ریپ کی سب سے بڑی وجہ کھلے میں رفع حاجت؟

بدائیوں تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کھلے میں رفع حاجت کے لیے نکلنے والی خواتین جنسی تشدد کا زیادہ شکار بنتی ہیں

اتر پردیش کے بدایوں ضلع میں دو لڑکیوں کا پہلے ریپ اور اس کے بعد ان کے قتل کا واقعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت میں بنیادی سہولیات اور دیہاتوں میں بیت الخلا کی کمی کی سب سے بڑی شکار خواتین کس طرح ہوتی ہیں۔

اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ دونوں نابالغ لڑکیاں اپنے گھر سے رفع حاجت کے لیے نكلي تھیں اور اس کے بعد لاپتہ ہوئیں۔

بھارت کے تقریباً نصف ارب لوگوں کو بیت الخلا کی سہولت نہ ہونے کے سبب کھلے میں رفع حاجت کے لیے جانا پڑتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف کے اعداد و شمار کے مطابق گاؤں میں صورت حال اور بھی خراب ہے۔ دیہی علاقوں میں 65 فیصد لوگ کھلے میں رفع حاجت کرتے ہیں۔ ان میں شامل خواتین کو تشدد اور جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ وہ رفع حاجت کے لیے منہ اندھیرے یا پھر دیر دن ڈھلنے کے بعد نکلتی ہیں جب سناٹا ہوتا ہے۔

اس سلسلے میں کی جانے والی تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ بیت الخلا کی غیر موجودگی میں کھلے میں رفع حاجت کے لیے نکلنے والی خواتین جنسی تشدد کا زیادہ شکار بنتی ہیں۔

بہار کے ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ گزشتہ سال 400 خواتین ریپ کا شکار ہونے سے بچ سکتی تھیں، اگر ان کے گھر میں بیت الخلا ہوتا۔

غریب لوگوں کا مسئلہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارت میں تقریباً تیس کروڑ عورتوں کو رفع حاجت کے لیے کھلے میں جانا پڑتا ہے۔

2011 میں کرائے گئے ایک سروے میں کہا کہ جھگی جھونپڑیوں میں رہنے والی خواتین میں 10 سال سے کم عمر کی لڑکیاں عوامی بیت الخلا کے استعمال کے دوران ریپ کا شکار ہوتی ہیں۔

جھگی جھوپڑی میں رہنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ کھلے میں رفع حاجت کے لیے جانے پر مقامی لڑکے انہیں گھورتے ہیں، ان پر پتھر پھینکتے ہیں، فحش باتیں کرتے ہیں اور کئی بار ریپ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس سروے کے دوران ایک خاتون نے بتایا، ایک بار اپنی بیٹی کو ریپ سے بچانے کے لیے انھیں ایسے لوگوں سے لڑائی کرنی پڑی جو انھیں قتل تک کرنے پر آمادہ تھے۔

ایک اندازے کے مطابق، بھارت کی تقریباً 30 کروڑ خواتین اور لڑکیاں کھلے میں رفع حاجت کرنے پر مجبور ہیں ان میں سے زیادہ تر غریب خاندانوں کی خواتین ہوتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بدایوں میں تشدد کی شکار دونوں نابالغ لڑکیاں انتہائی پسماندہ کمیونٹی کی تھیں۔

واٹر ایڈ کی چیف ایگزیکٹو باربارا فراسٹ نے اس مسئلہ پر کہا، ’یہ خوفناک بات ہے کہ بیت الخلا کی غیر موجودگی میں خواتین اور لڑکیوں کو کتنے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘۔

وزیر اعظم کی ترجیح؟

Image caption کئی مقامات پر کمیونٹی ٹوائلٹ کامیاب رہے تو کئی مقامات پر ناکام رہے۔

فراسٹ کہتی ہیں، ’غریب خاندان کی خواتین اور لڑکیوں کو بیت الخلا کی سہولت مہیا کی جانی چاہئے، وہ بھی ترجیحی بنیاد پر‘

زیادہ تر ماہرین کا خیال ہے کہ خواتین کو ذہن میں رکھتے ہوئے بھارت میں بیت الخلا کی دستیابی کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔

کئی مقامات پر کمیونٹی ٹوائلٹ کامیاب رہے تو کئی مقامات پر ناکام رہے۔

مثال کے طور پر بھوپال میں کمیونٹی ٹوائلٹ کی گھر سے زیادہ فاصلے پر ہونے کی وجہ سے لوگ ان کا استعمال نہیں کرتے۔

اگرچہ یہ صرف بھارت کا مسئلہ نہیں ہے کینیا اور یوگینڈا جیسے ممالک میں کھلے میں رفع حاجت کے لیے جانے والی خواتین یا پھر عوامی ٹوائلٹ کا استعمال کرنے والی خواتین کے ساتھ جنسی تشدد ہوتا ہے۔ لیکن سپرپاور بننے کا دعوی کرنے والے ملک میں بیت الخلا کی کمی تو شرمناک پہلو ہی ہے۔

بھارت کے نئے وزیر اعظم نریندر مودی نے وعدہ کیا تھا، ’پہلے ورلڈ کپ، پھر مندر‘ لیکن خواتین کی سکیورٹی کا کیا۔

اسی بارے میں