نواز شریف اور نریندر مودی کی ملاقات جاری

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے کیے جانے والے جامع مذاکرات کا سلسلہ سنہ 2008 میں ممبئی حملوں کے بعد سے رکا ہوا ہے

پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف نے بھارت کے نو منتخب وزیرِاعظم نریندر مودی سے منگل کو ہونے والی اپنی ملاقات کو ایک اہم موقع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں حکومتیں مضبوط مینڈیٹ کی بدولت باہمی رشتوں میں ایک نئے دور کا آغاز کر سکتی ہیں۔

نواز شریف نے پیر کو نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی اور وہ آج یعنی منگل کو وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ملاقات کریں گے۔

بھارت کی نئی حکومت اور پاکستان سے تعلقات

نواز شریف نے بھارتی ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کی برکھا دت سے بات کرتے ہوئِے کہا کہ وہ باہمی تعلقات کو اُسی جگہ سے آگے بڑھانا چاہتے ہیں جہاں وہ سنہ 1999 میں ٹوٹ گئے تھے۔

خیال رہے کہ سنہ 1999 میں پاکستان میں نواز شریف اور بھارت میں اٹل بہاری واجپئی کی حکومت تھی۔

نواز شریف نے کہا ’یہ ملاقات ایک دوسرے کی طرف ہاتھ بڑھانے کا اچھا موقع ہے۔ دونوں حکومتوں کو عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی ہے اور اس سے باہمی رشتوں میں ایک نئے باب کا آغاز کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ میں نریندر مودی سے ملاقات کا منتظر ہوں۔‘

پاکستان کے وزیرِاعظم نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کو خطے میں استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

نواز شریف نے کہا کہ کسی بھی دو ممالک کے درمیان اتنی تاریخی اور ثقافتی مماثلت نہیں ہے جتنا پاکستان اور بھارت کے درمیان ہے، کیوں نہ اس مماثلت کو اپنا طاقت بنائیں۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کے بارے میں خدشات، بد اعتمادی اور شکوک و شبہات کو ختم کرنا چاہیے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہمیں اس خطے کو عدم استحکام اور سکیورٹی خدشات سے نکالنا چاہیے۔

یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے کیے جانے والے جامع مذاکرات کا سلسلہ سنہ 2008 میں ممبئی حملوں کے بعد سے رکا ہوا ہے۔

تجزیہ نگاروں کی عام رائے ہے کہ اس ملاقات سے زیادہ توقع نہیں رکھی جانی چاہیے کیونکہ دونوں رہنماؤں کی یہ پہلی ملاقات ہوگی اور حلف اٹھانے کے صرف ایک دن کے اندر نریندر مودی کوئی ایسا پیغام نہیں دینا چاہیں گے جس سے ایسا محسوس ہو کہ پاکستان کے ساتھ رشتوں کے تعلق سے وہ اپنے سخت گیر موقف میں نرمی یا لچک لا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اٹل بہاری واجپئی اور نواز شریف نے سنہ 1999 میں ’اعلانِ لاہور‘ پر دستخط کیے تھے جس کے مطابق دونوں ملکوں نے جوہری جنگ کے خطروں سے بچنے کے طریقوں پر اتفاق کیا تھا لیکن انھی دونوں رہنماؤں کے دور اقتدار میں دونوں نے جوہری آزمائشی دھماکے بھی کیے تھے۔

اسی بارے میں