زیادتی و قتل: پولیس افسر سمیت تین گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لڑکیاں منگل کی شام اپنے گھر سے غائب ہوئی تھیں اور ان کی لاشیں بدھ کی صبح آم کے ایک پیڑ سے لٹکی ہوئی ملیں

بھارت کی شمالی ریاست اترپریش کے بدایوں ضلع میں دو کمسن لڑکیوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کے سلسلے میں ایک پولیس افسر سمیت تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

اترپریش میں حکام کا کہنا ہے کہ انھیں اس واقعے سے متعلق ایک مشتبہ شخص اور ایک پولیس کانسٹیبل کی تلاش ہے ۔

پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ان لڑکیوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور انھیں لٹکا کر پھانسی دینے سے موت واقعہ ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

یہ واقعہ ضلع کے کٹرا شہادت گنج گاؤں میں پیش آیا۔ لڑکیوں کی عمر 14 اور 15 سال تھی اور وہ رشتے کی بہنیں تھیں۔ان کا تعلق ایک ایسے طبقے سے بتایا جاتا ہے جنھیں نچلی ذات سے کہا جاتا ہے۔

پولیس کے مطابق لڑکیاں منگل کی شام اپنے گھر سے غائب ہوگئی تھیں اور ان کی لاشیں بدھ کی صبح آم کے ایک پیڑ سے لٹکی ہوئی ملیں۔

اس سے پہلے لڑکیوں کے لواحقین نے الزام لگایا تھا کہ پولیس نے منگل کو لڑکیوں کی گمشدگی کی رپورٹ لکھنے سے انکار کردیا تھا۔ اس سلسلے میں تین پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔

سینکڑوں مقامی لوگوں نے جائے وقوعہ پر پولیس کی طرف سے کارروائی نے کرنے پر خاموش احتجاج بھی کیا۔

مبصرین کا خیال ہے کہ بھارت میں ریپ کے واقعات کی روک تھام کے لیے قوانین سخت کیے گئے ہیں تاہم اس میں کمی نظر نہیں آ رہی ہے۔

واضح رہے کہ دسمبر سنہ 2012 میں دارالحکومت دہلی میں ایک چلتی بس میں اجتماعی ریپ کے واقعے میں ایک طالبہ کی موت کے بعد ملک بھر میں زبردست احتجاج کیا گیا تھا اور اسی کے نتیجے میں اس وقت موجود قانون میں مزید سختی کی گئی تھی۔

اسی بارے میں