلیمانی انتخابات کے بعد جمعے کو ایک نئی حکومت تشکیل پانے والی ہے اور پاکستان سے تعلقات نئی حکومت کا اہم ایجنڈا ہوگا۔

اسی بارے میں