عوام کی عدالت کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں:منموہن

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وزیر اعظم منموہن سنگھ نے دس برسوں تک بھارت کے وزیر اعظم کی ذمے داریاں نبھائیں

بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ عام انتخابات میں اپنی جماعت کے شکست کے بعد مستعفی ہوگئے ہیں اور انھوں نے اپنا استعفیٰ صدرِ جمہوریہ کو بھجوا دیا ہے۔

سنیچر کو وزیراعظم کی حیثیت سے اپنے آخری خطاب میں عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انھوں نے آنے والی حکومت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

انھون نے کہا: ’میرے ہم وطنو، میں بھارت کے وزیراعظم کی حیثیت سے آپ سے آخری بار مخاطب ہوں۔ مجھے آپ نے دس سال قبل جب یہ ذمہ داری سونپی تھی تو میں نے جانفشانی کو اپنے حربے، سچائی کو اپنا راہ نما اور اس دعا کے ساتھ اسے قبول کیا کہ میں جو کام بھی کروں وہ درست کروں۔

’آج جب کہ میں اپنا عہدہ چھوڑ رہا ہوں تو مجھے اس بات کا پوار احساس ہے کہ خدا کی جانب سے حتمی فیصلے سے پہلے عوام کی عدالت سے ایک فیصلہ آیا ہے جس کا تمام منتخب نمائندے اور حکام احترام کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میرے ہم وطنو! ہم میں سے ہر ایک کو اس فیصلے کا احترام کرنا چاہیے جو آپ نے دیا ہے۔ ابھی ختم ہونے والے انتخابات نے ہماری جمہوری سیاست کی بنیاد کو مزید مستحکم کیا ہے۔ جیسا کہ میں نے بہت بار کہا ہے کہ میری پوری زندگی اور اقتدار میں میری عوامی زندگی ایک کھلی کتاب کی طرح ہے۔ میں نے ہمیشہ اپنی پوری صلاحیت سے اپنے عظیم ملک کی خدمت کرنے کی کوشش کی ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ گذشتہ دس سالوں کے دوران بھارت نے بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں جن پر انھیں فخر ہے: ’آج ہمارا ملک گذشتہ دس سالوں کے مقابلے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ ملک کی کامیابی کا سہرا میں آپ سب کو دیتا ہوں۔ لیکن ابھی بھی ہمارے ملک میں ترقی کے بہت امکانات ہیں۔ جن کا فائدہ اٹھانے کے لیے ہمیں متحد ہوکر کڑی محنت کرنے کی ضرورت ہے۔‘

منموہن کا کہنا تھا کہ ’وزیراعظم کا عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی آپ کا پیار اور محبت کی یاد ہمارے دل میں تازہ رہے گی۔ مجھے جو کچھ بھی ملا ہے اسی دیس سے ملا ہے۔ ایک ایسا دیس جس نے تقسیم میں بے گھر ہونے والے ایک بچے کو اتنے اونچے عہدے تک پہنچا دیا۔ یہ ایک ایسا قرض ہے جسے میں کبھی ادا نہیں کر سکتا۔ یہ ایک ایسا اعزاز بھی ہے جس پر مجھے ہمیشہ فخر رہے گا۔‘

’دوستو، مجھے بھارت کے مستقبل کے بارے میں پورا اطمینان ہے۔ میرا مکمل یقین ہے کہ وہ وقت آ گیا ہے جب بھارت دنیا کے بدلتے معاشی نظام میں ایک اہم طاقت کے روپ میں ابھرے گا۔ روایت کو جدیدیت کے ساتھ اور تنوع کو اتحاد سے ملاتے ہوئے ہمارا دیس دنیا کو آگے کا راستہ دکھا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی خدمت کرنا ان کی خوش بختی رہی ہے اور وہ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں مانگ سکتے تھے۔

انھوں نے آنے والی حکومت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دعاگو ہیں کہ آنے والی حکومت اپنے کام کاج میں ہر طرح کامیاب رہے اور ’میں اپنے ملک کے لیے اور بھی بڑی کامیابیوں کی تمنا کرتا ہوں۔‘

اسی بارے میں