ڈاکٹروں کو واضح نسخے لکھنے کی ہدایت

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption واضح لکھائی کے باعث مریض اور کیمسٹ دونوں انہیں سمجھ سکیں اور مریضوں کو غلط دوائی دیے جانے کا خطرہ ختم کیا جا سکے گا

اگر ڈاکٹر کا نسخہ ہاتھ میں لےکر آپ کو اور آپ کے کیمسٹ کو یہ سمجھنے میں مشکل ہوتی ہو کہ یہ کس زبان میں لکھا گیا ہے، تو آپ کے لیے اچھی خبر ہے۔

انڈین جریدے جرنل آف فارماکالوجی کے مطابق جنوبی ریاست تمل ناڈو میں ایک سروے سے معلوم ہوا کہ پانچ میں سے صرف ایک ڈاکٹر کا نسخہ آسانی سے پڑھا جا سکتا ہے اور بہت سے نسخوں میں نہ بیماری کی پوری تفصیلات شامل ہوئی ہیں اور نہ دوا کی۔

طبی ماہرین کے مطابق باقی ملک میں بھی صورتحال زیادہ مختلف نہیں ہے۔

اس پس منظر میں انڈیا کی وفاقی حکومت نے میڈیکل کونسل کی اس سفارش کو منظور کر لیا ہے کہ ڈاکٹروں کے تمام نسخے ’بلاک لیٹرز‘ یا بڑے حروف میں لکھے جائیں تاکہ مریض اور کیمسٹ دونوں انہیں سمجھ سکیں اور مریضوں کو غلط دوا دیے جانے کا خطرہ ختم کیا جا سکے۔

میڈکل کونسل آف انڈیا کی صدر ڈاکٹر چے شیری بین مہتا کہتی ہیں کہ ڈاکٹروں کی خراب عبارت کے قصے کسی سے چھپے نہیں ہیں۔’ میں خود ڈاکٹر ہوں اور میں نے دیکھا ہے کہ مریضوں کو میرے لکھے ہوئے نسخے بھی سمجھنے میں دشورای ہوتی تھی اور بہت سے ڈاکٹروں کی عبارت تو ایسی ہوتی ہے کہ کیمسٹ کو اندازے سے ہی دوائی دینی پڑتی ہے، ہم اس صورتحال کو بدلنا چاہتے تھے۔‘

اس سلسلے میں جلد ہی ہدایات جاری کر دی جائیں گی۔

ڈاکٹر مہتا کہ مطابق مشکل سے پڑھے جانے والے نسخوں کے خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں کیونکہ بہت سی دوائیوں کے نام ایک سے ہوتے ہیں۔

مشرقی ریاست بہار کے سنجے سینی کو اس کا بخوبی احساس ہے۔ ان کے چھوٹے بھائی کو پرانی ٹی بی تھی، ڈاکٹر نے سینے میں جلن کے لیے دوائی لکھی لیکن کیمسٹ سے پڑھنے میں غلطی ہوگئی اور اس نے نیند کی دوائی دے دی۔

’جو دوائی لکھی گئی تھی، کیمسٹ نے اس کے بجائے دوسری دوائی دے دی جس کا نام ذرا مختلف تھا، ہم ان پڑھ لوگ ہیں، ہمیں فرق پتہ نہیں چلا اور ہمارا بھائی تین مہینے تک غلط دوائی کھاتا رہا۔ دن میں تین مرتبہ۔۔۔ اس کی حالت بگڑتی گئی اور وہ پھر سنبھل نہیں سکا۔‘

ظاہر ہے کہ ہر غلطی اتنی خطرناک ثابت نہیں ہوتی لیکن ماہرین مانتے ہیں کہ دیہی علاقوں میں صورتحال کہیں زیادہ خراب ہے۔ ایک تو وہاں تعلیم اور بیداری کی کمی ہے اور دوسرے کیمسٹ کی دکانوں پر غیر تربیت یافتہ ملازم دوائیاں دیتے ہیں۔

ڈاکٹر ماجد علیم خان دلی کے نواحی علاقے گریٹر نوائڈا میں پریکٹس کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’گھسیٹا‘ نسخے لکھنے کی عادت زمانہ طالب علمی میں ہی پڑ جاتی ہے۔ ’میڈکل کالج میں آپ کا نسخہ ایک ہی سرکاری ڈسپنسری میں جاتا ہے جہاں گنی چنی دوائیاں ہوتی ہیں اور فارماسسٹ آسانی سے سمجھ لیتا ہے، اس لیے ڈاکٹر دوائی لکھتے وقت زیادہ پرواہ نہیں کرتے، کبھی کبھی کوڈ بھی استمعال کرنے لگتے ہیں۔۔۔ لیکن جب وہ باہر پریکٹس شروع کرتے ہیں تو مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔‘

ڈاکٹر مہتا کہتی ہیں کہ یہ صرف پہلا قدم ہے۔ ’اس کے بعد ہم کوشش کریں گے کہ نسخے مقامی زبان میں لکھے جائیں، کیونکہ ضروری تو نہیں کہ ہر مریض کو انگریزی آتی ہو، اور نسخے میں واضح اور مکمل ہدایات شامل ہونی چاہیئں کہ دوائی کب اور کتنی مقدار میں لینی ہے، کیسے کھانی ہے اور اس کے کیا منفی اثرات ہوسکتے ہیں۔‘

لیکن سوال یہ ہے کہ جب کوئی ایسا نسخہ کیمسٹ کے سامنے آتا ہے جسے سمجھنا آسان نہ ہو تو ان پر کیا گزرتی ہے؟ ڈاکٹر آشیش سود جنوبی دلی میں اپنا میڈکل سٹور چلاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’آجکل موبائل فون کی وجہ سے زندگی کافی آسان ہوگئی ہے، ہم فون کرکے ڈاکٹر سے ’جینیرک‘ یا بنیادی ڈرگ کا نام معلوم کر لیتے ہیں لیکن جو ڈاکٹر بہت مصروف ہیں وہ کافی برا مانتے ہیں کہ انہیں ایک دوائی کے لیے کیوں پریشان کیا جارہا ہے۔‘

ڈاکٹر سود کہتے ہیں کہ زیادہ تر غلطیاں خطرناک نہیں ہوتیں لیکن مسئلے کا بہترین حل یہ ہے کہ ڈاکٹر نسخوں کے لیے کمپیوٹر استمعال کریں تاکہ ان کے پاس مریض کا پورا ریکارڈ بھی رہے اور نسخہ پڑھنے میں غلطی کا امکان بھی ختم ہو جائے۔

عام تاثر یہ ہے کہ بہت سے ڈاکٹر، اور خاص طور پر وہ جو سرکاری ہسپتالوں میں کام کرتے ہیں، اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ جلدبازی میں ’گھسیٹا‘ مارنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا۔

لیکن سنجے سینی کہتے ہیں کہ وجہ کچھ بھی ہو ڈاکٹروں کو جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیے کیونکہ ’یہ کسی کی زندگی کا سوال ہے۔‘

اسی بارے میں