نواز شریف کو مودی کا دعوت نامہ مل گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے کیے جانے والے جامع مذاکرات کا سلسلہ 2008 میں ممبئی حملوں کے بعد سے رکا ہوا ہے

پاکستان کے دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ انھیں بھارت کے نو منتخب وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف کے نام بھجوایا گیا دعوت نامہ موصول ہو گیا ہے۔

بھارت کی نئی حکومت اور پاکستان سے تعلقات

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم دعوت نامہ موصول ہونے کی تصدیق کی تاہم ایک سوال کہ پاکستان کے وزیراعظم کیا نریندر مودی کی تقریب حلف برادری میں شریک ہوں گے؟ اس سوال سے قبل ہی دفتر حارجہ کی ترجمان نے کہا کہ اس حوالے سے مزید نہ پوچھا جائے کہ آگے کیا ہو گا ’ابھی ان چیزوں کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔‘

اس سے پہلے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی ترجمان نرملا سیتھارام کے مطابق بھارت کے نومنتخب وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کو اپنی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کی دعوت دی ہے۔

ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آئندہ پیر کو تقریبِ حلف برداری منعقد ہو رہی ہے جس میں جنوبی ایشیا کی علاقائی تعاون کی تنظیم ’سارک‘ کے رہنماؤں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دونوں ممالک کے درمیان 1947 سے تعلقات معمول پر نہیں آ سکے ہیں

انھوں نے کہا کہ مہمانوں کی فہرست میں پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کا نام بھی شامل ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سری لنکا کے صدر کے ایک قریبی ساتھی نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ صدر راجا پکسے کو دعوت نامہ موصول ہوا ہے اور وہ تقریب میں شرکت کریں گے۔

اس سے پہلے 16 مئی کو انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے پر پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے نریندر مودی کو فون کر کے مبارک باد اور انھیں پاکستان کے آنے کی دعوت دی تھی۔

ماہرین کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کو تقریب میں شرکت کی دعوت دینا خاصی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ نومنتخب وزیراعظم نریندر مودی کا پاکستان کے بارے میں موقف سخت رہا ہے اور وہ متعدد بار پاکستان پر تنقید کر چکے ہیں۔

اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے کیے جانے والے جامع مذاکرات کا سلسلہ 2008 میں ممبئی حملوں کے بعد سے رکا ہوا ہے۔

نواز شریف نے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا عندیہ دیا تھا۔ کچھ عرصہ قبل وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے بھارت کے دورے کے موقعے پر کہا تھا کہ وہ نریندر مودی کے ساتھ کام کرنے پر تیار ہیں۔

انھوں نے کہا تھا کہ بھارت میں نئی حکومت کی تشکیل کے بعد ہی دونوں ممالک میں جامع مذاکرات شروع کرنے پر کوئی پیش رفت ہو سکے گی۔

اس سے پہلے بھارتی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنی والی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے اعلان کیا تھا کہ نریندر مودی 26 مئی کو وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھائیں گے۔

واضح رہے کہ بی جے پی کسی سے اتحاد کیے بغیر حکومت بنا سکتی ہے۔ سادہ اکثریت کے لیے 272 اراکین کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ بی جے پی کے 282 اراکین ہیں۔

یاد رہے کہ کانگریس جماعت کو 543 میں سے صرف 44 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔

اسی بارے میں