کانگریس کا زوال یا اختتام

راہول گاندھی تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کیا راہول گاندھی کو اب کنارے لگ جانا چاہیے؟

بی جے پی کی فتح پر تجزیہ کاروں کے قلم اُس پرانی اور بڑی سیاسی جماعت کی تعزیتں لکھنے پر رواں ہیں جس نے آزادی کے بعد کے عرصے میں سب سے زیادہ مدت بھارت پر حکومت کی ہے لیکن جو کچھ بھی کانگریس کے بارے میں لکھا جا رہا ہے اُس میں زیادہ تر قبل از وقت ہے۔

یہ پہلی بار نہیں کہ کانگریس کے زوال اور ختم ہونے کے بارے میں لکھا جا رہا ہو اور پہلے بھی ایسی تحریریں ردی کی ٹوکریوں کی نظر ہو چکی ہیں۔

اس سے پہلے کانگریس کم از کم دو بار مردہ قرار دی جا چکی ہے۔ پہلی بار یہ موت تب سامنے آئی تھی جب وزیراعظم اندرا گاندھی کو دو سال تک ایمرجنسی لگانے کے بعد وزارتِ عظمیٰ کا دفتر خالی کرنا پڑا تھا لیکن تین سال بعد ہی کانگریس 70 فی صد نششتیں لے کر واپس اقتدار میں آ گئی۔ اور تب تک یہ کانگریس کی سب سے بڑی انتخابی کامیابی تھی۔

کانگریس کی دوسری موت کا اعلان 1999 میں اس وقت ہوا جب کانگریس کے مقتول وزیراعظم راجیو گاندھی کی بیوہ سونیا گاندھی نے ہچکچاتے ہوئے قیادت کی باگ ڈور سنبھالی۔

اسی سال ہونے والے انتخابات میں پارٹی کو بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا اور 543 کے ایوان میں کانگریس کو صرف 114 نششتیں ہی مل سکیں۔ لیکن 2004 نے زوال کا رخ عروج کی طرف موڑ دیا اور کانگریس نے ایک نہیں دو مدتوں کے لیے مسلسل کامیابی حاصل کی۔

اس میں تو کوئی شک نہیں حالیہ انتخابات میں کانگریس اپنے زوال کی اُس سطح پر جا گری ہے جو اس سے پہلے اُسے کبھی نہیں دیکھنا پڑا تھا لیکن پھر بھی اُسے ملنے والے ووٹوں کو غیر اہم نہیں کہا جا سکتا۔

کانگریس کو 20 فی صد سے بھی کم ووٹ ملے ہیں۔ پارٹی اپنے وفادار ووٹ بنک کو بھی برقرار نہیں رکھ سکی۔ ہر چند کہ اسے مستقل قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن یہ ایک بڑا اور خوفناک دھچکا ضرور ہے۔

ہر چند کہ ذرائع ابلاغ کی نظریں ابھی ایوان زیریں یعنی لوک سبھا پر ہی ہیں لیکن بھارت کا نظام دو ایوانی ہے۔ ایوان بالا یا راجیہ سبھا کے ارکان کا انتخاب بالراست اور ہر چھ سال بعد ہوتا ہے۔

بی جے پی نے ایوان زیریں میں اپنی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کی ہے لیکن ایوان بالا میں اس کے صرف 46 ارکان ہیں جب کہ کانگریس کے ارکان کی تعداد 68 ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ 240 کے ایوان میں بی جے پی کو اتحادی تلاش کرنے پڑیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ 2015 کے اختتام پر جب 23 نششتوں کے لیے انتخاب ہوں تو صورتِ حال کچھ بدل جائے۔

ایک اور اہم بات یہ بھی ہے کہ اقتدار کی طاقت دہلی سے ریاستی دارالحکومتوں کی جانب سرک رہی ہے اور 29 میں سے 11 صوبائی حکومتیں کانگریس کے ہاتھ میں ہیں جب کہ دو ریاستوں میں وہ اتحادی ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ مجموعی طور پر ابھی خاصی طاقت کانگریس کے ہاتھ میں ہے۔

وزرائے اعلیٰ سے قطع نظر ریاستی اسمبلیوں میں اراکین کی 27 فیصد تعداد کا تعلق کانگریس سے ہے جب کہ 21 فیصد کا بی جے پی سے۔ حالیہ انتخابات کے اثرات کے نتیجے میں کانگریس کا اثر چار ریاستوں میں اور کچھ کم ہو سکتا ہے لیکن اس کے باوجود ریاستی اسمبلیوں میں کانگریس ہی کے ارکان کی تعداد سب سے زیادہ رہے گی۔

اب پارٹی کو اپنی قیادت کے بارے میں کڑے فیصلے کرنے ہوں گے۔ پارٹی کو وراثت میں پانے والے کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کو یا تو آگے بڑھ کر پوری ذمے داری سنبھالنی ہو گا یا خوش دلی سے ایک طرف ہو جانا ہو گا، ’ہیں بھی اور نہیں بھی‘ والی ڈگمگاہٹ نے پارٹی کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

کانگریس کو بی جے پی سے سبق سیکھنا چاہیے اور علاقائی لیڈروں کو اختیارات منتقل کرنے چاہیں۔ ابھی چند سال پہلے کی بات ہے کہ بی جے پی کو ایک ایسی غیر متحد جماعت کہا جاتا تھا جس کی علاقائی شاخیں زیادہ طاقتور تھیں اور اس بات کو اس کی کمزوری قرار دیا جاتا تھا لیکن اُس کی یہی کمزوری اُس کی طاقت بن گئی اور اسی طاقت کا اظہار اب قومی سیاست میں دیکھا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کانگریس کی دوسری موت کا اعلان 1999 میں اس وقت ہوا جب سونیا گاندھی نے ہچکچاتے ہوئے کانگریس کی قیادت کی باگ ڈور سنبھالی۔

اور آخری اقدام کے طور پر کانگریس کو اپنے سکیولر ازم جمع نیشنل ازم جمع سماجی بہبود نسخے میں تبدیلی لانی چاہیے۔ اس سلسلسے میں پارٹی کو بھارت کے معاشی مستقبل کو نظر میں رکھنا چاہیے، جو مسٹر مودی کی بھی توجہ کا مرکز ہے۔

اس سلسلے میں دو باتیں اہم ہیں ایک تو یہ کہ اگلے پندرہ سال تک ہر ماہ دس لاکھ نوجوان بھارت کی افرادی قوت میں شامل ہوں گے اور ایک اندازے کے مطابق 2010 سے 2050 تک 50 کروڑ افراد دیہی علاقوں سے شہری علاقوں کو نقل مکانی کریں گے۔ بھارت کو دو باتوں کے لیے تیاری کرنی ہو گی۔ ایک تو اس تعداد کے لیے روزگار کے مواقع اور دوئم اس ساری تعداد کے لیے سماجی تحفظ کے ذرائع۔

اس کے باوجود کانگریس کے احیا کی کوئی ضمانت نہیں ہے لیکن اگر تاریخ کو سامنے رکھا جائے تو کانگریس کے مخالفیں بھی یہ حماقت نہیں کر سکتے کہ اُسے نظر انداز کر دیں کیوں کہ یہ کانگریں کا ایک اور زوال ہے اختتام نہیں۔

اسی بارے میں