کمسن لڑکیوں کا قتل، تفتیش وفاقی حکومت کرے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وزیر اعلیٰ کو ذرائع ابلاغ اور عام لوگوں کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا

بھارتی ریاست اتر پردیش کے وزیرِاعلیٰ نے سفارش کی ہے کہ دو لڑکیوں کے ساتھ مبینہ اجتماعی ریپ کے بعد درخت سے لٹکا کر قتل کرنے کے واقعے کی تفتیش وفاقی سطح پر ہونی چاہئیے۔

وزیرِاعلیٰ کا یہ اقدام شدید عوامی رد عمل اور دباو کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔ یاد رہے کہ اس معاملے میں اب تک تین مشتبہ ملزموں اور دو پولیس اہلکاروں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ یہ واقعہ جمعے کو ریاست کے ضلع بدایوں کے كٹرا گاؤں میں پیش آیا تھا اور دونوں رشتہ دار لڑکیوں کی لاشیں ایک درخت کے ساتھ لٹکی ہوئی ملی تھیں۔

یہ دونوں نابالغ لڑکیاں چچا زاد بہنیں تھی اور ان میں سے ایک کی عمر 14 اور دوسری کی 15 سال تھی۔ملزمان نے مبینہ طور پر ریپ کے بعد دونوں لڑکیوں کو آم کے درخت پر لٹکا دیا جس سے ان کی موت ہو گئی۔

اتر پردیش کے وزیراعلیٰ اکھیلیش یادو کے دفتر نے سنیچر کو بتایا ہے کہ بچیوں کے خاندان کے مطالبے کو مانتے ہوئے وزیرِاعلی نے وفاقی حکومت سے سفارش کی ہے کہ وہ اس واقعے کی تفتیش کرے۔

یاد رہے کہ اس سفارش سے قبل وزیر اعلیٰ کو اس وقت ذرائع ابلاغ اور عام لوگوں کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جب انھوں نے ایک خاتون صحافی کا اس وقت مذاق ازیای تھا جب اس نے اُن سے پوچھا کہ اجتماعی جنسی زیادتی یا گینگ ریپ کے واقعات میں اتنا اضافہ کیوں ہو گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مشتعل گاؤں والوں نے آٹھ گھنٹے کے بعد کارروائی کی یقین دہانی پر پولیس کو درخت سے لاشیں اتارنے دی تھیں

وزیر اعلیٰ نے خاتون صحافی کے سوال کے جواب میں کہا تھا ’تم تو محفوظ ہو۔ تمہیں کیا مسئلہ ہے؟‘

سنیچر کو وزیرِاعلیٰ کے دفتر سے جاری ہونے والا بیان حکومت کے اس وعدے کے بعد کہ دونوں بچیوں کے مبینہ گینگ ریپ اور قتل کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی عدالت تشکیل دی جائے گی جو اس مقدمے کا فیصلہ ہنگامی بنیادوں پر کرے گی۔

اس سے قبل بھارت کی وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے بتایا تھا کہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے شمالی ریاست اترپریش میں دو لڑکیوں کے ساتھ مبینہ اجتماعی ریپ کے بعد درخت سے لٹکا کر قتل کرنے کے واقعے کی اترپردیش حکومت سے واقعے کی رپورٹ طلب کی ہے۔

اجتماعی جنسی زیادتی کے واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپوزیشن پارٹی بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی نے اترپردیش میں صدر راج کا مطالبہ کر چکی ہیں۔

مایاوتی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ واقعہ ریاست میں پھیلے ’جنگل راج‘ کا ثبوت ہے جبکہ حکومت قانون قائم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

واضح رہے کہ واقعہ سے مشتعل گاؤں والوں نے آٹھ گھنٹے کے بعد مناسب کارروائی کی یقین دہانی کے بعد پولیس کو درخت سے لڑکیوں کی لاشیں اتارنے دی تھیں۔

مرکز میں نئی حکومت قیام کے چوتھے دن ہی اس واقعے سے پیدا ہونے والی غم و غصے اور اشتعال کے چیلنج کا سامنا کرتی نظر آ رہی ہے۔

غور طلب ہے کہ حکمران سماج وادی پارٹی کے رہنما ملائم سنگھ یادو نے انتخابی مہم کے دوران عصمت دری کے لیے موت کی سزا کی فراہمی پر کہا تھا کہ لڑکوں سے غلطی ہو جاتی ہے اس کے لیے انھیں کیا پھانسی پر لٹكائےگے؟

دسمبر 2012 میں دہلی میں طالبہ کے ساتھ اجتماعی ریپ کے واقعے کے بعد جنسی زیادتی سے متعلق قوانین میں تبدیلی کی گئی تھی۔

دہلی میں اتر پردیش کی حکومت کے دفتر کے باہر انسانی حقوق کی تنظیموں، طالب علم تنظیموں اور کئی دیگر سماجی تنظیموں نے جمعے کو مظاہرہ بھی کیا تھا۔ اس کے علاوہ سماجی کارکنوں نے انتظامیہ اور حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جنسی تشدد کے معاملات سے نمٹنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کر رہی۔

اسی بارے میں