ایمبیسیڈر کار اب نہیں بنے گی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پانچ دہائیوں سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد بھی اس کار کا ڈیزائن تقریباً ویسا ہی رہا جیسا کہ ابتدا میں تھا

بھارت میں کئی دہائیوں سے سرکاری افسران اور حکام کی پہچان سمجھی جانے والی ایمبیسڈر کار بنانے والی کمپنی نے اس کی پیداوار بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

ملک کی سب سے پرانی کار ساز کمپنی ہندوستان موٹرز نے کہا ہے کہ کولکاتہ کے نزدیک واقع کارخانے کو کم پیداوار، بڑھتے ہوئے قرض اور مانگ کی کمی کی وجہ سے بند کر دیا گیا ہے۔

کمپنی نے مغربی بنگال کے علاقے اترپاڑا میں واقع فیکٹری کے تمام ڈھائي ہزار مزدوروں کو بغیر کسی ادائیگی کے چھٹی دے دی ہے۔

ہندوستان موٹرز نے بمبئی سٹاک ایکسچینج کو لکھے گئے خط میں ’کم پیداوار، بے ضابطگیوں اور قرض میں اضافے اور سرمایہ کاری اور طلب میں کمی‘ کو پیداوار بند کرنے کی وجوہات قرار دیا ہے۔

ادارے کے ایک اعلیٰ اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’پیداوار غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی گئی ہے اور اس سے یہ بات یقینی طور پر ثابت ہو گئی ہے کہ کمپنی منافع نہیں کما پا رہی۔‘

طویل عرصے تک بھارت کی سڑکوں کی شناخت رہنے والی یہ کار دن بہ دن بازار میں نئی کاروں کی آمد کی وجہ سے مقابلے کی دوڑ سے باہر ہوتی جا رہی تھی۔

کمپنی نے مارچ 2014 میں ختم ہونے والے مالی سال میں صرف 2200 کاریں فروخت کیں۔

یہ کار پہلی مرتبہ 1957 میں فروخت کے لیے پیش کی گئی تھی اور اسے برطانوی کار مورس آکسفرڈ کی طرز پر بنایا گیا تھا۔

پانچ دہائیوں سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد بھی اس کار کا ڈیزائن تقریباً ویسا ہی رہا جیسا کہ ابتدا میں تھا۔

اس کار کی شناخت عام طور پر سیاستدانوں اور سرکاری حکام سے وابستہ رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ شدت پسندوں نے اس کا استعمال 2001 میں بھارتی پارلیمان پر ہونے والے حملے میں کیا تھا۔