نئی پارلیمان میں 112 کے خلاف الزامات

بھارتی پارلیمان تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption بی جے پی کے 63 (22 فیصد)، شیوسینا کے آٹھ (44 فیصد) کے خلاف مجرمانہ معاملات چل رہے ہیں

بھارت میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے سیاست میں مجرمانہ سرگرمیوں کو ختم کرنے کے تمام بیانات کے باوجود 16ویں لوک سبھا کے541 میں سے 186 ایسے رہنما ہیں جن کے خلاف جرائم کے الزامات ہیں۔

ان میں سے 112 تو ایسے ہیں جن پر قتل، اقدامِ قتل، فرقہ وارانہ تشدد، اغوا اور خواتین کے خلاف جرائم کے الزامات ہیں۔

پي آر ایس لیجسلیٹیو ریسرچ کے ذریعے نو منتخب ممبران پارلیمان کے بارے میں کیے گئے سروے کے مطابق یہ تعداد 34 فیصد ہے۔ ادارے نے یہ تعداد نامزدگی کے وقت داخل کیے جانے والے حلف ناموں کی بنیاد پر تیار کی ہے۔

تنظیم نے لوک سبھا کے 543 میں سے 541 ممبران پارلیمان کے حلف ناموں کا تجزیہ کیا تھا۔

بی جے پی آگے

16ویں لوک سبھا کے لیے منتخب ہونے والے ممبران میں سے نو پر قتل کا مقدمہ چل رہا ہے۔ ان میں سے چار ارکان بی جے پی کے ہیں جبکہ کانگریس، لوک جن شکتی پارٹی اور راشٹریہ جنتا دل کے ایک ایک رہنما پر قتل کا مقدمہ چل رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فرقہ پرستی پھیلانے کے الزام کا سامنا کرنے والے ممبران پارلیمنٹ کی تعداد 16 ہے

جھارکھنڈ کے جمشید پور سے بی جے پی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے ودیوت برن مہتو اور مہاراشٹر کے ستارا حلقے سے راشٹریہ وادی کانگریس پارٹی کے ٹکٹ پر جیتنے والے شريمنت چودھری، ادين راجے اور پرتاپ سنہا بھوسلے کے حلف نامے واضح نہ ہونے کی وجہ سے ان کا تجزیہ نہیں کیا جا سکا۔

ادارے کے مطابق 15ویں لوک سبھا میں مجرمانہ مقدمات کا سامنا کرنے والے ممبران کی تعداد 158 تھی۔ اس وقت 521 ارکان پارلیمنٹ کے حلف ناموں کا تجزیہ کیا گیا تھا۔

قتل کی کوشش کے الزام کا سامنا کرنے والے ممبران پارلیمنٹ کی تعداد 17 ہے۔ ان میں سے دس ایم پی بی جے پی کے، دو ترنمول کانگریس کے، جب کہ کانگریس، این سی پی، راشٹریہ جنتا دل، شیوسینا اور سوابھیماني پارٹی کے ایک ایک رکنِ پارلیمان شامل ہیں۔

دو ارکان کو خواتین کے خلاف جرائم کے الزامات کا سامنا ہے۔ ان میں سے ایک کیرالا سے آزاد رکن منتخب ہوئے ہیں اور دوسرے مہاراشٹر کے چندرپور علاقے سے بی جے پی کے ٹکٹ پر جیتے ہیں۔

فرقہ وارانہ رہنما

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بی جے پی کے تین، ترنمول کانگریس، لوک جن شکتی پارٹی اور راشٹریہ جنتا دل کے ایک ایک رہنما اغوا کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں

فرقہ پرستی پھیلانے کے الزام کا سامنا کرنے والے ارکانِ پارلیمان کی تعداد 16 ہے۔ ان میں سے 12 بی جے پی کے ٹکٹ پر جیتے ہیں تو ترنمول کانگریس، پي ایم كے، آل انڈیا مجلس اے اور اتحادالمسلمین کے ایک ایک ممبر پارلیمنٹ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ 16ویں لوک سبھا کے دس ممبران پارلیمنٹ پر چوری اور ڈکیتی کے مقدمات چل رہے ہیں۔ ان میں سے سات ایم پی بی جے پی کے ہیں، جب کہ راشٹریہ جنتا دل اور سوابھیماني پارٹی کے ایک ایک رکن شامل ہیں۔

بی جے پی کے تین، ترنمول کانگریس، لوک جن شکتی پارٹی اور راشٹریہ جنتا دل کے ایک ایک رہنما اغوا کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔

اس طرح اگر دیکھیں تو بی جے پی کے 281 ممبران پارلیمان میں سے 98 (35 فیصد) پر مجرمانہ مقدمات چل رہے ہیں، وہیں کانگریس کے تمام 44 ممبران پارلیمنٹ میں سے آٹھ (18 فیصد)، اننادرمک کے 37 میں سے چھ (16 فیصد)، شیوسینا کے 18 ممبران پارلیمنٹ میں سے 15 (83 فیصد) اور ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر جیتے والے 34 میں سے سات (21 فیصد ) پر مجرمانہ معاملات چل رہے ہیں۔

مزید برآں بی جے پی کے 63 (22 فیصد)، شیوسینا کے آٹھ (44 فیصد) کانگریس کے تین (سات فیصد)، اننادرمک کے تین (آٹھ فیصد) اور ترنمول کے چار ممبران پارلیمنٹ (12 فیصد) پر سنگین قسم کے مجرمانہ معاملات چل رہے ہیں۔

اسی بارے میں