بھارت: دو کمسن لڑکیوں کی لاشیں درخت پر لٹکی ہوئی ملیں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت میں ریپ کے واقعات کی روک تھام کے لیے قوانین سخت کیے گئے ہیں تاہم اس میں کمی نظر نہیں آ رہی ہے

بھارت کی شمالی ریاست اترپریش کے بدایوں ضلع میں دو کمسن لڑکیوں کی لاشیں درخت سے لٹکی ہوئی ملی ہیں اور مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ قتل کرنے سے پہلے ان کے ساتھ اجتماعی ریپ کیا گیا تھا۔

یہ واقعہ ضلع کے کٹرا شہادت گنج گاؤں میں پیش آیا۔ لڑکیوں کی عمر 14 اور 15 سال تھی اور وہ رشتے کی بہنیں تھیں۔

ان کا تعلق ایک نام نہاد نچلی ذات سے بتایا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق لڑکیاں منگل کی شام اپنے گھر سے غائب ہوگئی تھیں اور ان کی لاشیں بدھ کی صبح آم کے ایک پیڑ سے لٹکی ہوئی ملیں۔

اس سلسلے میں تین پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک کو حراست میں بھی لے لیا گیا ہے۔

پولیس کا دعوی ہے کہ اصل ملزم کو بھی گرفتار کر لیاگیا ہے جبکہ دو ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

سپرنٹنڈنٹ آف پولیس مان سنگھ چوہان کےمطابق مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ پولیس نےگذشتہ شام لڑکیوں کی گمشدگی کی رپورٹ لکھنے سے انکار کردیا تھا۔

مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ لڑکیوں کے ساتھ اجتماعی ریپ کیا گیا لیکن ابھی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ نہیں آئی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں ریپ کے واقعات کی روک تھام کے لیے قوانین سخت کیے گئے ہیں تاہم اس میں کمی نظر نہیں آ رہی ہے۔

واضح رہے کہ دسمبر سنہ 2012 میں دارالحکومت دہلی میں ایک چلتی بس میں اجتماعی ریپ کے واقعے میں ایک طالبہ کی موت کے بعد ملک بھر میں زبردست احتجاج کیا گیا تھا اور اسی کے نتیجے میں اس وقت موجود قانون میں مزید سختی کی گئی تھی۔

اسی بارے میں