عام آدمی پارٹی کے رہنما دو دن کے لیے جیل میں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کیجریوال نے انتخابی مہم کے دوران متعدد سیاست دانوں کو انتہائی بدعنوان قرار دیا تھا

عام آدمی پارٹی کے رہنما اور دہلی کے سابق وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کو دہلی کی ایک عدالت نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق صدر نتن گڈکری کے خلاف مبینہ طور پر ہتک آمیز بیان دینے کے سلسلے میں دو دنوں کے لیے جیل بھیج دیا ہے۔

کیجریوال نے ضمانت پر رہائی سے انکار کر دیا تھا۔

کیجریوال بی جے پی کے رہنما نتن گڈکری کو بدعنوان قرار دینے کے سلسلے میں اپنے خلاف ہتک عزت کے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران میٹرو پولیٹن میجسٹریٹ کی عدالت میں موجود تھے۔

میجسٹریٹ نے انھیں ضمانت کے لیے دس ہزار روپے جمع کرنے کا حکم دیا لیکن کیجریوال نے یہ کہہ کر ضمانت کی رقم جمع کرنے سے انکار کر دیا کہ انھوں نے کسی سنگین جرم کا ارتکاب نہیں کیا ہے اور یہ کہ وہ آئندہ سماعت کے روز عدالت میں حاضر ہوں گے اور اس کے لیے وہ اقرار نامہ دینے کے لیے تیار ہیں۔

انھوں نے میجسٹریٹ سے کہا کہ ’یہ میرا اصول ہے کہ جب میں نے کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا ہے تو میں رہائی کے لیے ضمانت نہیں دوں گا۔ میں جیل جانے کے لیے تیار ہوں۔‘

عدالت نے کیجریوال کو وہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا اور انھیں دہلی کی تہاڑ جیل بھیج دیا گیا جہاں وہ آئندہ سماعت یعنی 23 مئی تک قید رہیں گے۔

کیجریوال نے انتخابی مہم کے دوران متعدد سیاست دانوں کو انتہائی بدعنوان قرار دیا تھا۔ ان کی اس فہرست میں بی جے پی کے سابق صدر نتن گڈکری بھی شامل تھل تھے۔ گڈکری نے کیجریوال کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کر دیا تھا۔

نتین گڈ کری کو نریندر مودی کے کلیدی گروپ کا حصہ تصور کیا جاتا ہے ۔ پیر کو تشکیل پانے والی نئی حکومت میں ان کا اہم کردار ہو سکتا ہے۔

اروند کیجریوال کے حامی بطورِ احتجاج دہلی کی تہاڑ جیل کے باہر جمع ہونے لگے ہیں۔

اسی بارے میں