طلاق منائیں دھوم دھام سے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایران میں گذشتہ کچھ عرصہ میں طلاق کے کارڈ چھپوانے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے

ایران میں طلاق کی تقاریب شادی کی طرز پر منانے کا رواج زور پکڑ رہا ہے۔

ایران کے روزنامہ جرید الاسلامی کے مطابق ایران کے عوام نے طلاق کے موقعے پر عالیشان تقاریب منقعد کرنا شروع کر دی ہیں، جن میں کالے رنگ کے پھول خریدے جاتے ہیں اور ساتھ ہی کیک بھی کاٹا جاتا ہے۔

شادی کے کارڈ چھاپنے والی ایک دکان کے مالک نے روزنامہ جرید الاسلامی سے بات کرتے ہوئے بتایا: ’پہلے لوگ گل فروشوں کے پاس جاتے ہیں اور پھر ہمارے پاس طلاق کی تقریب کے دعوت نامے چھپوانے آتے ہیں۔‘

ایک دعوت نامے میں ایک شخص نے لکھوایا: ’میں تمھیں بالکل یاد نہیں کرتا، اور میں قسم کھاتا ہوں کہ مجھے دوبارہ محبت نہیں ہوگی اور اگر ہوئی بھی تو تم سے نہیں ہوگی۔‘

ایک اور دکان دار نے شہرِ خبر نامی ایک نیوز ویب سائٹ کو بتایا کہ گذشتہ کچھ عرصہ میں طلاق کے کارڈ چھپوانے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

تہران میں حکومتی حکام نے ملک میں طلاق کی تقاریب کے بڑھتے ہوئے رواج پر تشویش کا اِظہار کیا ہے۔ ایران کے قدامت پسند مذہبی رہنما آیت اللہ مکرم شیرازی نے بھی اس رواج کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں گذشتہ سال طلاق کی شرح میں 4.6 فیصد اضافہ ہوا تھا، جبکہ شادی کرنے کی شرح میں 4.4 فیصدکمی آئی تھی۔ اس کے علاوہ ملک میں 20 فیصد شادیوں کا اختتام اب طلاق پر ہوتا ہے۔

ایران میں حالیہ عرصہ میں ملک کی قیادت اور عوام کی سوچ میں بڑھتا ہوا تضاد سامنے آیا ہے۔ گذشتہ دنوں ایرانی خواتین کی ایک بڑی تعداد نے ’مائی سٹیلتھی فریڈم‘ یا ’میری خفیہ آزادی‘ نامی فیس بک پیج پر اپنی حجاب کے بغیر تصاویر پوسٹ کیں۔ یاد رہے کہ ایران میں عورتوں کے لیے حجاب پہننا لازمی ہے۔

اسی بارے میں