کشمیر بس حادثہ، 17 ہلاک، متعدد زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امدادی کارروائی میں ہندوستانی فضائیہ کی امداد طلب کی گئی ہے اور زخمیوں کو جموں کے ہسپتال میں داخل کیا گيا ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں پیر اور منگل کی درمیانی شب ایک مسافر بس چار سو فٹ گہری کھائی میں جا گری جس سے 17 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ درجنوں شدید زخمی ہیں۔

زخمیوں کو جموں کے ہسپتال لایا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

یہ حادثہ کشمیر میں ہمالیہ کے پیرپنچال پہاڑی سلسلے سے گزرنے والی تین سو کلومیٹر طویل سرینگر جموں شاہراہ کے سب سے خطرناک مقام ’ڈگ ڈولہ‘ کے قریب پیش آیا۔

حکومت ہند کے لیے یہ دشوار گزار سڑک دفاعی اہمیت کی حامل ہے۔

ٹریفک پولیس کے انسپکٹر جنرل منیر احمد خان کے مطابق رات کے وقت جب یہ مسافر بس رام بن کے قریب ’ڈگ ڈولہ‘ کے مقام پر پہنچی تو ڈرائیور کو اونگھ آنے لگی جس کی وجہ سے وہ گاڑی پر قابو کھو بیٹھا۔

ہلاک ہونے والوں میں چھ خواتین، پونچھ، راجوری اور اکھنور کے بے روزگار نوجوان، مختلف بھارتی ریاستوں سے کشمیر جانے والے مزدور اور سیاحوں کا ایک گروپ شامل ہیں۔

واضح رہے کہ بے روزگار نوجوانوں کا یہ گروپ کشمیر میں منعقد ہونے والی فوج کی بھرتی مہم میں حصہ لینے آ رہا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائی کے لیے بھارتی فضائیہ سے تعاون طلب کیا گیا ہے کیونکہ گہری کھائی سے لاشیں نکالنے میں مشکلات درپیش ہیں۔

جموں سرینگر شاہراہ کشمیر کو بھارت کےساتھ ملانے والی اہم ترین رابطہ سڑک ہے۔

سنہ 1947 سے قبل کشمیر کا بیرونی دنیا سے رابطہ راولپنڈی روڈ کے ذریعہ ہوا کرتا تھا اور اسی کے وسیلے سے پاکستان اور وسط ایشیائی منڈیوں کے ساتھ کشمیر کے تجارتی اور ثقافتی روابط استوار تھے۔ تقسیم کے بعد یہ رابطہ ٹوٹ گیا۔

جموں سرینگر شاہراہ پر ہر سال بڑی تعداد میں سڑک حادثے ہوتے ہیں اور درجنوں لوگ مارے جاتے ہیں۔ ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ سنہ 2010 کے بعد سے ہر سال کشمیر میں ٹریفک کے حادثوں کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد اُن ہلاکتوں سے زیادہ ہوتی ہے جو مسلح شورش کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

اسی بارے میں