بلّی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption منموہن سنگھ دس سال تک ملک کے وزیر اعظم رہے لیکن ان کی الوداعی پارٹی میں راہل نہیں تھے

منموہن سنگھ کی کتاب کس نے لکھی؟

تو آخرکار نریندر مودی آہی گئے، اچھا وقت بھی آتا ہی ہوگا لیکن اس شور و غل میں وزیر اعظم من موہن سنگھ کب خاموشی کے ساتھ گھر لوٹ گئے، کسی کو خبر نہیں ہوئی۔

وہ دس سال ملک کے وزیر اعظم رہے، لیکن نہ زیادہ نظر آئے نہ زیادہ سنائی دیے۔ اسی لیے جب گئے تو زیادہ ہنگامہ نہیں ہوا، راہل گاندھی کو تو شاید خبر بھی نہیں ہوئی، وہ مسٹرسنگھ کی الودا‏عیہ پارٹی میں بھی نہیں پہنچے۔

خود جاتے وقت منموہن سنگھ نے کہا کہ ان کا دور اقتدار ایک کھلی کتاب ہے۔ لیکن شاید ان کی تمام خوبیوں، تمام صلاحیتوں اور عہدے کی پہلی مدت میں کئی اہم کامیابیوں کے باوجود بہت سے لوگوں کو یہ افسوس ہمیشہ رہے گا کہ کاش یہ کتاب انھوں نے خود لکھی ہوتی!

گھنٹی باندھنے کی ہمت کون کرے گا؟

جیسا اکثر ہوتا ہے کانگریس کی شکست کے بعد خود احتسابی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ جب بھی کانگریس ہارتی ہے تو سینیئر رہنما ایک پہلے سے طے شدہ سکرپٹ کے مطابق بیانات دینا شروع کرتے ہیں۔

زبان اور الفاظ میں فرق ہوسکتا ہے لیکن بنیادی پیغام یکساں ہوتا ہے: شکست کے لیے سونیا گاندھی، راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، رابرٹ وڈرا یا ان کے معاونین، سیکریٹری، ڈرائیور، باورچی، مالی۔۔۔یا ان سے کسی بھی طرح سے وابستہ کوئی بھی شخص ذمہ دار نہیں تھا، شکست کی ذمہ داری پوری پارٹی پر عائد ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption میڈیا میں یہ قیاس آرائی تھی کہ پارٹی صدر سونیا گاندھی شکست کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہوسکتی ہیں

یہ جمہوریت اور انصاف کا تقاضہ بھی ہے کہ جو بھی چیز ہو سب میں برابر تقسیم کی جائے۔ کئی دنوں سے میڈیا میں یہ قیاس آرائی تھی کہ پارٹی کی صدر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی شکست کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہوسکتے ہیں۔ لیکن ایسا ہوا نہیں، اور ہوتا بھی کیوں؟

پوری انتخابی مہم راہل اور سونیا گاندھی نے سنبھالی، اتحاد کس سے ہو، ٹکٹ کسے ملے، کیا مسائل اٹھائے جائیں اور مودی کے ریکارڈ کو کس طرح نشانہ بنایا جائے، تمام فیصلے انھوں نے کیے۔ اور اب ذمہ داری بھی وہ ہی لے لیں تو پارٹی کو کیا ملے گا؟

بہرحال، سچ یہ ہے کہ انھوں نے استعفیٰ دینے کی پیشکش کی جسے مسترد کردیا گیا۔ شاید اس لیے کہ کسی کو یہ ہی معلوم نہیں تھا کہ وہ استعفی کسے دیں؟ اور کس میں ہمت ہے کہ ان کا استعفیٰ منظور کر لیتا؟

صرف حکومت ختم ہوئی ہے، اقبال ابھی باقی ہے۔ شکست کی وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے اب ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جو چند مہینوں میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ یہ بڑی پارٹیوں کا طریقہ ہے ورنہ یہ کام صرف دو روپے میں آج کا اخبار پڑھ کر بھی کیا جاسکتا ہے!

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption راہل گاندھی کی مسکراہٹ کے بارے میں سوشل میڈیا پر بہت سی باتیں ہو رہی ہیں

16 تاریخ کو نتائج کے اعلان کے بعد جب راہل گاندھی پریس کے سامنے آئے تو وہ بہت مسکرا رہے تھے۔ بہت سے لوگ پوچھ رہے ہیں کہ وہ اتنے خوش کیوں تھے، واقعی خوش تھے یا کوئی غم چھپا رہے تھے۔

ایسا تو کچھ ہوا نہیں ہے کہ وہ غمگین ہوتے، شاید وہ اس لیے خوش تھے کہ پارٹی اور حکومت میں جن خامیوں کی طرف وہ توجہ دلاتے رہے ہیں انھیں دور کرنے کا اب انھیں موقع مل جائے گا۔ اگر پارٹی جیت جاتی تو پھر حکمرانی میں مصروف ہو جاتی اور حالات ایسے ہی چلتےرہتے جیسے پہلے چل رہے تھے۔

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہی ان کی حکمت عملی رہی ہو اور اسی لیے انھوں نے مسکراتے ہوئِے کہا تھا کہ میں شکست کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں، کیونکہ پارٹی نے اپنا درپردہ لیکن اصل مقصد حاصل کر لیا ہے۔ اور اگر یہ بات سچ ہے تو ان کا خوش ہونا بھی سمجھ میں آتا ہے اور استعفیٰ نہ دینا بھی۔

مودی کو پاکستان آنے کی دعوت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نریندر مودی کی جیت کے بعد نہ صرف پاکستان نے انھیں دعوت دی ہے بلکہ امریکہ نے بھی خیرمقدم کیا ہے

انتخابی مہم کے دوران نریندر مودی نے کہا تھا کہ ان کے وزیر اعظم بننے کے بعد پاکستان کو اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔ ابھی حلف برداری بھی نہیں ہوئی ہے اور نواز شریف نے انھیں پاکستان آنے کی دعوت دیدی ہے۔

انتخابی مہم کے دوران مودی نے داؤد ابراہیم کو بھی انڈیا واپس لانے کا ذکر کیا تھا۔ انڈیا کا پرانا موقف ہے کہ داؤد ابراہیم نے پاکستان میں پناہ لے رکھی ہے۔ تو کہیں ایسا تو نہیں کہ داؤد ابراہیم کو ان کے سپرد کرنے کے لیے ہی انھیں پاکستان آنے کی دعوت دی گئی ہو؟

ایسا ہوبھی سکتا ہے، امریکہ کو ہی دیکھیے۔ دس سال سے وہ مسٹر مودی کو ویزا دینے سے انکار کر رہا تھا، وہ وزیر اعظم کیا بن گئے صدر اوباما نے بھی انھیں امریکہ آنے کی دعوت دے ڈالی!

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے!

اسی بارے میں