بطور سربراہِ حکومت مودی کا خیرمقدم کریں گے: امریکہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ گذشتہ نو برس سے نریندر مودی کو ویزہ دینے سے انکار کرتا آیا ہے

امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے نریندر مودی کو دورۂ امریکہ کی دعوت کے بعد بھارت کے متوقع وزیراعظم کو امریکی ویزہ دیے جانے پر عائد پابندی ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

براک اوباما نے بھارتی انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی کو فون کر کے نہ صرف مبارکباد دی تھی بلکہ انھیں عہدہ سنبھالنے کے بعد امریکہ کی دورہ کرنے کی دعوت بھی دی تھی۔

امریکی حکام سنہ 2002 میں بھارتی ریاست گجرات میں نریندر مودی کی وزارتِ اعلیٰ کے دوران مسلم کش فسادات میں ہزاروں افراد کی ہلاکت کے بعد سے انھیں امریکہ کا ویزا دینے سے انکار کرتے آئے ہیں۔

سنہ 2005 میں امریکہ نے مودی کو سفارتی ویزا دینے سے انکار کیا تھا اور بعدازاں ان کا سیاحتی اور کاروباری ویزا بھی رد کر دیا گیا تھا۔

تاہم خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اب امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ انھیں بطور سربراہِ مملکت خوش آمدید کہا جائے گا۔

محکمۂ خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے اس بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’ہم نئے بھارتی وزیراعظم کا خیر مقدم کریں گے اور سربراہِ حکومت کے طور پر مودی اے ون درجہ بندی کے ویزے کے اہل ہوں گے۔‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی محکمۂ خارجہ نے بی جے پی کی جانب سے نریندر مودی کی بھارتی وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر نامزدگی کے موقع پر بھی انھیں ویزا نہ دینے کی پالیسی برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا تاہم اب ان کی فتح کے بعد امریکی پالیسی تبدیل ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

ادھر امریکی صدر کے دفتر کا کہنا ہے کہ صدر براک اوباما نے دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے نریندر مودی کو واشنگٹن کے دورے کی دعوت دی۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی کا کہنا ہے کہ ’ایک بار بھارت میں نئی حکومت اقتدار سنبھال لے تو اس کے بعد ہم وزیراعظم اور وہاں کی کابینہ کے ساتھ مضبوط دو طرفہ تعلقات قائم ہوتے دیکھ رہے ہیں۔‘

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بھی مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں نریندر مودی کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے مل کر خطے میں سیکیورٹی اور خوشحالی کو فروع دینے کی امید کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں