نریندر مودی نے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تقسیمِ برصغیر ہند و پاک کے بعد پہلا موقع ہے جب پاکستان کا کوئی سربراہِ حکومت بھارت کے وزیرِ اعظم کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کر رہا تھا

بھارت کے پارلیمانی انتخابات میں سخت گیر دائیں بازو کی جماعت بی جے پی کی زبردست کامیابی کے بعد ان کے وزیراعظم کے عہدے کے نامزد امیدوار نریندر مودی نے پیر کی شام بھارت کے 15 ویں وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے۔

اس تقریب میں پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے علاوہ جنوبی ایشیائی میں علاقائی تعاون کی تنظیم سارک ممالک کے کئی سربراہان شریک تھے۔

151 بھارتی قیدی رہا، خیرسگالی کا اظہار؟

مودی کے اقتدار کو مسلم ملک کیسے دیکھ رہے ہیں؟

تقریب کے لیے تین ہزار لوگوں کو دعوت نامے بھیجے گئے تھے جس کی وجہ سے حلف برداری کا انتظام راشٹر پتی بھون کے سبزہ زار میں کیا گیا۔

اس موقع پر بھارت کے سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ، کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور نائب صدر راہل گاندھی سمیت ملک کی تقریباً پوری اعلیٰ قیادت موجود تھی۔ لیکن مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی، تمل ناڈو کی وزیراعلیٰ جیا للتا اور اڑیسہ کے وزیراعلیٰ نوین پٹنائک شریک نہیں ہوئے۔

نریندر مودی نے پارلیمانی انتخابات میں اپنی شاندار کامیابی کے بعد یہ واضح عندیہ دیا تھا کہ وہ حکومت کا سائز مختصر رکھیں گے۔ نئی کابینہ میں فی الحال صرف 23 وزرا ہوں گے۔

ان میں بی جے پی کے صدر راج ناتھ سنگھ، سابق صدر نتن گڈکری، سابقہ لوک سبھا میں حزب اختلاف کی لیڈر سشما سواراج اور راجیہ سبھا میں ان کے ہم منصب ارون جیٹلی سب سے نمایاں ہیں۔

سشما سوارج بی جے پی کے سب سے بزرگ رہنما لال کرشن اڈوانی کے بہت قریب مانی جاتی ہیں اور وہ نریندر مودی کو وزیراعظم کا امیدوار بنائے جانے، اور اس کے بعد ان کے کام کاج کے انداز سے کافی ناراض تھیں۔ انہوں نے کئی مرتبہ ٹوئٹر کے ذریعہ اپنی ناراضگی کا اظہار بھی کیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود انہیں وزیر خارجہ کا قلمدان سونپے جانے کا امکان ہے حالانکہ اس کا باقاعدہ اعلان اب سے کچھ دیر بعد کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نریندر مودی نے اپنے کریئر کی شروعات ہندو سخت گیر تنظیم آرایس ایس کے رضا کار کے طور پر کی تھی

ارون جیٹلی نریندر مودی کے بہت قریب مانے جاتے ہیں اور نئی حکومت وہ ’نمبر ٹو‘ کے طور پر ابھر کر سامنے آئیے ہیں حالانکہ وہ لوک سھا کا الیکشن ہار گئے تھے۔ وہ وزارت خزانہ کی ذمہ داری سنبھال سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر وزارت دفاع کی ذمہ داری بھی عارضی طور پر ان کے سپرد کی جا سکتی ہے۔

راج ناتھ سنگھ شمالی ریاست اتر پردیش کے سابق وزیراعلیٰ ہیں اور انھیں وزارت داخلہ سونپی جا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ کابینہ کی فہرست میں مینکا گاندھی بھی شامل ہیں جو واجپئی حکومت میں وزیر مملکت کے طور پرکام کر چکی ہیں۔ وہ راجیو گاندھی کے چھوٹے بھائی سنجے گاندھی کی بیوہ ہیں لیکن دونوں خاندانوں میں شدید ذاتی اور سیاسی اختلافات ہیں۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کابینہ میں چھ عورتیں شامل ہیں۔ مینکا گاندھی اور سشما سوارج کے علاوہ سمرتی ایرانی، اوما بھارتی اور نجمہ ہبت اللہ کو بھی کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پارٹی کی ترجمان نرملا سیتھارمن کو آزادانہ چارج کے ساتھ وزیر مملکت بنایا گیا ہے۔

نجمہ ہبت اللہ وزارتی کونسل کا واحد مسلم چہرہ ہیں، وہ مولانا ابوالکلام آزاد کی نواسی ہیں لیکن کانگریس پارٹی کے ساتھ لمبی وابستگی کے بعد وہ 2004 میں بی جے پی میں شامل ہوگئی تھیں۔

سمرتی ایرانی نے کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی کے خلاف امیٹھی سے الیکشن لڑا تھا اور اگرچہ وہ ہار گئی تھیں لیکن صرف ایک لاکھ ووٹوں سے اور مقابلہ اتنا سخت مانا جارہا تھا راہل گاندھی کو پہلی مرتبہ پولنگ کے دن بھی اپنے حلقے کا دورہ کرنا پڑا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان نے اپنے وزیر اعظم کے بھارتی دورے سے قبل خیر سگالی کے طور پر پاکستان میں قید 151 بھارتی ماہی گیروں کی رہائی کا اعلان کیا ہے

ہندوستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل وی کے سنگھ کو آزادانہ ذمہ داری کے ساتھ وزیر مملکت بنایا گیا ہے۔ وہ حکومت میں شامل ہونے والے فوج کے پہلے سابق سربراہ ہیں۔

ابھی کئی ریاستیں ایسی ہیں جنھیں وزارتی کونسل میں نمائندگی حاصل نہیں ہوئی ہے اور امکان یہ ہےکہ نریندر مودی کچھ دن بعد اپنی کونسل میں توسیع کر سکتے ہیں۔

پیر کی صبح نریندر مودی نے دارالحکومت دہلی میں راج گھاٹ کے مقام پر بھارت کے بابائے قوم مہاتما گاندھی کے مقبرے کے زیارت کی اور انھیں خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقعے پر ان کے ساتھ دہلی میں بی جے پی کے سرکردہ رہنما بھی ساتھ تھے۔

دارالحکومت دہلی میں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس سے قبل اس طرح کے سکیورٹی کے انتظامات دارالحکومت میں پہلے کبھی نظر نہیں آئے۔

اسی بارے میں