بھارتی انتخابات: ’عام آدمی‘ کی متوقع ناکامی کے اسباب

اروند کیجریوال تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اروند کیجریوال کے بارے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ ان کی شخصیت اور انداز نے عام آدمی پارٹی کو ’ون مین پارٹی‘ بنا دیا ہے۔

543 میں سے 407 نشستوں پر امیدوار کھڑے کرنے اور سو نشستوں پر یقینی فتح کی توقع کے ساتھ الیکشن میں حصہ لینے والی ’عام آدمی پارٹی‘ اب تک کی صورتِ حال کے مطابق صرف پانچ نشستوں پر ذکر میں ہے۔

ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان پانچ پر بھی عام آدمی پارٹی کے امیدوار کامیاب ہو سکیں گے یا نہیں، لیکن وہ ان پر پہلی یا دوسری پوزیشن میں ہیں۔

عام آدمی پارٹی کے لیڈر اروند کیجریوال ہیں۔ مبصرین کے مطابق ان کی شخصیت اور انداز نے عام آدمی پارٹی کو ’ون مین پارٹی‘ بنا دیا ہے۔ ان کے علاوہ پارٹی میں کوئی اور دکھائی ہی نہیں دیتا۔

اروند کیجریوال سب سے پہلے انسدادِ بد عنوانی کی مہم چلانے والے انا ہزارے کے ساتھ 2011 میں لوگوں کے نظروں میں آئے۔ وہ سابق بیوروکریٹ ہیں۔ ان کے اور انا ہزارے کے راستے اس وقت جدا ہو گئے جب انھوں نے سیاسی پارٹی بنانے اور انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔

اس کے بعد انھیں سب سے زیادہ توجہ اُس وقت حاصل ہوئی جب ان کی عام آدمی پارٹی (آپ) نے دہلی کی ریاستی اسمبلی میں 28 نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی۔

ان نشستوں نے انھیں دہلی کا وزیرِ اعلیٰ بھی بنا دیا لیکن 49ویں ہی دن وہ ’انسدادِ بدعنوانی بل‘ کے معاملے پر ہونے والے تنازعے کے باعث مستعفی ہو گئے۔

ان عام انتخابات میں وہ دہلی میں اپنی فتح کو ملک گیر بنانا چاہتے تھے اور بنارس میں صرف بی جے پی ہی کے نہیں، ان انتخابات کے مرکزی اور متنازع ترین تصور کیے جانے والے نریندر مودی کے مقابل تھے۔

یوں تو ان کا موقف بہت صاف اور سیدھا تھا کہ ہندوستان کی تمام پرانی پارٹیوں نے ہندوستان کے سرمایہ دار طبقے کی ملی بھگت سے ایک نیا حکمراں طبقہ بنا لیا ہے جس کی وجہ سے کوئی ایسی تبدیلی نہیں آتی جو عام آدمی کے حق میں ہو۔ اسی لیے وہ بی جے پی کے مودی اور کانگریس کے راہل گاندھی میں کوئی فرق نہیں کرتے۔

ان کا کہنا تھا کہ کرپشن خیال کے برعکس صرف شہری علاقوں کے محدود طبقے کا مسئلہ نہیں بلکہ ہندوستان کے تمام مسائل کی جڑ ہے۔

کیجریوال کا کہنا تھا کہ اگر سیاسی کرپشن پر قابو نہ پایا گیا تو ہندوستان کی بقا ہی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

انھوں نے یہ اعلان کیا کہ وہ وزیراعظم بننا نہیں چاہتے۔ انھوں خود کو ’ایک انتشار پسند یا انارکسٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد صرف اس نظام کو جھنجوڑنا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ان کے انھی خیالات نے ان کے حامیوں میں صرف بحث مباحثے ہی کو جنم نہیں دیا، بلکہ انھیں تقسیم بھی کر دیا۔

انتِخابات سے پہلے ہی کہا جانے لگا تھا کہ دہلی میں ان کی مقبولیت کم ہو گئی ہے، اب اتنی بھیڑ ان کے ساتھ نظر نہیں آتی جتنی دسمبر میں دہلی کے اسمبلی انتخابات میں ان کے ساتھ دکھائی دیتی تھی۔ اسی کامیابی سے انھوں نے بڑے بڑے سیاسی پنڈتوں کو خاموش کرا دیا تھا۔

لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ’بہت سے پڑھے لکھے لوگ ان کے انداز اور غیر روایتی طریقوں سے اتفاق نہیں کرتے تھے کہ وہ وزیر اعلیٰ بھی رہیں اور دھرنوں پر بھی بیٹھیں۔‘

پھر بھی یہ تاثر رہا کہ ان کی مقبولیت متوسط طبقے میں کم ہوئی ہے، لیکن غریبوں میں نہیں جو اب بھی ان کے ساتھ ہیں۔

کیجریوال اور ان کی پارٹی کو تھرڈ آپشن یعنی نہ کانگریس، نہ بی جے پی کے طور پر بھی دیکھا گیا۔

یہ لگنے لگا کہ مہنگائی سے پریشان اور بدعنوانی کاخاتمہ چاہنے والوں نے ان کی اس بات کو مان لیا ہے کہ کانگریس اور بی جے پی دونوں ’چور‘ ہیں اور ’کانگریس اور بی جے پی کو بہت موقع دیا جا چکا، اب کیجریوال کو آزمانا چاہیے۔‘

لیکن ایسے تجزیہ نگار بھی تھے جو عام انتخابات کے بارے میں کیجریوال اور اے اے پی کے فیصلوں کو درست نہیں سمجھ رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف ایک سال پرانی پارٹی کو پورے ملک کے انتخابات میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس غلطی کا خمیازہ انھیں دہلی میں بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے کیونکہ نہ تو ان کے اتنے وسائل ہیں اور نہ ہی اتنے ورکر کہ سب جگہ مضبوطی سے الیکشن لڑا جا سکے۔۔۔ انھیں صرف تیس چالیس منتخب سیٹیوں پر الیکشن لڑنا چاہیے۔‘

بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ان تجزیہ کاروں کے رائے درست تھی لیکن ابھی اس رائے کا دوسرا حصہ باقی ہے، یعنی کیا اس کا اثر دہلی میں بھی عام آدمی پارٹی کی حیثیت پر پڑے گا یا نہیں؟ اور یہ بھی کہ کیا کیجریوال ایک انتشار پسند کے طور پر نظام کو جھجوڑنے میں کامیاب ہوئے یا نہیں؟

اسی بارے میں