16ویں بھارتی پارلیمان کی شکل کیسی ہوگی؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY
Image caption سولھویں لوک سبھا کے منتخب ارکان کے نتائج جمعے جاری ہونا شروع ہوئے۔

ہندوستان کی پالیمانی تاریخ میں 16ویں لوک سبھا یا ایوانِ زیریں کئی اعتبار مختلف ہے اور اس ایوان میں خواتین نے زیادہ تعداد میں منتخب ہونے کا نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔

ایک اور قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس ایوان میں ایسے ارکان پارلیمان کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے جنھوں نے دس جماعتیں بھی پاس نہیں کی ہیں۔

گریجویٹ نمائندوں کی تعداد بھی پہلے کے مقابلے کم ہوئی ہے اور نوجوان ووٹروں کی بڑی تعداد کے متواتر ذکر کے باوجود عمر کے لحاظ سے سولھویں لوک سبھا پہلے سے زیادہ معمر ہوگئی ہے۔

پي آر ایس لیجسلیٹیو ریسرچ نے لوک سبھا کی تمام 543 سیٹوں کی پروفائل کا مطالعہ کر کے ایک فہرست جاری کی ہے جس سے بھارت کی نئی پارلیمان پوری صورت میں سامنے آتی ہے۔

اس ریسرچ کے مطابق اس بار انتخابات میں کل 61 نشستیں ایسی ہیں جہاں سے خواتین امیدوار کامیاب ہوئی ہیں جو مجموعی شرح کا تقریباً 11 اعشاریہ تین فیصد ہے۔ اگرچہ 15 ویں لوک سبھا کے مقابلے خواتین ارکان پارلیمان کی تعداد میں محض تین سیٹوں کا اضافہ ہوا ہے۔

1952 میں ہونے والے پہلے پارلیمانی انتخابات میں خواتین کا تناسب پانچ فیصد تھا جو 1984 کی آٹھویں لوک سبھا میں آٹھ فیصد تک پہنچا جب کہ 2009 کی 15 ویں لوک سبھا میں یہ تناسب بڑھ کر 11 فیصد ہو گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption یہ تجزیہ پي آر ایس لیجسلیٹیو ریسرچ کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار پر مبنی ہے

ملک میں نوجوان ووٹروں کی بڑی تعداد کے باوجود اس بار ایسے ایم پی کی تعداد زیادہ ہے جن کی عمر 55 سال سے زیادہ ہے۔ ان کی مجموعی تعداد 253 ہے جو کہ کل ارکان پارلیمان کا 47 فی صد ہیں۔

جب کہ 15 ویں لوک سبھا میں 55 سال سے زیادہ عمر کے رکن پارلیمان کی تعداد 43 فیصد تھی۔

سولھویں لوک سبھا میں منتخب ہونے والے صرف 71 ارکان پارلیمان ایسے ہیں جن کی عمر 40 سے کم ہے اور وہ کل تعدا کا تقریبا 13 فی صد ہیں۔

اس بار پارلیمان کے لیے منتخب ہونے والے 75 فی صد ارکان ایسے ہیں جن کے پاس گریجویشن کی ڈگری ہے۔ گذشتہ ایوان میں یہ تناسب 79 فی صد تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ nocredit
Image caption پہلی پارلیمان میں وکالت کے پیشے سے وابستہ ارکان 36 فی صد تھے

ایسے منتخب ارکان کا تناسب جو دسویں پاس بھی نہیں، تین فی صد سے بڑھ کر 13 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ جب کہ میٹرک پاس ارکان کی تعداد 17 سے کم ہو کر 10 فی صد رہ گئی ہے۔

ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھنے والے ممبران پارلیمان کی تعداد میں پہلے سے تین فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

گذشتہ لوک سبھا سے موازنے میں یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ اس بار ایسےپارلیمانی ارکان کا فی صد تناسب 15 کے مقابلے میں 20 ہو گیا ہے جنھیں نے کاروبار کو اپنی روزی روٹی کا ذریعہ بتایا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption بھارتی پارلیمان میں اس بار منتخب خواتین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

خود کو کاشتکار قرار دینے والوں کے تناسب 27 فیصد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

پندرھويں لوک سبھا میں 28 فیصد ممبران پارلیمنٹ نے سیاست اور سوشل ورک کو اپنا پیشہ بتایا تھا۔اس بار یہ تناسب 24 فی صد ہے۔

پہلی لوک سبھا میں 36 فیصد ارکان پارلیمان کا پیشہ وکالت تھا جب کہ نئی لوک سبھا میں یہ فی صد کم ہو کر سات رہ گیا ہے۔

دیگر شعبوں کے حوالے سے 16 ویں لوک سبھا میں ایک فیصد ارکان صحافی یا لکھنے سے منسلک ہیں، تین فیصد ایم پی شعبہ تعلیم سے اور چار فیصد ایم پی میڈیکل کے شعبے سے آئے ہیں۔

اسی بارے میں