کمزور طبقے کو کچلنے کے لیے ریپ کا ارتکاب

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دوسری ذات کے لوگوں کے ذریعے دلتوں کوجنسی طور پر زدو کوب کیے جانےکا ایک طویل سلسلہ ہے

بھارت کی ریاست اتر پردیش ان دنوں بدایوں ضلع ریپ کے ایک انتہائی دردناک واقعہ کے سبب عالمی خبروں میں ہے ۔

گذشتہ دنوں یہاں ایک گاؤں کے کچھ با اثر لوگوں نے دو کمسِن دلت لڑکیوں کے اجتماعی ریپ کے بعد ان کے رشتے داروں کو دہشت زدہ کرنے کے لیے انھیں قتل کر کے ایک درخت سے لٹکا دیا ۔

ریپ سے قتل تک کا یہ خوفناک سلسلہ کئی گھنٹے تک چلا اور اس درمیان بچیوں کے والدین مقامی پولیس کے سامنے اپنی معصوم ییٹیوں کو تلاش کرنے کی فریاد کرتے رہے لیکن پولیس نے ان کی مدد کرنے کے بجائے مبینہ قاتلوں کی مدد کی۔

ان با اثر لوگوں کا خوف اتنا زیادہ تھا کہ ان کی گرفتاری کے دو روز بعد بھی بچیوں کے والدین میڈیا کے سامنے اپنی بچیوں کے ریپ کرنے والوں اور ان کے قاتلوں کا نام لینے کی جسارت نہیں کر پا رہے تھے۔اس واقعہ کے میڈیا میں آتے ہی پولیس حرکت میں آ گئی اور پولیس والوں سمیت سب ہی ملزماں کو گرفتار کر لیا گیا۔

اس واقع کو میڈیا نے شاید بہت شدت سے اس لیے دکھایا کیونکہ اتر پردیش میں جو حکومت ہے وہ مودی کی حکومت کے خلاف ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بدائیوں ریپ کیس کو میڈیا نے بڑی توجہ دی جس کے بعد پولیس حرکت میں آئی

اگر مجرموں کے حوصلے ریاستی انتظامیہ کی بے حسی اور لاقانونیت کے سبب بڑھیں ہیں تو میڈیا بھی مودی نوازی کے کلمے پڑھ رہا ہے۔ لیکن ان سب کے درمیان سب سے تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ آزادی کے 65 برس بعد بھی دلتوں کے خلاف سنگین جنسی جرائم کے واقعات نہ صرف تسلسل کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں بلکہ ان عناصر کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہے اور یہ بے خوف و خطر اتراتے پھر رہے ہیں۔ دلتوں کے سلسلے میں پولیس اور انتظامیہ کا رویہ انتہائی غیر ذمےدرانہ اور اکثر مخالفانہ رہتا ہے۔

بھارت میں ریپ اور جنسی جرائم کمزور طبقوں کو کچلنے اور اپنا اثر و رسوخ مسلط کرنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔جنسی حملے خواتین کے بارے میں بھارتی معاشرے میں عمومی سوچ کے بھی عکاس ہیں۔ دلتوں کو دوسری ذات کے لوگوں کے ذریعے جنسی طور پر زدو کوب کیے جانےکا ایک طویل سلسلہ ہے۔

ڈیڑھ برس قبل دلی میں میڈیکل کی ایک طالبہ کے ریپ اور قتل کے واقعے نے ملک کے اجتماعی شعور کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ریپ اور جسنی حملوں کی سزاؤں کو بہت سخت کر دیا گیا اور پورے ملک میں اس طرح کے واقعات کی سماعت اور مجرموں کو جلد از جلد سزائیں دینے کے لیے تیز رفتار عدالتیں بنائی گئیں۔

کئی واقعات میں موت کی سزا بھی سنا‏ی گئی۔ یہ امید کی جا رہی تھی کہ ان اقدامات سے ریپ کے واقعات میں کمی آئے گی لیکن اس کے بعد سے اکیلے دلی میں ریپ کے واقعات میں دو گنا اضافہ ہو چکا ہے۔

اس برس کے ابتدائی چار مہینوں میں دارالحکومت دلی میں ریپ کے روز آنہ اوسطاً پانچ واقعات درج کیے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ریپ کے بیشتر واقعات میں جنسی حملے کا نشانہ غریب اور کمزور طبقوں کی خواتین ہوتی ہیں

ریپ کے بیشتر واقعات میں جنسی حملے کا نشانہ غریب اور کمزور طبقوں کی خواتین اور بچیوں کو بنایا جاتا ہے۔ اتر پردیش ، بہار ، راجستھان ، اُڑیسہ اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں میں دلت اور قبائلی بیشتر واقعات میں ان کی رپورٹ بھی درج نہیں کرائیں گے ۔اس کا پہلا سبب تو یہ ہے کہ علاقے کے بااثر اور متمول افراد کے خلاف منھ کھولنے کی جرات کرنا ایک انتہائی مشکل کام ہے اور دوسرے یہ کہ پولیس اور مقامی انتظامیہ اکثر ملزموں کا ہی ساتھ دیتی ہے۔

دلی اور ممبئی جیسے بڑے بڑے شہروں میں تو پولیس اور انتظامیہ کی کارکردگی ہمیشہ میڈیاکی نظروں میں رہتی ہے اس لیے یہاں تو انصاف ملنے کی توقع کی جا سکتی ہے لیکن بھارت کی مختلف ریاستوں میں وہی صورتحال ہے جو بدایوں کی ہے۔

مقامی سیاسی جماعتوں ، انتظامیہ اور پولیس کا جو رویہ ہے اور ذیلی عدالتوں میں سماعت کا جو نظام ہے ان کے پیش نظر اس صورتحال میں کسی بڑی تبدیلی کی کوئی امید نہیں کی جا سکتی۔

کچھ دن پہلے جب مبئی کی ایک عدالت نے ایک عادی مجرم کو جو کئی بار ریپ کا ارتکاب کر چکا تھا موت کی سزا سنائی تو اتر پردیش کے سینیئر سیاسی رہنما اور سابق وزیر اعلی ملائم سنگھ یادو نے موت کی سزا کی محالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’لڑکے ہیں لڑکوں سے غلطی ہو جاتی ہے تو کیا انہیں موت کی سزا دی جانی چاہیئے ‘۔

اسی بارے میں