’قیدیوں کا تبادلہ افغان طالبان کی فتح ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اپنے بیٹے کی رہائی پر والدین نے خوشی کا اظہار کیا اور اطمینان کی سانس لی

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ انھیں گوانتانامو بے کے پانچ قیدیوں کی سکیورٹی کے بارے میں قطر سے ضمانت حاصل ہے۔

دوسری طرف افغان طالبان کے سربراہ ملا عمر نے ایک بیان میں امریکی فوجی کے بدلے پانچ طالبان رہنماؤں کی رہائی کو’ بڑی فتح‘ قرار دیا ہے۔

دوسری طرف افغانستان کی حکومت نے امریکہ کے طالبان سے قیدیوں کی تبادلے کے سمجھوتے پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

افغانستان کو قیدیوں کے تبادلے کے بعد اس سمجھوتے کے بارے میں اس وقت آگاہ کیا گیا۔

گوانتانامو کے پانچ افغان قیدیوں کے بدلے امریکی فوجی رہا

قیدیوں کے تبادلے پر امریکہ سے مذاکرات معطل: طالبان

2001 میں افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملے کے بعد طالبان کی حکومت ختم ہو گئی تھی اور اس کے بعد سے ملا عمر کبھی نظر نہیں آئے ہیں۔ ملا عمر کے بیان میں’مسلمان افغان قوم کو دل کی گہرائی سے مبارکباد دی گئی ہے۔‘

واضح رہے کہ یہ قیدی افغانستان سے ایک امریکی فوجی کی رہائی کے بدلے چھوڑے گئے ہیں۔

28 سالہ امریکی سارجنٹ بووی رابرٹ برگڈل کو تقریباً پانچ سال بعد طالبان کی قید سے رہائی ملی ہے اور انھیں امریکہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

وہ افغانستان سے جرمنی میں قائم امریکی ملیٹری ہسپتال کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔

امریکی فوجی کے بدلے امریکہ نے کیوبا کے جزیرے گوانتانامو بے سے پانچ افغان قیدیوں کو رہا کیا ہے اور انھیں قطر کے حوالے کیا ہے۔

واضح رہے کہ قطر نے قیدیوں کے اس تبادلے میں ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption برگڈل پانچ سال سے افغان طالبان کی قید میں تھے

حکام کا کہنا ہے کہ امریکی سارجنٹ برگڈل اچھی حالت میں ہیں اور وہ واحد امریکی فوجی ہیں جو افغان طالبان کے زیر حراست تھے۔

ان کے والدین نے کہا ہے کہ یہ خبر سن کر کہ ان کا بیٹا رہا ہو گیا ہے اب وہ ’مسرور اور مطمئن‘ ہیں۔

امریکی فوجی کی رہائی کے چند گھنٹوں بعد صدر براک اوباما نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ قطری حکومت نے امریکہ کو اطمینان دلایا ہے کہ ’وہ ہمارے قومی مفاد کے تحفظ کے لیے اقدام کرے گی۔‘

انھوں نے قیدیوں کے تبادلے میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے قطری حکام کا شکریہ بھی ادا کیا۔

کہا جاتا ہے کہ گوانتانامو بے سے رہا کیے جانے والے قیدی انتہائی سینیئر افغان جنگجؤ تصور کیے جاتے ہیں۔ معاہدے کے مطابق ایک سال تک وہ قطر سے باہر نہیں جا سکتے ہیں۔

گوانتانامو بے سے رہا کیے جانے والے قیدیوں میں محمد فضل، خیراللہ خیرخواہ، عبدالحق واثق، ملا نوراللہ نوری، اور محمد نبی قمری شامل ہیں۔

طالبان نے کہا ہے کہ وہ ان کی رہائی کا ’بڑی مسرت‘ کے ساتھ استقبال کرتے ہیں۔

صدر اوباما نے کہا ’ہر چند کے سرجنٹ برگڈل غائب ہو گئے تھے تاہم انھیں کبھی بھلایا نہیں گیا‘ اور ’امریکہ اپنے جنگی قیدیوں کی واپسی کے لیے پوری طرح سے پابند ہے۔‘

سنیچر کو وائٹ ہاؤس میں برگڈل کے والدین رابرٹ اور جینی بھی امریکی صدر کے ساتھ تھے۔ انھوں نے ان کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے ان کے بیٹے کی رہائی میں اپنا کردار نبھایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امریکی فوجی کو پانچ افغان قیدیوں کی رہائی بدلے میں رہا کیا گیا ہے

رابرٹ برگڈل نے کہا کہ رہائی کے بعد ان کے بیٹے کو ’انگریزی بولنے میں دقت پیش آ رہی تھی۔‘

حکام کا کہنا ہے کہ سرجنٹ برگڈل کو سنیچر کی شام خصوصی امریکی فورسز کے حوالے کیا گیا۔

ایک سینيئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جب سرجنٹ برگڈل ہیلی کاپٹر پر سوار ہو گئے تو انھوں نے پیپر پلیٹ پر ایس ایف لکھا گویا وہ یہ جاننا چاہ رہے تھے کہ آیا ہم سپیشل فور‎سز سے ہیں۔ جب پائلٹ نے کہا کہ ’ہاں ہم آپ کو بہت دنوں سے تلاش کر رہے تھے تو سرجنٹ پھوٹ پڑے۔‘

پینٹاگون کے مطابق بووی رابرٹ برگڈل مشرقی افغانستان کے صوبہ پکتی میں متعین تھے اور وہ افغانستان پہنچنے کے پانچ ماہ بعد ہی اپنے اڈے سے لاپتہ ہو گئے تھے۔

بووی رابرٹ برگڈل کی محفوظ بازیابی پر انعام بھی مقرر کیا گیا تھا۔

رواں سال فروری میں افغان طالبان نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ سے ساتھ قیدیوں کے تبادلے پر ہونے والے مذاکرات معطل کر دیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں