کشمیر: موبائل فون ایس ایم ایس سروس بحال

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption سنہ 2010 میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ایس ایم ایس کی خدمات بند کر دی گئی تھیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں وزیراعلی عمرعبداللہ نے موبائل فون پر تحریری پیغام رسانی کی سہولت پر چار سالہ پابندی کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سرکاری ترجمان کے مطابق بدھ کی صبح سے ہی جموں کشمیر میں موبائل فون استعمال کرنے والے لاکھوں صارفین کے لیے یہ سہولت بحال کر دی گئی ہے۔

عمر عبداللہ کے مشیر تنویر صادق نے بی بی سی کو بتایا: ’لوگ فیس بک اور ٹوئٹر پر وزیراعلیٰ کو اس پابندی کے بارے میں یاد دلاتے رہتے تھے۔ ان مطالبات کو دیکھتے ہوئے حکومت نے سکیورٹی صورت حال کا جائزہ لیا تو فیصلہ ہوا کہ اب اس پابندی کی کوئی ضرورت نہیں۔‘

واضح رہے کہ سنہ 2010 میں حکومت نے ہند مخالف احتجاجی تحریک کو دبانے کے لیے موبائل فون پر شارٹ میسیج سروس یعنی ایس ایم ایس کی سہولت کو معطل کردیا تھا۔

کشمیر کی تقریباً 70 لاکھ آبادی میں سے کم از کم 50 لاکھ لوگ موبائل فون کا استعمال کرتے ہیں۔ حکومت کا خیال تھا کہ علیحدگی پسند موبائل فون پر تحریری پیغامات بھیج کر لوگوں کو مظاہروں کے لیے اکساتے ہیں۔

لیکن اس فیصلے کے خلاف یہاں کی ہند نواز اپوزیشن اور سول سوسائٹی کے اداروں نے زبردست احتجاج کیا تو چند ماہ بعد ہی یہ پابندی صرف ایسے صارفین کے لیے مخصوص کر دی گئی جو پری پیڈ یا ری چارج ایبل سِم کارڈ استعمال کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کشمیر میں کم از کم 50 لاکھ لوگ موبائل فون کا استعمال کرتے ہیں

حکومت ہند کی نگرانی میں سرگرم بھارت سنچار نگم لیمیٹڈ کے مقامی سربراہ آر کے کول نے بتایا کہ یہ پابندی ہٹنے سے ان کے ساڑھے آٹھ لاکھ صارفین کو سہولت ملی ہے۔ کشمیر میں ایرٹیل، ایرسیل اور دوسری نجی کمپنیاں بھی سرگرم ہیں اور ان کے لاکھوں صارفین بھی اس پابندی سے متاثر تھے۔

غور طلب ہے کہ وزیراعلی نے یہ فیصلہ منگل کے روز اپنی پارٹی نیشنل کانفرنس کے ایک اہم اجلاس کے بعد کیا گیا۔ اس اجلاس میں نیشنل کانفرنس اور ان کی اتحادی کانگریس کی حالیہ پارلیمانی انتخابات میں تاریخی شکست پر غور کیا گیا۔

ذرا‏ئع نے بتایا کہ اجلاس کے دوران محسوس کیا گیا کہ عمر عبداللہ کی حکومت نے گذشتہ چھ برس کے دوران صرف عوام کش فیصلے کیے جن کی وجہ سے لوگ ناراض ہوگئے۔

لیکن کیا ایس ایم ایس پر پابندی ہٹانے سے اس نقصان کی تلافی ہو جائے گی؟ کالم نگار عبدالقیوم شاہ کہتے ہیں: ’لوگوں نے یہاں پابندیوں میں ہی جینا سیکھ لیا ہے۔ لوگ اب گھروں میں کھانے پینے کا سامان ذخیرہ کرتے ہیں، کیونکہ حکومت بغیر اعلان کے اچانک کرفیو نافذ کر دیتی ہے۔ اسی طرح ایس ایم ایس بند ہوگیا تو فون پر انٹرنیٹ آگیا۔ اب تو واٹس ایپ اور دوسری ایپلیکیشنز ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ لوگ بہت زیادہ متاثر ہوں گے۔‘

Image caption حکومت کا خیال تھا کہ علیحدگی پسند موبائل فون پر تحریری پیغامات بھیج کر لوگوں کو مظاہروں کے لیے اکساتے ہیں

تاہم کشمیر میں 20 لاکھ صارفین کو موبائل فون سہولیات فراہم کرنے والی کمپنی ایرسیل کے ترجمان یاسر عرفات کہتے ہیں: ’اس پابندی سے مالی نقصان ہوا۔ کیونکہ تجارتی کمپنیاں اپنی اشیا کے اشتہاری ایس ایم ایس دیتی ہیں جن سے صارفین کو معلومات اور ہمیں منافع ہوتا ہے۔ لیکن جب یہ سہولت بند ہوگئی تو وہ آمدن ختم ہوگئی۔‘

دریں اثنا مقامی کیبل ٹی وی پر خبروں کی نشریات کی بحالی کے لیے بھی مطالبات نے زور پکڑ لیا ہے۔ ان نشریات کو بھی سنہ 2010 میں احتجاجی تحریک کے دوران معطل کردیا گیا تھا۔ صحافی نصیر احمد گنائی کہتے ہیں: ’حکومت نے خود اعلان کیا ہے کہ حالات ٹھیک ہوگئے ہیں۔ اب تو ٹی وی پر مقامی خبروں کی نشریات کو بحال کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ حکومت کو یہ اعلان بھی کرنا چاہیے۔‘

اسی بارے میں