’مودی پاکستان سے کشیدگی کا خاتمہ چاہیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نریندر مودی نے بھارت کے 15 ویں وزیر اعظم کے طور پر پیر کو حلف اٹھایا

نریندر مودی کے وزیرِاعظم منتخب ہونے کے بعد سے بھارت کی ہندو نظریاتی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) ایک بار پھر سے بحث کا موضوع بن گئی ہے۔

نریندمودی زندگی بھر آر ایس ایس کے ایک فعال رکن رہے ہیں اور اس لیے ان کی سیاست پر سنگھ خاندارن کا اثر کیا ہوگا یہ سوال ان دنوں اکثر سننے میں آتا ہے۔

نریندر مودی کی زندگی پر تقریباً 27 برس قبل لکھی گئی والٹر اینڈرسن اور سری دھر داملے کی کتاب ’دی برادر ہوڈ ان سیفرن‘ کا شمار آج بھی آر ایس ایس پر ہونے والے بہترین تحقیقی کاموں میں کیا جاتا ہے۔

والٹر اینڈرسن سنہ 2003 تک امریکی وزارتِ خارجہ سے وابستہ رہے، وہ دہلی میں امریکی سفارت خانے میں بھی کام کر چکے ہیں اور اب واشنگٹن کی جان ہاپكنس يونیورسٹي میں جنوبی ایشیائی امور کے شعبے کے ڈائریکٹر ہیں۔

اینڈرسن اب اس کتاب کو نئے سرے سے لکھنے پر کام کر رہے ہیں۔ آر ایس ایس اور مودی پر ان کے متعلق ان کا کیا خیال ہے یہ جاننے کے لیے میں نے ان سے ورجینیا کےگریٹ فالس کے علاقے میں ان کی رہائش پر جا کر بات کی۔

سنگھ پریوار کیا ہے؟ اور اس کا مقصد کیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption موودی کی جماعت نے 543 کے ایوان میں 282 نشتیں حاصل کیں۔ وہ دو حلقوں سے میدان میں اترے اور دونوں میں کامیابی حاصل کی

اس تنظیم کا آغاز 1920 کے عشرے میں ہوا تھا اور اس کا قیام ایک طرح سے پہلی جنگِ عظیم کے بعد پیدا ہونے والے فرقہ وارانہ ماحول میں ہندوؤں کی حفاظت کرنے کے لیے ہوا لیکن پھر اس نے ایک ایسی تنظیم کی شکل اختیار کر لی جہاں ایک سوچ ابھری کہ نوجوانوں کے کردار کی تعمیر اور ڈسپلن کی زندگی کے ذریعے بھارت کو از سر نو کھڑا کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کی تقسیم کے اعلان کے بعد اس تنظیم کی پہچان تشدد پر یقین رکھنے والی بن گئی اور پاکستان کے اقلیتی ہندوؤں کی حفاظت کے لیے اس نے جارحانہ رخ اپنانے کی کوشش کی۔

جب تنظیم کے ایک رکن نے مہاتما گاندھی کو قتل کر دیا تو اس پر پابندی عائد کر دی گئی لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ قتل میں سنگھ کا کوئی کردار تھا یا نہیں۔

کیا دنیا میں اس طرح کی دوسری تنظیمیں ہیں جو آر ایس ایس کے متوازی ہوں؟

یہ کافی حد تک ہندوتوا کی بنیاد پر قائم تنظیم ہے اس لیے یہودیت، عیسائیت یا اسلام سے منسلک تنظیموں سے اس کا موازنہ مشکل ہے لیکن جاپان کی بدھ مت تنظیم ’ساكا گاكائي‘ کافی حد تک آر ایس ایس اور بی جے پی سے مماثلت رکھتی ہے۔

جب اس کا قیام عمل میں آیا تو یہ سوال بھارت میں بہت سے لوگوں کے ذہن میں تھا کہ ایسا کیوں ہے کہ ہزاروں میل دور بسا ایک چھوٹا سا ملک ہم پر حکومت کر رہا ہے۔

اس کے بانی ڈاکٹر ہیڈگیوار کا جواب تھا کہ بھارتی منقسم ہیں اس لیے ایسا ہوا ہے اور اس خلیج کو پر کرنے کے لیے انھوں نے ایک وسیع تربیت کے نظام کی بات کی جو بھارت کو منظم کر سکے۔ یہ تنظیم ذات پات کے نظام کے بھی خلاف رہی ہے۔

آج دنیا میں شاید ہی کوئی ادارہ ہو جس کی تنظیم اتنی مضبوط ہو۔ یہ تعلیم سے وابستہ ہے، قبائلیوں کی ترقی کے لیے کام کر رہ ہے، خواتین کے ساتھ کام کرتی ہے اور بھارت کی سب سے بڑی مزدور تنظیم اور طلبا یونین بھی انھی کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption نریندمودی زندگی بھر آر ایس ایس کے ایک فعال رکن رہے ہیں

سنہ 2014 کا سنگھ پریوار کتنا مختلف ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نریندر مودی کو انتخات میں پہلے کے مقابلے مسلمانوں کا زیادہ ووٹ ملا

ان کا فلسفہ وہی ہے اور نظام تربیت بھی وہی ہے لیکن بھارت کا سماجی ڈھانچہ کافی بدل گیا ہے اور انھیں ان تبدیلیوں کے ساتھ قدم ملانا پڑ رہا ہے۔ خاص طور سے اس بات کی فکر ہے کہ متوسط درجے کی جو نوجوان نسل ہے اگر انھوں نے ان کے مسائل کو نظر انداز کیا تو کہیں ان سے وہ دور نہ ہو جائیں۔

اس بار کے انتخابات میں مودی کے لیے جو جوش تنظیم کے کارکنوں میں نظر آیا اس سے اعلیٰ قیادت میں تشویش تھی کہ کہیں ان کا رحجان تنظیم کے کاموں کو چھوڑ کرصرف سیاسی سمت میں نہ ہو جائے۔

تنظیم کا جو دعائیہ ترانہ ہے ’نمستے سدا وتسلے ماتر بھامے‘ اس میں ہندو قوم پرستی کا ذکر ہے۔ بھارت میں یہی اصطلاحات اکثر لوگوں کو فکر مند کرتی ہیں۔

آر ایس ایس کا یہ ہندو راشٹر کیا ہے؟

اس کے کئی مطلب نکالے گئے ہیں لیکن تنظیم کے سابق سربراہ گولوالكر کی تعریف کافی حد تک 19 ویں صدی کی یورپی رومانٹک قومیت سے ملتی جلتی ہے۔

جس میں وطن پرستی یا مدرلینڈ کی بات ہوتی ہے۔ اس میں کافی حد تک ہندوتوا کی بھی جھلک ہے جہاں زمین معبود بن جاتی ہے لیکن یہ ایک طرح سے حب الوطنی کی شکل ہے اور مودی میں بھی اس کی جھلک ملے گی۔

نریندر مودی میں آپ کو آر ایس ایس کتنی نظر آتی ہے؟

یہ کافی مشکل سوال ہے کیونکہ گجرات میں سنگھ کے ساتھ ان کےتعلقات کافی کشیدہ رہے ہیں خاص کر تنظیم سے منسلک ہندو ادارہ وشو ہندو پریشد سے جو آر ایس ایس سے وابستہ اداروں میں کافی بنیاد پرست تصور کی جاتی ہے۔ میرا اندازہ ہے وہ یہ کہ مودی اپنے دل کی کرتے ہیں جب کہ آر ایس ایس اجتماعیت پر یقین رکھتی ہے۔

آپ سب سے پہلے مودی سے کب ملے؟

جب نریندر مودی سنہ 1992 میں وہ واشنگٹن آئے تھے۔ تب میں بھارت سے لوٹا ہی تھا اور وہ ایک وفد کے رکن بن کر آئے تھے۔ جو مجھے یاد ہے وہ ایک سنجیدہ قسم کے انسان تھے اور بہت سوال پوچھتے تھے۔

گذشتہ سال جب آپ ان سے ملے تو کیا تبدیلی نظر آئی؟

یہ کہنا مشکل ہے لیکن جو مجھے دکھائی دیا کہ ان کی توجہ کام کو انجام دینے پر ہوتی ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ وہ کبھی چھٹی نہیں لیتے۔ جس کمرے میں ہماری ملاقات ہوئی وہ اپنی سادگی میں بالکل خانقاہ کی طرح نظر آتا تھا۔ ان کا بار بار کہنا تھا کہ ہمیں چین کی طرح کام کرنا چاہیے۔

امریکہ کے تعلق سے ان کی سوچ کیا ہے؟

ہم دونوں کے درمیان ویزا معاملے پر بات نہیں ہوئی کیونکہ وہ ایک حساس معاملہ تھا لیکن یہ طے ہے کہ ان کی توجہ امریکہ کی طرف نہیں جاپان، چین اور جنوب مشرقی ایشیا کی طرف تھی۔

ہندو قوم کا رجحان ہمیشہ سے مشرق کی طرف رہا ہے۔ 20ویں صدی میں بھی اس سوچ سے متاثر لوگ مطالعہ کے لیے جاپان کا رخ کرتے تھے۔ اندر کی سوچ یہ بھی رہی ہے کہ مغرب سے جو چیزیں آئیں، اسلام، عیسائی مذہب اور سرمایہ کاری وغیرہ ان سب نے مسئلہ پیدا کیا۔

اگر دیکھیں تو گذشتہ سالوں میں مودی نے سنگاپور، جاپان اور چین کا ہی دورہ کیا ہے اور وہ بھی کئی بار تو یہ اقتصادی اور ثقافتی پالیسی کی ملی جلی شکل ہوگی۔

اوباما انتظامیہ کو مودی کے حوالے سے آپ کا مشورہ کیا ہوگا؟

سب سے پہلے تو وہ جنوبی ایشیا پر ایک ٹھوس پالیسی مرتب کریں جو اب تک نظر نہیں آئی ہے۔ میری سمجھ سے رپبلكن انتظامیہ اور اس وقت کی وزیرِخارجہ كونڈو لیزا رائس کی سمجھ اس معاملے پر کافی اچھی تھی کہ بھارت کہاں فٹ بیٹھتا ہے۔ ہو سکتا ہے اگر ہلیری کلنٹن اگلی صدر بن جائیں تو رشتے بہتر ہوں گے کیونکہ وہ بھارت کو سمجھتی ہیں۔

مودی کو ویزا نہ دینے کا جو معاملہ تھا اس حوالے سے امریکہ سے کوئی غلطی ہوئی؟

دیکھیں اس وقت گجرات کے ساتھ مسئلہ تھا۔ یہ معاملہ کافی حد تک ہندو بمقابلہ عیسائی ٹکراؤ کا معاملہ بن گیا تھا۔ جو یہاں کے ایوینجیلکل كرسچن ہیں (جو عیسائی مذہب کی تبلیغ میں کافی جارحانہ رخ اختیار کرتے ہیں) وہ مودی سے کافی ناراض تھے اور انھوں نے ویزا نہ دینے کے لیے بہت دباؤ ڈالا۔ جو اس فیصلے کے خلاف تھے انھوں نے یہ بھی کہا کہ کسی عدالت میں ان کے خلاف الزام ثابت نہیں ہوا لیکن اس وقت تک یہ معاملہ سرکاری مشینری میں اتنا الجھ گیا کہ کسی کے لیے یہ فیصلہ تبدیل کرنا مشکل تھا۔ اوباما کی دعوت سے یہ معاملہ ختم ہو گیا ہے لیکن مودی کے من میں تلخی نہیں ہوگی ایسا نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارتی مسلمانوں کا شمار اب بھی سب سے غریب طبقوں میں کیا جاتا ہے

پاکستان کے تعلق سے مودی کا رخ کیا ہوگا؟

بی جے پی کا وزیرِاعظم پاکستان کے ساتھ مسائل کو حل کرنے میں ایک بہتر پوزیشن میں ہوتا ہے۔ کچھ حد تک یہ نکسن اور چین کی طرح کا معاملہ ہے۔ ان کی حب الوطنی پر کوئی انگلي نہیں اٹھا سکتا۔ وہ سچ مچ کچھ ایسا چاہتے ہیں جس سے پاکستان کے ساتھ کشیدگی ختم ہو۔

ان کے ایجنڈے پر سب سے اوپر کیا ہے؟

بل کلنٹن کے الفاظ کا استعمال کروں تو اکنامی سٹوپڈ۔ وہ سب کچھ معاشی ترازو پر تول كر دیکھیں گے اور پاکستان کے ساتھ کشیدگی اس مقصد کی راہ میں رکاوٹ بنےگی، اقتصادی صورت حال اور سرمایہ کاری پر اس کا برا اثر پڑے گا تو وہ کوشش کریں گے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں ایک استحکام آئے۔ کشمیر کو حل کرنا آسان نہیں ہوگا لیکن کوشش اس بات کی ہوگی کہ کوئی درمیان کا راستہ نکلے۔

نواز شریف کو دعوت کے فیصلے کوآپ کس طرح دیکھتے ہے؟

یہ بہت شاندار سفارتی قدم ہے۔ منموہن سنگھ سے میں کبھی اس کی امید نہیں کرتا تھا کیونکہ وہ سب کچھ ایک دائرے میں رہ کر کرتے تھے، سرکاری مشینری کی ہی سنتے تھے۔

مودی میں آپ دنیا کے کس لیڈر کی جھلک دیکھتے ہیں؟

ان میں سے کسی سے بھی مقابلہ مشکل ہے کیونکہ ثقافتی تناظر مختلف ہے۔ وہ اٹل بہاری واجپئی سے کافی متاثر ہیں اور دین دیال اپادھیائے کو ایک ہیرو مانتے ہیں۔ واجپئی کو بھی وہ انھی نظروں سے دیکھتے ہیں۔

مودی کے حوالے سے بھارت کے مسلمانوں میں جو خدشات ہیں کیا وہ صحیح ہیں؟

خدشات ہیں لیکن اگر دیکھیں تو پہلے کے مقابلے انھیں مسلمانوں کا کافی ووٹ ملا ہے۔ بھارتی مسلمانوں کا شمار اب بھی سب سے غریب طبقوں میں کیا جاتا ہے۔ انھیں اقتصادی ترقی کی سخت ضرورت ہے اور ان میں سے بہت سے ہیں جنھیں نوکری اور ترقی کا ایجنڈا پسند آیا ہے۔

وندے ماترم گانا، يونیفارم سول کوڈ کا نفاذ جیسے متازع معاملات پر مودی کیا کریں گے؟

مجھے نہیں لگتا وہ اسے بہت بڑا مسئلہ بنائیں گے لیکن نظریاتی طور پر وہ يونیفارم سول کوڈ کے حق میں ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ اس پر زور دیں گے کیونکہ یہ متنازع بن جاتا ہے اور بہت سے مسلمانوں کو یہ پسند نہیں آئےگا۔

جہاں تک دفعہ 370 کی بات ہے تو ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ کانگریس کی حکومتوں نے پہلے ہی سے اسے ایک طرف کر دیا ہے۔ سچ پوچھیں تو کشمیر آج کسی بھی دوسری بھارتی ریاست کی طرح ہے۔ مجھے لگتا ہے مودی بھی اسے علامتی طور پر آئین میں رہنے دیں گے کیونکہ اسے دور کرنے کی کوشش میں بہت ساری مشکلات پیدا ہوں گی۔

ان کے ایجنڈے میں بھارت کو ایک ہندو ملک بنانا کہاں تک شامل ہوگا؟

بہت اوپر نہیں ہوگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اقتصادی ترقی کو ہندو ایجنڈے کی طرح سے دیکھتے ہیں۔ دیگر ہندوں کی طرح وہ بھی بھارت کو ایک عظیم قوم کی طرح دیکھتے ہیں جو عالمی سطح پر ایک بڑا کردار ادا کر سکتی ہے۔گذشتہ دو سال میں عالمی پلیٹ فارم سے بھارت غائب نظر آیا ہے۔ وہ اقتصادی ترقی کے ذریعہ اسے تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں