جیو اور جینے دو

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption نجمہ ہپت اللہ کو مودی کابینہ میں اقلیتی امور کا قلمدان ملا ہے

آئیے آج آپ کی ملاقات نجمہ ہپت اللہ سے کراتے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ انھیں ہندوستان میں قوم پرست بی جے پی کی نئی حکومت میں اقلیتوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، یہ تو کوئی تاریخ ساز کارنامہ نہیں۔

اس لیے بھی نہیں کہ وہ اس حکومت کا واحد مسلم چہرہ ہیں، اس میں بھی خود ان کی کوئی غلطی نہیں، بس اس لیے کہ عہدہ سنبھالنے کے چند ہی گھنٹوں کے اندر انھوں نے مسلمانوں کے لیے وہ کر دکھایا جو 67 سال میں تمام حکومتیں مل کر بھی نہیں کر سکیں۔

نجمہ ہپت اللہ ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کی نواسی ہیں۔

آپ نےشاید کہیں پڑھا ہو کہ مولانا آزاد نے تقسیم ہند کی بھی مخالفت کی تھی اور پھر مسلمانوں سے اس بات کی پرزور وکالت بھی کی تھی کہ وہ ہندوستان چھوڑ کر نہ جائیں کیونکہ انھیں خطرہ تھا کہ ’ایک ایسا وقت بھی آ سکتا ہے جب پاکستان کے علاقائی باشندے اپنی اپنی جداگانہ حیثیت کا دعویٰ لے کر اٹھ کھڑے ہوں گے۔‘

نجمہ ہپت اللہ نے اپنی زیادہ تر سیاسی زندگی کانگریس میں گزاری لیکن 2004 میں کانگریس کی اعلیٰ قیادت سے ناراض ہو کر بی جے پی میں شامل ہوگئی تھیں۔ اس وقت کسی کو یہ امید نہیں تھی کہ کانگریس اقتدار میں لوٹنے والی ہے۔

دس سال کے سیاسی ’بن باس‘ کے بعد جب انھیں وزارتی کونسل میں شامل کیا گیا تو انھوں نے حلف اٹھانے کے چند ہی گھنٹوں کے اندر ان لوگوں کے مسائل کا ازالہ کر دیا جنھوں نے ہندوستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا تھا اور جو اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ اقلیت میں ہونے کی وجہ سے ملک کی ترقی میں انھیں برابر کا حصہ نہیں ملا۔

نجمہ ہپت اللہ کا فارمولا بہت سادہ ہے: ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ نہ انھیں اقلیت کہا جاسکتا ہے اور نہ انھیں ریزرویشن کی ضرورت ہے، اقلیت تو پارسی ہیں، جنہیں بچانے کی ضرورت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نجمہ ہپت اللہ کے خیال میں مسلمانوں کے لیے ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں ریزرویشن درست نہیں

نجمہ بہت پڑھی لکھی خاتون ہیں، لہٰذا یہ بات انھوں نے سوچ سمجھ کر ہی کہی ہوگی۔ اگر مسلمان اقلیت نہیں ہیں تو ظاہر ہے کہ بحیثیت اقلیت وہ جو شکایتیں کرتے رہتے ہیں ان کا بھی کوئی جواز نہیں ہے۔ انھوں نے غیر روایتی سوچ کا مظاہرہ کیا ہے، انھیں اکثریت کی فلاح و بہبود کی ذمہ داری بھی سونپ دی جانی چاہیے۔

ظاہر ہے کہ کسی بھی نظام حکومت میں انصاف پسند حکمراں یہ کوشش کرتے ہیں کہ اقلیتوں کے ساتھ کوئی زیادتی نہ ہو، اسی لیے نجمہ ہپت اللہ نے کہا کہ ملک کے پارسیوں پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

خود پارسی مانتے ہیں کہ ملک میں ان کی تعداد اب تقریباً 45 ہزار سے زیادہ نہیں ہے، اور وہ تیزی سے کم ہو رہی ہے۔اسی لیے کانگریس کی حکومت نے ان کی افزائش نسل کے لیے ’جیو پارسی‘ کے نام سے مالی اعانت کی ایک سکیم شروع کی تھی۔

اس سلسلے میں تو حکومت شاید اور زیادہ کچھ نہ کرسکے لیکن اگر نجمہ ہپت اللہ انفرادی طور پر ہر پارسی سے ملنے کے بعد بھی ان کے باقی مسائل حل کرنا چاہیں گی تب بھی دو چار دن میں یہ کام نمٹ سکتا ہے۔ اس کے بعد باقی پانچ سال وہ کیا کریں گی؟

اور جہاں تک مسلمانوں کے لیے ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں ریزرویشن کا سوال ہے، نجمہ ہپت اللہ نے کہا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، اور انھوں نے خود اپنی مثال بھی دی کہ مجھے دیکھیے، میں اپنی صلاحیت کی وجہ سے یہاں تک پہنچی ہوں۔

بلا شبہ ان کی زندگی کا سفر غیر معمولی ہے اور ان کی یہ وضاحت بھی۔ ورنہ اس سے پہلے بہت سے لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ انھیں مسلمان ہونے کی وجہ سے ہی کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں