شکست کی خبر دینے پر ہٹا دیا گیا: راجیو مشرا

میرا کمار تصویر کے کاپی رائٹ LOKSABHA
Image caption لوک سبھا سیکریٹریٹ میں جو بھی فیصلہ ہوتا ہے وہ سپیکر کے حکم سے ہی ہوتا ہے: راجیو مشرا

لوک سبھا ٹی وی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر راجیو مشرا کو جمعہ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

راجیو مشرا کا کہنا ہے کہ کچھ لوگوں نے ان کو بتایا ہے کہ انہیں اس لیے ہٹایا گیا ہے کیونکہ انہوں نے عام انتخابات میں لوک سبھا سپیکر میرا کمار کے انتخاب ہارنے کی خبر نشر کی تھی۔

راجیو مشرا 16 دسمبر 2011 سے لوک سبھا ٹی وی کے سی ای او تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ راجیو مشرا کو ایسے وقت ہٹا دیا گیا ہے جب 15 ویں لوک سبھا تحلیل ہو چکی ہے اور سپیکر میرا کمار کی مدت ختم ہونے والی ہے۔

نئی لوک سبھا چھ جون کو نئے سپیکر کا انتخاب کرے گی۔

راجیو مشرا نے بی بی سی سے کہا ’مجھے کچھ نہیں بتایا گیا لیکن لوک سبھا انفرانیٹ ویب سائٹ پر ایک نوٹیفكیشن ڈالا گیا ہے۔ اب نیا سپیکر آنا ہے اس لیے میں بھی حیران ہوں۔ تقرری کا ایک عمل ہے لیکن نکالنے کا بھی عمل ہے، مجھے نہیں پتہ کیا کیا گیا ہے۔‘

راجیو مشرا کا کہنا ہے کہ وہ لوک سبھا ٹی وی کے ملازمین سے مشورے کے بعد ہی آئندہ کا فیصلہ کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا ’ میری مدت 16 دسمبر 2011 سے 16 دسمبر 2013 تک تھی۔ اس کے بعد 17 دسمبر 2013 کو ایک نوٹیفكیشن آیا تھا اور میری مدت میرے کام کو دیکھتے ہوئے غیر معینہ مدت کے لیے بڑھا دی گئی تھی۔‘

تاہم ان کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ rajeev mishra wiki
Image caption لوک سبھا ٹی وی کے ملازمین سے مشورے کے بعد آگے کا فیصلہ کروں گا: راجیو مشرا

لوک سبھا سیکریٹریٹ سے 30 مئی کو جوائنٹ سیکریٹری اشوک کمار نے جو نوٹیفكیشن جاری کیا اس میں کہا گیا ہے کہ ’17 دسمبر 2013 کے نوٹیفكیشن کے تسلسل میں سپیکر نے لوک سبھا ٹی وی کے سی ای او راجیو مشرا کی ملازمت کی مدت 31 مئی 2014 تک محدود کر دی ہے‘۔

راجیو مشرا بتاتے ہیں کہ لوک سبھا سیکریٹریٹ میں جو بھی فیصلہ ہوتا ہے وہ سپیکر کے حکم سے ہی ہوتا ہے۔

بی بی سی نے جب اس بارے میں لوک سبھا کے سپیکر میرا کمار سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو پہلے ان کے ذاتی عملے نے بتایا کہ میڈم آج کسی سے بات نہیں کرنا چاہتیں اس کے بعد ان کے او ایس ڈی کے پی بليان نے کہا کہ راجیو مشرا کو نکالا نہیں گیا بلکہ ان کی ملازمت کی مدت ختم ہو گئی ہے۔

راجیو مشرا کہتے ہیں کہ سپیکر کا فیصلہ غیر منطقی ہے۔

انہوں نے دعوی کیا ’کچھ لوگوں نے مجھے کہا کہ بات یہ ہو رہی تھی کہ آپ نے الیکشن میں میرا کمار کے ساسارام سے ہارنے کی خبر کیوں دکھائی۔انکا کہنا تھا ’ہم نے وہ تبھی دکھائی تھی جب الیکشن کمیشن نے تصدیق کی تھی۔‘

پانچ بار ایم پی رہنے والی میرا کمار حال ہی میں بہار کے ساسارام حلقے سے لوک سبھا الیکشن ہار گئی تھیں۔ انہیں بی جے پی کے چھیدي پاسوان نے شکست دی تھی۔

لوک سبھا ٹی وی کے آپریشن کی ذمہ داری لوک سبھا سیکریٹریٹ کے حوالے ہے جو پارلیمان کے فنڈ سے اس کے خرچ کا انتظام کرتی ہے۔ یہ چینل صرف سرکاری وزارتوں اور سرکاری کمپنیوں سے اشتہارات لے سکتا ہے۔