گھر میں بیت الخلا نہ ہونے سے طلاق

تصویر کے کاپی رائٹ sulabh
Image caption سلبھ انٹرنیشنل ملک گیر پیمانے پر بیت الخلا کی تعمیر کے شعبے میں سرگرم ہے

بھارتی ریاست اتر پردیش کے بدایوں ضلعے میں بدھ کی شام دو چچازاد بہنوں کے ساتھ اجتماعی ریپ کے بعد ان کے قتل نے بہت سے سوالات اٹھائے ہیں جن میں بیت الخلا سب سے اہم ہے۔

کیونکہ دونوں بہنیں رفع حاجت کے لیے گھر کے پاس کے کھیت میں گئی تھیں جہاں ان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا۔

اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ بیت الخلا کس طرح خواتین کے تحفظ اور احترام سے منسلک ہے۔ بھارت میں، بطور خاص دیہی علاقوں میں اگر ہر گھر میں آج بھی بیت الخلا نہیں ہے تو اس کی ایک نہیں کئی وجوہات ہیں۔ سماجی مبصرین کا کہنا ہے کہ غربت اور زمین کی محرومی اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔

یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بیت الخلا کی تعمیر کے لیے چلائی جانے والی سرکاری سکیموں پر ایمانداری سے عمل نہیں ہو رہا ہے جبکہ دیہی علاقوں میں بیت الخلا بنانا اب بھی وہاں کے لوگوں کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔

بہر حال بیت الخلا کی کمی کے سبب ہونے والی پریشانیوں اور شرمندگی کے احساس کے تحت ملک کے مختلف حصوں میں خواتین گھر کے اندر ہی آواز اٹھا رہی ہیں اور ان کی جرات مندانہ اقدام سے نہ صرف ان کی زندگیاں بہتر ہو رہی ہیں بلکہ سماج میں دوسرے لوگوں کو بھی ہمت مل رہی ہے۔

گذشتہ ماہ بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں ایک منفرد معاملہ سامنے آیا۔ پٹنہ کے عدالت گنج علاقے میں رہنے والی پاروتی نے خواتین ہیلپ لائن میں طلاق کے متعلق درخواست دی۔

انھوں نے اپنے سسرال میں بیت الخلا نہیں ہونے کی وجہ سے ہونے والی روزمرہ کی پریشانیوں سے تنگ آکر ایسا کیا تھا۔

اس نادر معاملے کے سامنے آنے پر اس شعبے میں ملک گیر پیمانے پر اہم خدمات انجام دینے والے ادارے سلبھ انٹرنیشنل نے پاروتی کے حوصلے کی تعریف کرتے ہوئے پاروتی کے سسرال میں بیت الخلا بنانے اور ان کی عزت ا‌فزائی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

سلبھ انٹرنیشنل نے اعلان کے مطابق 30 مئی کو پاروتی اور اس کے سسرال والوں کو ایک تیار شدہ بیت الخلا تحفے میں دیا۔ اور 31 مئی کو پٹنہ میں پاروتی کو ’سلبھ صفائی اعزاز‘ سے نوازا گیا۔ اعزاز کے ساتھ پاروتی کو ڈیڑھ لاکھ روپے کا انعام بھی دیا گيا۔

Image caption پرینکا رائے ان خواتین میں شامل ہیں جنھوں نے بیت الخلا کی کمی کے سبب اپنا سسرال چھوڑ دیا تھا

بی بی سی نے پاروتی سمیت ایسی تین خواتین سے بات کی جنھوں نے اپنے اپنے سسرال میں بیت الخلا کے لیے آواز بلند کی اور آج سلبھ کے ساتھ مل کر ملک کے طول عرض میں بیت الخلا کے متعلق بیداری پھیلانے کا کام کر رہی ہیں۔

یہیں ایسی خواتین بھی تھیں جنھوں نے کمیونٹی ٹوائلٹ کے لیے زمین وقف کی ہے۔

اتر پردیش کے کشی نگر ضلع کے بھینساہا گاؤں میں پرینکا رائے کی شادی اپریل سنہ 2012 میں ہوئی تھی۔ سسرال میں بیت الخلا نہیں تھا۔ پانچ چھ دن بعد ہی انھوں نے اپنے شوہر سے بیت الخلا بنانے کے لیے کہا۔

پرینکا کہتی ہیں کہ انھوں نے ایک ماہ تک انتظار کیا لیکن جب بیت الخلا بننا شروع نہیں ہوا تو وہ جھگڑ کر اپنے میکے چلی آئیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے اس قدم سے گاؤں میں ہلچل سی مچ گئی اور پھر میڈیا کے ذریعے بات سلبھ تک پہنچی۔ اس کے بعد سلبھ کی طرف سے ان کے سسرال میں بیت الخلا بنایا گيا۔

پرینکا بتاتی ہیں کہ ان کے ’میکے میں بھی بیت الخلا نہیں تھا۔ پریشانی وہاں بھی تھی۔ سرکاری سکیموں کا فائدہ نہیں مل پایا تو بیت الخلا نہیں بنا۔ لیکن سسرال میں دلہن کے لیے کھیت میں رفع حاجت کے لیے کئی قسم کی پریشانیاں پیدا کرتا تھا۔‘

پرینکا آج وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہیں اور اس بہانے ملک اور بیرون ملک جا رہی ہیں۔ ان کو ہوائی جہاز سے سفر کا بھی موقع ملا ہے جس کے بارے میں بتانا وہ کبھی نہیں بھولتيں۔

پاروتی دیوی کی شادی پٹنہ کے بہٹا ڈویژن کے سديشوپور گاؤں میں ہوئی۔ شادی کے وقت انھیں یقین دلایا گیا تھا کہ سسرال میں بیت الخلا جلد ہی بن جائے گا۔ ایک سال سے زيادہ کی مدت گزر گئی لیکن ایسا نہیں ہوا۔

اس درمیان سسرال میں نئے گھر بنانے کا کام تو شروع ہوا لیکن بیت الخلا بنانے کی ان کی بات نہیں مانی گئی۔ اسی درمیان معدے کی بیماری کی وجہ سے ان کی پریشانی بڑھ گئی۔

دن میں کھیتوں میں بیت الخلا جاتے وقت لڑکے پھبتیاں کستے تھے۔ پھر تنگ آکر پاروتی نے سسرال چھوڑ دیا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ پرینکا سے مختلف نہیں۔

Image caption منو رانی نے بیت الخلا کے اپنی زمین عطیے میں دی جہاں گاؤں کا پہلا عارضی بیت الخلا تعمیر ہوا

بالی وڈ کی معروف اداکارہ ودیا بالن بیت الخلا سے متعلق ایک بیداری مہم کے اشتہار میں ایک پوسٹ آفس میں ایک خاتون کا تعارف کراتے ہوئے بتاتی ہے کہ ’دیکھیے یہ ہیں پرینکا بھارتی جنھوں نےبیت الخلا نہیں ہونے کی وجہ سے سسرال چھوڑ دیا تھا۔‘

وہی پرینکا اپنے بارے میں بتاتی ہیں کہ ’شادی سے پہلے میں کم از کم گھر میں کچّا بیت الخلا تو تھا لیکن سسرال میں وہ بھی نہیں تھا۔‘ سنہ 2007 میں ان کی شادی ہوئی لیکن رخصتی سنہ 2013 میں ہوئی اور وہ سسرال پہنچیں۔

روزانہ کی شرمندگی سے بچنے کے لیے انھوں نے پہلے دن سے ہی شوہر سے لے کر گھر کے تمام بڑے بزرگوں سے بیت الخلا بنانے کی بات کہی۔ لیکن کسی نے ان کی بات نہیں سنی تو چار دن بعد ہی میکے والوں کے ساتھ وہ اپنے گھر واپس چلی آئیں۔

پھر گاؤں میں بات پھیلی اور میڈیا میں بات آئی۔ شروعات میں میکے والوں نے بھی ان کے فیصلے پر ناراضگی ظاہر کی لیکن آج پرینکا اپنے اس حوصلے کی وجہ سے ہی اپنے پیروں پر کھڑی ہیں اور آج بی اے بھی کر رہی ہیں۔ تعلیم کو وہ خاندان کے تحفظ اور وقار کے لیے ضروری مانتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Atul Chandra BBC
Image caption ملک گیر پیمانے پر حکومت کی جانب سے اس سمت میں کئی قدم اٹھائے گئے ہیں لیکن ابھی تک ان کا فائدہ تمام طبقوں تک نہیں پہنچ سکا ہے

اتر پردیش کے بہرائچ ضلعے کے بھواني پور گاؤں کی منوراني یادو نے گاؤں میں کمیونٹی ٹوائلٹ بنانے کے لیے زمین عطیہ میں دی۔

واقعہ یہ تھا کہ ایک وزیر کی قیادت میں جب افسران گاؤں میں کمیونٹی ٹوائلٹ کے لیے زمین لینے آئے تو کوئی زمین دینے کے لیے تیار نہیں ہوا۔

ایسے میں حکام گاؤں سے بیت الخلا کی تعمیر کا منصوبہ واپس لے جانا چاہتے تھے۔ یہ بات جب منوراني کو پتہ چلی تو انھوں نے اپنی زمین دینے کا فیصلہ کیا۔ ان کی جانب سے وقف کی جانے والی تقریباً 1400 مربع فیٹ زمین پر ابھی چھ کمیونٹی ٹوائلٹ ہیں۔

تقریباً 100 گھروں والے بھواني پور گاؤں میں بننے والے یہ بیت الخلا پہلے ہیں جو کہ پلائی لکڑی کے عارضی بیت الخلا ہیں۔

اسی بارے میں