افغانستان پاکستان سرحدی کشیدگی پر کابل میں سہ فریقی مذاکرات

Image caption پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا عہدہ سنبھالنے کے بعد افغانستان کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے

افغانستان، پاکستان کے فوجی سربراہان اور افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کے کمانڈر کے درمیان سہ فریقی مذاکرات پیر کو کابل میں ہو رہے ہیں۔

افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں بدامنی اور افغان صوبے کنڑ میں مبینہ طور پر پاکستان کی جانب سے راکٹ حملوں پر ان سہ فریقی مذاکرات میں بات چیت ہوگی۔

پاک افغان سرحد پر فائرنگ ایک افغان اہلکار ہلاک

یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں منعقد ہو رہے ہیں جب گذشتہ ہفتے افغان اور پاکستانی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں ایک افغان فوجی کی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ پیر کو افغانستان کے فوجی سربراہ جنرل شیر محمد کریمی، پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کے کمانڈر جنرل جوزف ڈینفورڈ کے درمیان سہ فریقی مذاکرات ہوں گے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ افغانستان کاپہلا سرکاری دورہ ہے۔

افغان وزراتِ دفاع کے نائب ترجمان دولت وزیری نے بی بی سی کو بتایا کہ ملاقات میں علاقے میں امن و امان کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

دولت وزیری کا کہنا تھا ’اس ملاقات میں ان تمام مسائل پر بات کی جائے گی جن کا تعلق قیام ِ امن سے ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد یہ ہے کہ جو شکایات ہیں وہ دور کی جائیں۔‘

افغان حکام کا موقف رہا ہے کہ طالبان شدت پسندوں کے ٹھکانے سرحد پار پاکستانی علاقوں میں ہیں اور ان کا مطالبہ رہا ہے کہ پاکستان شدت پسندی کے خاتمے کے لیے کیے گئے اپنے وعدوں پر عمل در آمد کرے۔

پاکستان کی سرحد سے افغانستان کے صوبے کنڑ میں راکٹ فائر کیے جانا بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے افغان حکومت نے ہمیشہ پاکستان پر تنقید کی ہے۔

افغان وزراتِ دفاع کے نائب ترجمان دولت وزیری کا کہنا ہے کہ ’زیادہ امکان یہی ہے کہ ماضی میں کیے جانے والے فیصلوں پر عمل درآمد کے حوالے سے بات کی جائے گی تاکہ مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے۔‘

پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2600 کلو میٹر طویل سرحد ہے جس کی اب تک واضح نشاندہی اور حدبندی نہیں کی جا سکی ہے۔

افغان حکومت پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں موجود طالبان گروہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ دوسری طرف پاکستان کی حکومت کا افغانستان پر یہ الزام رہا ہے کہ اس نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ کو پناہ دے رکھی ہے۔

اسی بارے میں