’دل مانگے مور‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یہ تو بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی کا ایک حصہ تھا کہ مودی چائے والے ہیں

اگر ہم نریندر مودی کی انتخابی مہم کو دیکھیں تو محسوس ہوگا کہ ایک ہی پارٹی مخلوط حکومت کی تشکیل کے لیے لڑ رہی تھی۔ مودی کی زبردست انتظامی صلاحیت، ان کا حوصلہ اور ان کی حکمت عملی سب کچھ اس میں شامل تھا۔ جن چار پانچ ریاستوں میں بی جے پی کا ڈھانچہ موجود ہے وہاں پارٹی نے اس کو اپنا ذریعہ بنایا اور جم کر محنت کی اور اپنے امیدواروں کو ہمت اور حوصلہ بخشا۔

گزشتہ تین چار برسوں سے ملک میں ایک قسم کی غیر یقینی کی صورت حال تھی اور لوگوں کو لگتا تھا کہ موجودہ حکومت کمزور ہے۔ مہنگائی اور پھر نوجوانوں کا کھل کر بی جے پی کے ساتھ آنا، یہی وہ چیزیں ہیں جن سے مودی کو کامیابی ملی۔

اگر غور سے دیکھیں تو نریندر مودی کی اس جیت میں یو پی اے حکومت کی بھی کامیابی کا کردار بھی نظر آتا ہے کیونکہ یو پی اے کے خواندگی پروگرام، ہائر ایجوکیشن اور آر ٹی آئی ( معلومات کا حق) جیسی چیزوں کے بعد لوگوں کی امیدیں اور بڑھ گئی تھیں۔ لیکن اس کے باوجود کچھ نہیں ہو پا رہا تھا۔ نریندر مودی نے خود کہا تھا کہ ’یہ دل مانگے مور۔‘ ان کو محسوس ہوا کہ وہ لوگوں کی امیدیں پوری کرنے کی قوت رکھتے ہیں۔

اتر پردیش فیكٹر

اگر آپ گزشتہ 15 سال کی ریاست اتر پردیش پر نظر ڈالیں تو لوگ اسے برا بھُلا کہتے رہے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں یہ ریاست وقت کے جال میں پھنسی ہوئی ہے۔ لیکن اترپردیش نے مسلسل حکومتیں بدلی ہیں اور اس بار زبردست مینڈیٹ بھی دیا ہے۔

آپ مایاوتی کو دیکھیں تو وہ یو پی کی اسمبلی میں 200 سے زیادہ سیٹیں لائیں اور پھر ملائم سنگھ یادو اس سے بھی زیادہ سیٹیں جیت کر لے آئے۔

اتر پردیش بھی کچھ ڈھونڈ رہا ہے۔ وہاں آبادی بہت زیادہ ہے اور کئی سماجی مشکلات ہیں۔ وقت کے ساتھ تبدیلیاں آئی ہیں۔ وہاں ان مسائل کے درمیان مودی لوگوں کو سڑک، بجلی اور پانی کو کامیابی سے فروخت کر پائے۔ ساتھ ہی انہوں نے ہندوتوا کو بھی بڑے طریقے سے استعمال کیا۔ وقت کی نزاکت کے ساتھ انہوں نے ہندوتوا کے کارڈ کو اچھی طرح کھیلا۔

چائے والا بمقابلہ شہزادہ

میری نظر میں یہ انتخابات چائے والا بمقابلہ شہزادہ نہیں تھے۔ اس انتخاب کی اپنی پیچیدگیاں تھیں جو اب بھی برقرار ہیں۔

یہ تو بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی کا ایک حصہ تھا کہ مودی چائے والے ہیں۔ اصل میں وہ تو بہت مؤثر، اہم اور آج کے بھارت میں سب سے زیادہ طاقتور انسان ہیں۔ ایسے میں چائے والا بمقابلہ شہزادہ کے نعرے نے کچھ اثر کیا ہوگا، مجھے نہیں لگتا۔ راہول تو لگتا ہے کہ اپنی سیٹ جیت رہے ہیں۔

لگتا ہے کہ میڈیا کے کچھ حصے نے جیسے خود انتخاب لڑا ہو اور پوری کوشش کی کہ کہیں ان کی ضمانت نہ ضبط ہوجائے۔ خاص طور ٹیلی ویژن نے۔ یعنی اشتہارات اور تجزیوں اور تبصروں کے درمیان جو ضروری فرق ہوتا ہے، وہ اس مرتبہ نظر نہیں آیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption میڈیا کو جو ایک غیر جانبداری کا فاصلہ برقرار رکھنا چاہئے تھا وہ نہیں رہا

یہ سب خاص طور پر اس وقت ہوا جب یہ صاف نظر آ رہا تھا کہ ایک لہر سی چل رہی ہے۔ اب یہ لہر چاہے کسی کی بھی ہو، اندرا گاندھی کی ہو، راہل گاندھی کی ہو یا نریندر مودی کی۔

میڈیا کو جو ایک غیر جانبداری کا فاصلہ برقرار رکھنا چاہیے تھا وہ نہیں رہا۔ انتخابی مہم کے دوران بی جے پی یا مودی کی ریلیوں کو جس طرح نشرکیاگيا اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے۔

تجزیہ کیا ہے، خبر کیا ہے، غلط اطلاعات کیا ہیں اور اشتہارات کیا ہیں اس میں کچھ فرق ہی نہیں رہا۔ یہ تشویش کی بات ہے۔ خیر، آج تو بی جے پی کے لیے جشن کا دن ہے اور ہمیں اس کو سمجھنا چاہیے اور انہیں اس جیت کا کریڈٹ دینا چاہیے۔ مگر میڈیا کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اصل میں ’برانڈ مودی‘ کی بڑی دانشمندی سے مارکیٹنگ کی گئی جو بہت قاعدے سے بنائی گئی چیز ہے۔ اس میں بیرون ملک بسنے والے بھارتی ( این آر آئیز) شامل تھے، اس میں بہت پیسہ لگا اور اس میں انٹرنیٹ سے وابستہ کئی بڑے ادارے جیسے سی اے جی اور انڈیا 272 بھی شامل تھے۔

اس کا خرچ کون اٹھا رہا ہے، یہ لوگ کون ہیں، یہ کہاں سے آئے تھے۔ گجرات ماڈل کی بات ہو، سڑک، بجلی، پانی، مودی کا 56 انچ کا سینہ، یا پھر یہ خبر کہ ڈیڑھ سو برقع والی آ رہی ہیں اور پھر وہ اچانک غائب ہو گئیں۔

تو در اصل یہ بڑے منظم طریقے سے چلائی گئی انتخابی مہم تھی اور ایسی نسل کے لیے جسےخبر ٹی وی سے ہی پہلے ملتی ہے، اس کے لیے تو نریندر مودی ایک سٹار

کے طور پر ابھركر آئے۔

مخلوط سیاست کا خاتمہ ؟

یاد ہو گا 1984 میں آخری بار ایک پارٹی کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تھی، جب راجیو گاندھی کو 415 نشستیں ملی تھیں۔ اب اس کے ٹھیک 30 سال بعد اپوزیشن پارٹی اس طرح کی اکثریت لا رہی ہے۔

ذاتی طور پر میں اسے اچھی بات نہیں سمجھتی۔ مجھے لگتا ہے کہ مخلوط معاشرے میں مخلوط حکومت کی ضرورت ہے۔ لیکن ایک بات اچھی جو من موہن سنگھ کے الفاظ میں یہ ہے کہ ’بھارت میں جمہوریت زندہ ہے اور زندہ و جاوید ہے۔‘

مودی کو درپیش چیلنج

مودی کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ان کی کامیابی اور اس سے پیدا ہونے والی امید ہے۔ ان کی شبیہ ذرا مختلف ہے۔ وہ بہت ہی متنازعہ اور مذہبی خطوط پر تقسیم کرنے والی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

اگر نریندر مودی بین الاقوامی سطح پر اپنا کردار اور اپنا پروفائل بڑھانا چاہتے ہیں تو ان کے اقتدار میں آنے سے جو علامتی خوف پورے بھارت میں پیدا ہوا ہے انہیں اسے سمجھنا اور پھر ختم کرنا پڑے گا۔ اقلیتوں اور دلتوں کے دل میں جو ڈر ہے اس سے وہ کس طرح نمٹتے ہیں، اسی سے ان کی حکومت اور قیادت کی سمت طے ہوگی۔

اسی بارے میں