افغان جیل میں قید بے گناہ عورتیں

Image caption تشدد بادام باغ جیل میں عام بات ہے

جب کابل میں خواتین کی بادام باغ جیل سے 29 خواتین قیدی رہا ہوئیں تو سوال اٹھے کہ اس جیل میں ابھی مزید کتنی بے گناہ خواتین قید ہیں۔

اس مہینے رہا ہونے والی بہت سی عورتیں وہ تھیں جو گھریلو تشدد یا زبردستی کی شادیوں سے تنگ آ کر اپنے گھر چھوڑ کر آئی تھیں۔ گھر سے بھاگ جانا قانوناً جرم نہیں ہے مگر ان خواتین نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں عدالت میں پیش کیے بغیر جیل میں پہنچا دیا گیا۔ کچھ نے تو یہ بھی بتایا کہ انھیں بغیر سزا سنائے دو سال تک قید میں رکھا گیا۔

خواتین کے امور کی وزارت اب ان عورتوں کے لیے دارلامان کا بندوبست کر رہی ہے جو رہائی کے بعد اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکتیں۔ جب وہ جیل کے دروازوں سے گزر رہی تھیں تو وہ افغانی انصاف کے لحاظ سے بھی اپنے پیچھے ایک عجیب جگہ چھوڑ کر جا رہی تھیں۔ یہ اس لیے کیونکہ خواتین کی واحد جیل بادام باغ میں منشیات فروش اور قتل کی مجرم عورتوں اور ان کے کئی بچوں کے ساتھ قید ہیں۔

جب میں نے کچھ مہینے پہلے اس جیل کا دورہ کیا تو یہ سنگین بحران کا شکار تھی۔ تین منزلہ عمارت میں دو درجن چھوٹے چھوٹے کمرے ہیں اور ہر کمرے میں آٹھ عورتیں رکھی گئی ہیں۔ انھوں نے مجھ سے مسلسل گھٹن کی شکایت کی۔

جیل کا بیرونی حصہ مردانہ پولیس کے زیر کنٹرول ہے جبکہ داخلی حصے پر خواتین کی عمل داری ہے۔ پولیس اور قیدیوں کے درمیاں تعلقات اکثر کشیدہ رہتے ہیں۔

جیل میں میری ملاقات قبیلہ نامی ایک لڑکی سے ہوئی جسے بدخشان سے ایک نامحرم لڑکے کے ساتھ کابل آنے اور اس کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے پر سزا دی گئی۔

اس کے دانت بری طرح خراب ہو چکے تھے اور اس کا دائیں ہاتھ زخمی تھا۔ اس نے مجھے بتایا: ’میرے دانت ٹوٹ گئے ہیں اور میرا ہاتھ زخمی ہے کیونکہ میں ہر کسی سے لڑتی ہوں، افسران کے ساتھ اپنے کمرے میں موجود لوگوں سے اور پولیس سے۔ مجھے یاد ہے جب میں بھاگنا چاہتی تھی۔ شاید مجھے کوئی ذہنی مسئلہ ہے اور میری آنکھیں بھی کمزور ہیں کیونکہ جب میں نے بھاگنے کی کوشش کی تو انھوں نے مجھ پر سپرے کیا تھا۔‘

تشدد بادام باغ جیل میں روزمرہ کا معمول ہے۔

ذرفشان نائبی جیل کی انچارج ہیں۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ جیل میں حالات پر قابو کرنے کے لیے زور زبردستی نہیں کرتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مجرموں کے ساتھ ’صبر سے کام لیتی ہیں۔‘

کشیدگی اور بد امنی کے ماحول میں پریشانی ان 50 بچوں کے لیے پیدا ہوتی ہے جو اپنی ماؤں کے ساتھ جیل میں قید ہیں۔

ایک قیدی عورت اپنے پانچ بچوں کے ساتھ 2012 سے 14 سال کی قید کاٹ رہی ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ اسے ڈر لگتا ہے کہ اس کے بچے ایک دن پوچھیں گے کہ ان سے ان کی آزادی کیوں چھین لی گئی۔

بادام باغ جیل ایک قبرستان کے ساتھ کابل کے ایک سنسان علاقے میں واقع ہے۔ اس میں تقریباً 200 قیدی مختلف جرائم کی سزا میں قید ہیں۔ کچھ پر تو قتل اور اغوا کے الزام ہیں اور کچھ پر صرف گھر سے بھاگ جانے کا الزام ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اکثر شکایت کرتی ہیں کہ بے گناہ خواتین کو جیلوں میں قید کیا جاتا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے پچھلے سال کی رپورٹ میں کہا تھا کہ 600 عورتیں ’اخلاقی جرائم‘ کی سزا کاٹ رہیں ہیں اور ان میں سے سو سے زائد کی عمر 18 سال سے کم ہے۔

افغان حکومت نے کئی بار جیلوں میں قید بے گناہ خواتین کے لیے اقدامات کرنے کی بات کی ہے۔ حال ہی میں رہا ہونے والی عورتیں شاید حکومت کے اس مقصد کی عکاسی کرتی ہیں مگر جب تک گھریلو تشدد ہوتا رہے گا، بےگناہ خواتیں قید ہوتی رہیں گی۔

اسی بارے میں