ایران میں ’میرس‘ وائرس کے دو مریضوں کی تصدیق

Image caption اس وائرس کی کوئی حتمی وجہ تو معلوم نہیں کی جا سکی لیکن کہا جاتا ہے کہ اس کے سبب پہلی موت سعودی عرب میں 2012 میں ہوئی

ایران میں حکام نے پہلی بار ملک میں میرس وائرس سے دو افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق کی ہے۔

’مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم کوروناوائرس‘یا میرس وائرس سے سعودی عرب میں 175 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق صوبہ کرمن میں دو بہنوں میں میرس وائر پایا گیا ہے۔

ایرانی محکمۂ صحت کے مطابق ان میں سے ایک بہن کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جبکہ ایک ہسپتال میں زیرعلاج ہیں۔

عالمی سطح پر اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ میرس بھی سارس کی طرح بڑے پیمانے پر پھیل سکتا ہے۔

سعودی عرب جہاں اس وائرس کے نتیجے میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں وہاں آئندہ ماہ جون میں مسلمانوں کے مقدس ماہ رمضان کے دوران زائرین کی بڑی تعداد آئے گی جس سے وائرس کے پھیلنے کا خدشہ ہے۔

میرس کی زیادہ تر مریض مشرق وسطیٰ کے ممالک میں ہیں جن میں اردن، قطر، سعوی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فرانس، جرمنی، اٹلی، تیونس اور برطانیہ میں بھی کچھ ایسے لوگ اس کا شکار ہوئے ہیں جنھوں نے مشرق وسطیٰ کا سفر کیا تھا۔