’سبھی دہشت گرد مسلمان ہیں‘

گری راج سنگھ تصویر کے کاپی رائٹ pti
Image caption گری راج پر اس سے پہلے بھی ایک انتخابی ریلی میں اشتعال انگیز تقریر کرنے کا الزام ہے

بھارت میں پارلمیانی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی سے دوروز قبل بی جے پی کے ایک سینیئر رہنماگری راج سنگھ کے اس بیان سے ایک نیا تنازع اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ بھارت میں دہشت گردی میں صرف مسلمان ملوث ہیں۔

کئی سیاسی جماعتوں نے ان کے بیان کی مذمت کی ہے۔

بہار کے نواڈا حلقے سے بی جے پی کے امیدوار گری راج سنگھ نے ایک تقریب کے دوران کہا: ’کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ جتنے دہشت گرد گرفتار کیے جاتے ہیں وہ سبھی مسلمان ہیں؟ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ سبھی مسلمان دہشت گرد ہیں، لیکن جو بھی دہشت گردی میں ملوث پایا جاتا ہے وہ مسلم برادری کا ہی ہوتا ہے۔‘

گری راج سنگھ نے اس سے قبل انتخابی مہم کے دوران بیان دیا تھا کہ جو مودی کو روکنے کی کوشش کرے، اسے پاکستان بھیج دیا جائے۔ پولیس نے ان کے خلاف تین مقدمات درج کیے ہیں۔

اپنے نئے متنازع بیان میں بی جے پی کے رہنما نے کہا کہ ’پاکستان مودی کو اقتدار میں نہیں آنے دینا چاہتا۔‘ انھوں نے مسلمانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’کچھ لوگ پاکستان پرست ہیں، پاکستان دہشت گردوں کا مکہ مدینہ ہے۔‘

گری راج سنگھ نے کہا کہ اگر دہشت گردی کا سوال برادری سے نہیں ملک سے وابستہ ہے تو پھر سیکولر جماعتیں اور اس وقت خاموش کیوں رہتی ہیں جب سبھی گرفتار کیے جانے والے دہشت گرد مسلمان ہوتے ہیں؟

انھوں نے کہا کہ ’یہ جعلی سیکیولرزم ہے، اور ووٹ بینک کی سیاست کے لیے ایک برادری کی پشت پناہی کی کھلی مثال ہے۔ یہ ذہنیت ملک کے لیے خطرناک ہے۔‘

کانگریس کے ترجمان راشد علوی نے گری راج سنگھ کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’دہشت گردی کو مذہب کے خانے میں نہیں تقسیم کیا جا سکتا۔ بی جے پی ملک کو تباہ کرنا چاہتی ہے۔‘

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے رہنما طارق انورنے گری راج سنگھ سے جاننا چاہا کہ دہشت گردی کے معاملے میں گرفتار کی گئی خاتون سادھوی پرگیہ سنگھ کیا مسلمان ہیں؟

انھوں نے کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں ملک کے مختلف علاقوں میں سرگرم انتہا پسند ماؤنوازوں کا تعلق بھی مسلم برادری سے نہیں ہے۔

بہار کی حکمراں جماعت جے ڈی یو کے رہنما اور رکن پارلیمان انور علی نے گری راج سنگھ کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ بیان پورے سنگھ پریوار کی ذہنیت کا عکاس ہے: ’گری راج اپنی بات کہہ دیتے ہیں، جبکہ بی جے پی اور آر ایس ایس والے اسی مذہبی نفرت میں یقین رکھتے ہیں لیکن کھل کر کہتے نہیں۔‘

گری راج سنگھ نے اپنے بیان کا دفاع کیا ہے جبکہ بی جے پی نے ان کے بیان پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ گذشتہ چند مہینوں میں بہار کے کئی مسلمان نوجوانوں کو دہشت گردی کے مختلف معاملات کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران پٹنہ میں نریندر مودی کے ایک جلسے میں بھی بم دھماکہ ہوا تھا اور اس واقعے کے سلسلے میں بعض مسلمان نوجوانوں کو گرفتار کیاگیا تھا۔

اسی بارے میں